٢٤٩- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كريب ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةٌ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ تَوَضَّاَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَهُ لِلصَّلوةِ ، غَيْرَ رِجْلَيْهِ ،وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ مِنَ الْأَذَى ، ثُمَّ اَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، ثُمَّ نَحْى رِجْلَيْهِ ، فَغَسَلَهُمَا هَذه غُسْلُهُ مِن الجنابة. (اطراف الحديث : ۲۵۷-۲۵۹-۲۶۰- ۲۶۵ ۲۶۶۔ 281 -۲۷۶-۲۷۴

(صحیح مسلم: 317،  الرقم المسلسل : ۷۰۷ سنن ابوداؤد: ۲۴۵ سنن ترمذی: ۱۰۳ سنن نسائی: ۲۵۳ سنن ابن ماجه : ۴۶۷، صحیح ابن خزیمہ:241،  مصنف عبد الرزاق: 998، مسند الحمیدی: 316،  صحیح ابن حبان : ۱۱۹۰ المعجم الکبیر : ۱۰۲۳- ج ۲۳، سنن دار قطنی ج ا ص ۱۱۴ سنن بیہقی ج ۱ ص ۱۷۳‘ معرفۃ السنن والآثار : ۱۴۳۰ شرح السنتہ: ۲۴۸ مسند احمد ج ۶ ص ۳۳۰ طبع قدیم،  مسند احمد ج ۴۴ ص ۳۸۲ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از اعمش از سالم بن ابي الجعد از کریب از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما از حضرت میمونہ رضی الله عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح وضوء کیا، جس طرح نماز کے لیے وضوء کرتے ہیں، ماسوا اپنے پیروں کے اور اپنی شرم گاہ کو دھویا اور اس پر جو نجاست تھی، اس کو دھویا پھر اپنے اوپر پانی بہایا، پھر اپنے پیروں کو ایک طرف رکھ کر انہیں دھویا یہ آپ کا غسل جنابت تھا۔

اس حدیث کے سات رجال ہیں ان سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

غسل کے بعد پیروں کو دھونے کی تصریح، منی اور جماع کے بعد نکلنے والی رطوبت فرج کی نجاست پر دلیل

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کے بعد پیروں کو دھویا، اس کی وجوہ ہم حدیث : ۲۴۸ کی شرح میں بیان کرچکے ہیں، اس میں ایک نکتہ یہ ہے کہ غسل کی ابتداء بھی وضوء سے ہو اور غسل کی انتہاء بھی وضوء پر ہو۔

اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے اپنی شرم گاہ کو دھویا اور اس پر جو نجاست تھی، اس کو دھویا اور اس میں اس پر واضح دلیل ہے کہ منی نجس ہے اور جماع کے بعد جو رطوبت فرج نکلے، وہ بھی نجس ہے اور نجاست پر دلیل آپ کا ان کو دھونا ہے ۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے: جس نے اس سے منی اور رطوبت فرج کی نجاست پر استدلال کیا، اس نے بعید استدلال کیا ۔ (فتح الباری ج ا ص ۷۸۳)

علامہ عینی نے حافظ ابن حجر کا رد کرتے ہوئے لکھا: یہ استدلال تو بالکل ظاہر ہے ان کا اس پر اعتراض بعید ہے۔

(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۸۸)