کتاب الغسل باب 8 حدیث 260
– بَابُ مَسْحِ الْيَدِ بِالتَّرَابِ ليَكُونَ (لِتَكُوْنَ) أَنْقَى
ہاتھ کومٹی کے ساتھ ملنا تاکہ وہ صاف ہوجائے
٢٦٠ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بنِ ابی الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ عَنْ مَيْمُونَةٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ ذلک بِهَا الْحَائِط ، ثُمَّ غَسَلَهَا ثُمَّ تَوَضَّا وُضُوءَهُ لِلصَّلوةِ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسلِه غَسَلَ رجليه.
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن زبیر الحمیدی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں الاعمش نے حدیث بیان کی از سالم بن ابی الجعد از کریب از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما از حضرت میمونه رضی اللہ عنہا که نبي صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کیا، پھر آپ نے اپنی شرم گاہ کو اپنے ہاتھ سے دھویا پھر اپنے ہاتھ کو دیوار پر ملا پھر اس ہاتھ کو دھویا پھر نماز کا وضوء کیا، پھر جب غسل سے فارغ ہوگئے تو اپنے پیروں کو دھویا۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح کے لیے صحیح البخاری : ۲۵۷ کا مطالعہ کریں، وہاں اس حدیث سے یہ مسئلہ بتایا تھا کہ سر پر ایک بار پانی ڈالنا جائز ہے اور یہاں یہ بتایا ہے کہ ہاتھ کو صاف کرنے کے لیے دیوار پر ملنا جائز ہے وہاں پر زمین پر ملنے کا ذکر تھا اور یہاں دیوار پر ملنے کا ذکر ہے۔