١٤ – بَابُ مَنْ تَطَيَّبَ ثُمَّ اغْتَسَلَ وَبَقِيَ أَثَرُ الطَّيِّبِ

جس نے خوشبو لگائی، پھر غسل کیا اور خوشبو کا اثر باقی رہا

لوگ جماع کے وقت جسم پر خوشبو لگاتے تھے تاکہ زیادہ نشاط حاصل ہو’ باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ مذی نکلنے سے پہلے بھی انسان کو عورت کے ساتھ بوس و کنار سے نشاط اور لذت حاصل ہوتی ہے اور جماع کے وقت جسم پر خوشبو لگانے سے بھی نشاط اور لذت حاصل ہوتی ہے۔

۲۷۰ – حَدَّثَنَا أَبُوالنُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُوعَوَانَةَ ،عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَالَتْ عَائِشَةَ ، فَذَكَرْتُ لَهَا قَوْلَ ابْن عُمَرَ مَا أُحِبُّ أنْ أَصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَحُ طِيْبًا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ انا طيبتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ طاف فِي نِسَائِهِ ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابو النعمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوعوانہ نے حدیث بیان کی از ابراہیم بن محمد بن المنتشر از والد خود انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول ذکر کیا:مجھے یہ پسند نہیں کہ میں صبح کو حالت احرام میں اٹھوں اور میرے جسم سے خوشبو آرہی ہو ۔ حضرت عائشہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی تمام ازواج کے پاس جاتے پھر صبح کو حالت احرام میں ہوتے۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۲۶۷ میں گزر چکی ہے وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: جس نے جماع کیا، پھر دوبارہ جماع کیا اور ایک غسل کے ساتھ اپنی تمام ازواج کے پاس گیا اور یہاں اس کا عنوان ہے: جس نے خوشبو لگائی، پھر غسل کیا اور خوشبو کا اثر باقی رہا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا مسائل میں اختلاف ہوتا تھا، لیکن وہ مسائل میں اختلاف کے باوجود باہمی ادب و احترام کو قائم رکھتے تھے آج کل کی طرح نہیں کہ کہ کسی سے کسی مسئلہ میں اختلاف ہوا تو ذاتیات پر اتر آتے ہیں اور اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کسی طرح اس کے خلاف کوئی سخت فتوی لگادیں اور اس کی تحقیر اور تذلیل کے درپے رہتے ہیں ۔