کتاب الغسل باب 7 حدیث 259
– بَابُ الْمَضْمَضَةِ وَالْإِسْتِنْشَاقِ فِي الْجَنَابَةِ
(غسل) جنابت میں غرارے کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا
غسل جنابت میں غرارے اور ناک میں پانی چڑھانے کی فرضیت کی تحقیق
علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
علماء کا اس پر اجماع ہے کہ غسل جنابت میں وضوء کرنا فرض نہیں ہے اور جب غسل جنابت سے وضوء کی فرضیت ساقط ہوگئی تو کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی فرضیت بھی ساقط ہوگئی اور اس باب کی حدیث میں جو کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر ہے تو وہ حصول فضیلت کا ذکر ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص 386، دارالکتب العلمیہ بیروت 1424ھ )
حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ نے علامہ ابن بطال کی اس عبارت کو نقل کر کے یہ لکھا ہے کہ غسل جنابت میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا واجب نہیں ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل جنابت میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا حصول فضیلت کے لیے ہے سو یہ مستحب ہے واجب نہیں ہے۔ (فتح الباری ج ۱ ص ۷۹۱ دار المعرفہ بیروت 1426ھ )
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی 855ھ ان دونوں کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
غسل جنابت میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا واجب ہے اور وجوب کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ غسل جنابت میں کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور کبھی اس کو ترک نہیں کیا اور کسی حدیث میں اس کو ترک کرنے کا ذکر نہیں ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص 306، دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن الھمام متوفی ۸۶۱ ھ لکھتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کے لیے تین مرتبہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض قرار دیا۔( سنن دار قطنی ج ا ص ۱۱۵) لیکن اس پر اجماع ہے کہ اس سے دو مرتبہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا خارج ہے اور اس حدیث کی سند ضعیف ہے ( تو ایک ایک مرتبہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض ہے)۔ (فتح القدیر ج ا ص ۶۲ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1415ھ)
چونکہ غسل جنابت میں مبالغہ سے طہارت کی جاتی ہے اس لیے کلی کی جگہ غرارے کیے جاتے ہیں ۔ علامہ ابن عابدین شامی متوفی ۱۲۵۲ ھ لکھتے ہیں : پورے منہ کے اندر کو دھونا فرض ہے اگر غسل کرنے والے نے وہ پانی پی لیا تو بھی کافی ہے اور ناک کے اندر سوکھے ہوئے میل کے نیچے بھی پانی پہنچانا فرض ہے۔ (ردالمختار ج ا ص ۲۵۵ دار احیاء التراث العربی بیروت، ۱۴۱۵ھ )
٢٥٩ – حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا أبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ كرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس قَالَ حَدَّثَنَا مَيْمُونَةٌ قَالَتْ صَببتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَافَرَعَ بِيَمِينِهِ عَلَى يَسَارِهِ فَغَسَلَهُمَا ، ثُمَّ غَسَلَ فَرَجَهُ ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَهَا بِالتُّرَابِ ، ثُمَّ غَسَلَهَا ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، وَأَفَاضَ عَلی رَأْسِهِ، ثُمَّ تَنحى ، فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ، ثُمَّ أَتِيَ بِمِندِيلٍ ، فَلَمْ ينفضُ بِهَا ۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عمر بن حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں: ہمیں الاعمش نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھے سالم نے حدیث بیان کی از کریب از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما وہ کہتے ہیں: ہمیں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے (برتن میں) پانی ڈالا تو آپ نے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا، پھر دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر اپنی شرم گاہ کو دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر رکھ کر مٹی کے ساتھ ملا، پھر اس ہاتھ کو دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرے کو دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا پھر ایک طرف گئے اور اپنے دونوں پیروں کو دھویا پھر تولیا لایا گیا آپ نے اس سے بدن نہیں پونچھا۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: ۲۴۹ میں ملاحظہ کریں۔
تولیے سے بدن کو پونچھنا
اس حدیث میں مذکور ہے کہ پھر تولیا لایا گیا’ آپ نے اس سے بدن نہیں پونچھا۔
علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ۶۲۰ ھ لکھتے ہیں:
