کتاب الغسل باب 1 حدیث 248
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمده ونصلی و نسلم على رسوله الكريم
٥ – كِتَابُ الْغُسْلِ
غسل کا بیان
اس کتاب میں غسل کے احکام بیان کیے گئے ہیں، غسل کا معنی ہے: تمام جسم پر پانی بہانا، غرارے کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا۔
امام بخاری نے طہارت صغریٰ کے احکام سے فارغ ہونے کے بعد طہارت کبری کا بیان شروع کیا۔
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ( وَإِن كُنتُمْ جُنبا فَاطَّهَّرُوا وَإِن كُنتُمْ مَّرْضَى اَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ اَحَدٌ مِنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَايْدِيكُمْ مِنْهُ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيْتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴾(المائده :٦). وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَانْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنَّبًا إِلَّا عَابِرِى سَبِيلِ حَتَّى تَغْتَسِلُوا وَإِنْ كُنتُمْ مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَايْدِيكُم إِنَّ اللهَ كَانَ عَفُوا غَفُورًا ) (النساء: ٤٣).
اور اللہ تعالی کا یہ ارشاد: ” اور اگر تم جنبی ہو تو اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرلو اور اگر تم بیمار ہو یا مسافر ہو یا تم میں سے کوئی قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو’ پس تم پانی کو نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرو، سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر اس پاک مٹی سے مسح کرو، اللہ تم پر تنگی کرنا نہیں چاہتا، لیکن وہ تم کو خوب پاک کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ تم پر اپنی نعمت کو پورا کردے شاید تم شکر ادا کروں“ (المائدہ:6) اور اللہ عز وجل کا قول ہے: ”اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ’ حتیٰ کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور نہ جنابت کی حالت میں، مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کرلو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کرو بے شک اللہ نہایت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے‘ (النساء : ۴۳)۔
امام بخاری نے” کتاب الغسل “ کو مذکور الصدر دو آیتوں سے شروع کیا ہے اور اس میں یہ بتایا ہے کہ جنبی پر غسل قرآن مجید کی نص صریح سے ثابت ہے ایک یہ آیت ہے : ” اگر تم جنبی ہو تو اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرلو’ (المائدہ:6) یعنی غسل کرلو اور دوسری یہ آیت ہے اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کر لو ( النساء: ۴۳) اس آیت میں صراحت بیان فرمایا کہ جنبی آدمی پر غسل کرنا فرض ہے۔
۱ – بَابُ الْوُضُوْءِ قَبْلَ الْغُسْلِ
غسل سے پہلے وضوء کرنا
اس باب میں یہ بتایا ہے کہ غسل کرنے سے پہلے وضوء کرنا سنت ہے جیسا کہ اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
٢٤٨- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، بَدَا فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّاَ كَمَا يَتَوَضَّا لِلصَّلوةِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِلْ بِهَا أَصُولَ شَعْرِهِ ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَاسہ ثلَاثَ غُرَفٍ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ يُفِيْضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِہ كله. [اطراف الحديث : ۲۶۲-۲۷۲]
(صحیح مسلم : 316، الرقم المسلسل : ۷۰۳ ‘ سنن نسائی: ۲۴۷ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص 64 – 63 صحیح ابن حبان:1196، سنن بیہقی ج اص ۱۷۵ معرفته السنن والآثار : ۱۴۲۵ شرح السنة : ۲۴۶ ‘ مصنف عبد الرزاق : 997، مسند الحمیدی: ۱۶۳ مسند احمد ج ۶ ص ۵۲ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۲۵۷- ج ۴۰ ص ۳۰۱ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں امام مالک نے خبر دی از ہشام از والد خود از حضرت عائشہ رضی الله عنہا زوجه نبي صلی اللہ علیہ وسلم کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے ہاتھوں کو دھوتے، پھر اس طرح وضوء کرتے، جس طرح نماز کا وضوء کرتے تھے پھر اپنی انگلیاں پانی میں داخل کرکے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے ہاتھوں سے تین چلو پانی لے کر سر پر بہاتے، پھر اپنے تمام جسم پر پانی بہاتے ۔
غسل سے پہلے وضوء کا سنت ہونا اور پیروں کو ابتداء میں دھونے اور غسل کے بعد دھونے ۔۔۔۔ کی احادیث میں تطبیق
اس حدیث کے شروع میں ” کان ” ہے جو دوام اور لزوم پر دلالت کرتا ہے یعنی آپ ہمیشہ جب غسل جنابت کرتے تو پہلے وضوء کرتے تھے، الا یہ کہ اگر جسم کے کسی حصہ پر ایسی چیز لگی ہو جس کا دھونا واجب ہو تو پہلے اس کو دھوتے تھے، پھر اس کے بعد وضوء کرتے تھے اور یہ کہ غسل سے پہلے وضوء کرنا سنت ہے ۔ غسل سے پہلے وضوء کرنے میں نکتہ یہ ہے کہ طہارت صغریٰ اور طہارت کبری دونوں جمع ہوجائیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آپ اس طرح وضوء کرتے تھے جس طرح نماز سے پہلے وضوء کرتے تھے اس کا معنی یہ ہے کہ آپ پیر بھی دھوتے تھے اور بعض اوقات آپ پیر غسل کے بعد دھوتے تھے، جیسا کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے ان احادیث میں تطبیق اس طرح دی گئی ہے کہ اگر غسل کرنے کی جگہ صاف ہو اور غسل کا پانی گزرنے کے لیے نالی ہو یا پانی وافر مقدار میں ہو تو آپ وضوء کے ساتھ پیروں کو دھولیتے تھے اور اگر غسل کی جگہ صاف نہ ہو یا غسل کا پانی نکلنے کے لیے کوئی نالی نہ ہو یا پانی کی مقدار کم ہو تو آپ پیروں کا دھونا مؤخر کردیتے اور غسل کے بعد پیروں کو دھوتے تھے ۔
اس حدیث میں مذکور ہے: آپ بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے تھے، ہمارے نزدیک یہ سنت ہے اور امام شافعی کے نزدیک واجب ہے۔
اس حدیث میں تمام جسم پر پانی بہانے کا ذکر ہے، ملنے کا ذکر نہیں ہے ہمارے اور باقی ائمہ ثلاثہ کے نزدیک جسم کو ملنا مستحب ہے علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ یہ لازم ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے۔
اس حدیث میں تین چلو پانی جسم پر بہانے کا ذکر ہے اور یہ بالا تفاق مستحب ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۸۶ فتح الباری ج ۱ص ۷۸۲ )
[…] علیہ وسلم نے غسل کے بعد پیروں کو دھویا، اس کی وجوہ ہم حدیث : ۲۴۸ کی شرح میں بیان کرچکے ہیں، اس میں ایک نکتہ یہ ہے کہ غسل […]
[…] حدیث کی شرح کے لیے صحیح البخاری : ۲۴۸ کا مطالعہ […]
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۲۴۸ میں گزر چکی ہے وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: غسل سے پہلے […]