وضو اور غسل کے بعد اعضاء کو پونچھنے میں کوئی حرج نہیں ہے امام احمد سے اسی طرح منقول ہے، حضرت عثمان حضرت الحسن بن علی، حضرت انس رضی اللہ عنہم یہ نہیں اور بہت سے اہل علم کا یہی موقف ہے اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا ہے، کیونکہ حضرت میمونہ روایت کرتی ہیں کہ تولیا لایا گیا اور آپ نے اس سے بدن نہیں پونچھا۔ ( صحیح بخاری: ۲۵۹) اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ اصل اشیاء میں اباحت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تولیے کو ترک کرنا کراہت پر دلالت نہیں کرتا، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کپڑا تھا، جس سے آپ وضوء کے (اعضاء کو پونچھا کرتے تھے ۔ (سنن ابن ماجہ (۴۶۶)
(المغنی ج ۱ص ۱۸۲- ۱۸۱ دار الحدیث’ قاہرہ ۱۴۲۵ھ )
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی لکھتے ہیں:
علامہ نووی شافعی نے کہا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ بدن پونچھنے کو ترک کردیا جائے اور ایک قول یہ ہے کہ گرمیوں میں بدن پونچھنا مکروہ ہے اور سردیوں میں مباح ہے۔
المہلب نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے بدن پونچھنے کو اس لیے ترک کیا ہوتا کہ پانی کی تری باقی رہے، یا تواضع کے لیے یا ہوسکتا ہے کہ وہ کپڑا ریشم کا ہو یا میلا ہو، اس لیے آپ نے اس کو ترک کردیا۔ الاعمش کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم النخعی سے اس مسئلہ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: تولیے میں کوئی حرج نہیں ہے، آپ نے اس کو اس لیے واپس کردیا تھا کہ عادت نہ بن جائے۔
التمیمی نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ آپ تولیے سے بدن پونچھتے تھے، اگر ایسا نہ ہوتا تو غسل کے بعد آپ کے پاس تولیا نہ لایا جاتا۔
ابن دقیق العید نے کہا: آپ کا اپنے ہاتھوں سے پانی کو جھاڑنا، اس پر دلیل ہے کہ بدن پونچھنے میں کوئی کراہت نہیں ہے کیونکہ دونوں کا مقصود پانی کو زائل کرنا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۸۹)
تولیے سے بدن کو پوچھنے میں حسب ذیل احادیث اور آثار ہیں:
حضرت ام ھانی کی حدیث میں ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنے آپ کو ایک کپڑے میں لپیٹ لیا۔
(صحیح البخاری: 357، صحیح مسلم : 336، سنن ابن ماجہ : ۴۶۵ سنن نسائی: ۲۲۵)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اون کا جبہ تھا، آپ نے وضوء کے بعد اس سے چہرہ پونچھا۔ (سنن ابن ماجہ: ۴۶۸)
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے، ہم نے آپ کے لیے پانی رکھا، آپ نے غسل کیا پھر ہم آپ کے پاس زرد رنگ کی چادر لائے، آپ نے اس چادر سے اپنے آپ کو لپیٹ لیا’ پس گویا کہ میں آپ کے اوپر زرد رنگ کا اثر دیکھ رہا تھا ۔ (سنن ابن ماجه: ۴۶۶ سنن ابوداؤد : ۵۱۸۵، السنن الکبری: ۱۰۱۵۷ المعجم الكبير: ۹۰۲ – ج ۱۸، شعب الایمان : 8088، مسند احمد ج ۳ ص ۴۲۲ مسند احمد ج ۲۴ ص ۲۲۲
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تولیا تھا، جس سے وضوء کے بعد آپ پونچھتے تھے۔(سنن ترمذی : ۵۳)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضوء کرتے تو کپڑے کی ایک طرف سے اپنا چہرہ پونچھتے تھے۔ (سنن ترمندی: ۵۴)
عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ غسل کرنے کے بعد ایک کپڑے سے بدن پونچھتے ۔(مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۵۷۶ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ھ )
زریق بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بنی اللہ عنہ وضوء کرنے کے بعد اپنے چہرے اور اپنے ہاتھوں کو پونچھتے ۔(مصنف ابن ابی شیبه : ۱۵۸۳)
الحکم بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے چہرے کو اپنے کپڑے سے پونچھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۱۵۸۷)
محمد بن منتشر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مسروق کے پاس ایک تولیا تھا، جس سے وہ پونچھتے تھے۔( مصنف ابن ابی شیبه : ۱۵۷۸)
یونس بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری اور محمد بن سیرین وضوء کے بعد تولیے سے پونچھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔( مصنف ابن ابی شیبہ 1579)
وضوء اور غسل کے قطرات کا نجس نہ ہونا
اس حدیث میں ذکر ہے: پھر تولیا لایا گیا آپ نے اس سے بدن نہیں پونچھا، حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ وضو اور غسل کے بعد جو پانی کے قطرات گرتے ہیں وہ پاک ہیں، اس کے برخلاف غالی حنفی کہتے ہیں کہ وہ قطرات نجس ہیں۔ (فتح الباری ج ا ص ۷۸۴ دار المعرفہ بیروت 1426ھ )
حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :
یہ قائل خود غالی ہے اور اس کو مذہب حنفیہ کی حقیقت کا علم نہیں ہے کیونکہ فقہاء احناف کا مذہب اور ان کا فتویٰ یہ ہے کہ وضوء اور غسل کا مستعمل پانی پاک ہے حتی کہ اس کو پینا جائز ہے اور اس سے سالن پکانا اور آٹا گوندھنا جائز ہے اور جنہوں نے کہا ہے کہ مستعمل پانی نجس ہے انہوں نے یہ نہیں کہا کہ قطرے گرنے کی حالت میں وہ نجس ہے انہوں نے یہ کہا ہے کہ جب مثلاً وضوء کرنے والے کے عضوء سے پانی بہ کر کسی جگہ جمع ہوجائے تو وہ نجس ہے، لیکن اس قول پر فتویٰ نہیں ہے فتویٰ اس قول پر ہے کہ وہ پانی طاہر ہے لیکن مطہر نہیں ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۹۰ – ۲۸۹ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ)
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: ۲۵۹ میں مطالعہ کریں، وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: غسل جنابت […]