امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ
sulemansubhani نے Monday، 29 December 2025 کو شائع کیا.
امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ
تیسری صدی کے جن محدثین اور علماء راسخین نے علم حدیث کی تنقیح اور توضیح کے لیے متعدد فنون ایجاد کیے اور اس علم کی توسیع اور اشاعت میں گراں قدر خدمات انجام دیں ان میں امام مسلم بن حجاج القشیری کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔
امام مسلم فن حدیث کے اکابر ائمہ میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ابو زرعہ رازی اور ابوحاتم رازی نے ان کی امامت حدیث پر شہادت دی ۔ امام ترمذی اور ابوبکر خزیمہ جیسے مشاہیر نے ان سے روایت حدیث کو باعث شرف سمجھا اور ابو قریش نے کہا کہ دنیا میں صرف چار حفاظ ہیں اور امام سلم ان میں سے ایک ہیں۔
ولادت اور سلسلہ نسب
عساكر الملت والدين ابو ألحسین امام مسلم بن الحجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد خراسان کے ایک وسیع اور خوبصورت شہر نیشا پور میں جو بنو قشیر کے خاندان میں پیدا ہوئے ، امام مسلم کی ولادت کا سال مورخین کا اختلاف ہے ، شاہ عبد العزیز نے ان کا سال ولادت ۲۰۲ ھ لکھا ہے، امام ذہبی نے ۲۰۴ھ بیان کیا ہے اور ابن اثیر نے ۲۰۶ ھ کو اختیار کیا ہے۔
تحصیل علم حدیث
ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے اشعار سال کی عمر میں امام مسلم نے علم حدیث کی تعلیم شروع کی، فن حدیث کو انھوں نے انتہائی لگن اور محنت سے حاصل کیا ۔ اور بہت جلد نیشا پور کے عظیم محد ثین میں ان کا شمار ہونے لگا .
شخصیت
امام مسلم سرخ و سفید رنگ بلند قامت اور وجیہہ شخصیت کے مالک تھے ، سر پر عمامہ باندھتے اور شملہ کندھوں کے درمیان لٹکایا کرتے تھے۔ انھوں نے علم کو ذریعہ معاش نہیں بنایا۔ کپڑوں کی تجارت کرکے اپنی نجی ضروریات پوری کیا کرتے تھے( حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ تہذیب التہذیب ج . ا ص ۱۲۷ ج ۱۰ ص ۱۲۷ مطبوعہ دائرة المعارف حیدر آباد دکن (۱۳۴۶ ھ) شاہ عبد العزیز لکھتے ہیں کہ امام مسلم کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ انھوں عمربھر نہ کسی کی غیبت کی نہ کسی کو مارا اور نہ کسی کے ساتھ درشت کلامی کی۔
اساتذہ اور مشائخ
علم حدیث کی طلب میں امام مسلم نے متعدد شہروں کا سفر اختیار کیا۔ نیشا پور کے اساتذہ سے اکتساب فیض کے بعد وہ حجاز ، شام، عراق او مصر گئے اوران گنت بار بغداد کا سفر کیا انہوں نے ان تمام شہروں کے مشاہیر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذتہ کیا، حافظ ابن حجرعسقلانی اور دیگر مورخین نے ان کے اساتدہ میں یحیی بن یحی، محمد بن یحیی ذہلی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ عبد الله بن مسلمہ، القعنبی، احمد بن یونس یربوعی، اسماعیل بن ابی اویس ، سعید بن منصور ، عون بن سلام ، داؤد بن عمود الضبی، ہیثم بن خارجہ ، شیبان ابن فروخ اور امام بخاری کا تذکرہ لکھا ہے ۔ امام عبد الله شمس الدین ذهبی المتوفی ۷۴۸ ھ تذكرة الحفاظ جلد ۲ ص ۵۵۸، مطبوعہ ادارة احياء التراث العربی بیروت
تلامذہ
امام مسلم سے بے حساب لوگوں نے سماع حدیث کیا ہے ان سے روایت کرنے والے تمام حضرات کا شمار تو مشکل ہے چند اسماء یہ ہیں:
ابو الفضل احمد بن سلمه،ابراہیم بن ابی طالب،ابوعمرو خناف، حسین بن محمد قبانی، ابو عمرو مستملی ، حافظ صالح بن محمد علی بن حسن ، محمد بن عبد الوهاب ،علی بن حسین بن جنید ، ابن خزیمہ، ابن صاعد، سراج، محمد بن عبد بن حمید، ابوحامد ابن الشرقي علی بن اسماعيل الصنعار، ابو محمد ابی حاتم رازی، ابراهيم بن محمد بن سفيان، محمد بن مخلد دوری ، ابراهیم بن محمد بن حمزه ، ابو عوانته اسفرائنی، محمد بن اسحاق فاكهى، ابوحامد اعمشى، ابوحامد بن حسنويہ اور امام ترمذی ۔ (حافظ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی المتوفی ۸۵۲ھ ، تہذیب التہذیب جلد ۱۰ ص ۱۲۶ ، مطبوعہ دائرة المعارف حیدر آباد دکن ، ۱۳۴۶ھ)
امام ترمذی نے اپنی جامع صحیح میں امام مسلم سے صرف ایک روایت ذکر کی ہے اور وہ یہ ہے۔ عن یحیی بن یحیی عن ابی معاویہ عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة ، احصوا ہلال الشعبان برمضان –
کلمات الثنا
امام سلم کی خدمات اور ان کے کمالات کو ان کے اساتذہ اور معاصرین نے بے حد سراہا ہے ۔ ابو عمرو مستملی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہمیں اسحاق بن منصور احادیث لکھوا رہے تھے اور اور امام مسلم ان احادیث میں سے انتخاب کر رہے تھے۔ اچانک اسحاق بن منصور نے نگاہ اُوپر اٹھائی اور کہا ہم اس وقت تک کبھی خیر سے محروم نہیں ہم سے ہوں گے جب تک ک ہمارے درمیان مسلم بن حجاج موجود ہیں۔ ان کے ایک اور استاذ محمد بن عبدالوہاب فراد نے کہا کہ مسلم علم کا خزانہ ہے اور میں نے ان میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں پایا۔ ابن احرم نے کہا نیشا پور نے تین محدث پیدا کیے۔ محمد بن یحی، ابراہیم بن ابی طالب اور مسلم۔ ابن عقدہ نے کہا امام مسلم بالمشافہ سماع کے بغیر روایت نہیں کرتے تھے۔ ابوبکر جارودی نے کہا کہ مسلم علم کے محافظ تھے۔ مسلم بن قاسم نے کہا کہ وہ جلیل القدر امام تھے ۔ بندار نے کہا دنیا میں صرف چار حفاظ ہیں، ابو زرعہ ،محمد بن اسماعیل، دارمی اور مسلم بن حجاج
(حافظ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی المتوفی ۸۵۲ھ ، تہذیب التہذیب جلد ۱۰ ص ۱۲۸ ، مطبوعہ دائرة المعارف حیدر آباد دکن ، ۱۳۴۶ھ)-
علمی شکوہ
امام مسلم فن حدیث مں عظیم صلاحیتوں ک مالک تھے۔ حدیث صحیح اور سقیم کی پہچان میں وہ اپنے زمانہ کے اکثر محدثین پر فوقیت رکھتے تھے۔ حتی کہ بعض امور میں ان کوامام بخاری پر بھی فضیلت حاصل تھی کیونکہ امام بخاری نے اہل شام کی اکثر روایات ان کی کتابوں سے بطریق مناولہ حاصل کی ہیں۔ خود ان کے مؤلفین سے سماع نہیں کیا۔ اس لیے ان کے راویوں میں امام بخاری سے بسا اوقات غلطی واقع ہو جاتی ہے کیونکہ ایک ہی راوی کا کبھی نام ذکر کیا جاتا ہے اورکبھی کنیت ایسی صورت میں بعض دفعہ امام بخاری ان کو دو راوی خیال کر لیتے ہیں۔ اور امام مسلم نے چونکہ اہل شام سے سے براہ راست سماع کیا ہے اس لیے وہ اسی قسم کا مْغالطہ نہیں کھاتے۔ (شاہ عبد العزیز محدث دہلوی متوفی ۱۲۲۹ھ ، بستان المحدثین ص ۲۸۰، مطبوعہ سعید ایڈ کمپنی کراچی)
امام بخاری سے تعلق خاطر
جس طرح امام بخاری ایمان کے مرکب ہونے کے مسئلہ میں متشدد تھے اور اس شخص سے روایت نہیں لیتے تھے جو بسااوقات ایمان کا قائل ہو ، اسی طرح امام محمد بن یحیی ذہلی قدم قرآن کے مسئلہ میں متشدد تھے اور اس شخص سے سخت بیزار تھے جو الفاظ قرآن کو مخلوق مانتا ہو ۔ جب امام بخاری اور امام محمد بن یحیی کا اس مسئلہ میں اختلاف ہوا تو ان میں اور امام بخاری میں سخت منافرت پیدا ہوگئی حتی کہ ایک دن محمد بن یحیی ذہلی نے اپنی مجلس میں اعلان کردیا کہ جو شخص الفاظ قرآن کے مخلوق ہونے کا قائل ہو وہ ہماری مجلس سے چلا جائے ۔ یہ سن کر امام مسلم نے اپنا عمامہ سنبھالا اور امام ذہلی کی مجلس سے اٹھ کر چلے گئے اور امام ذہلی سے انھوں نے جس قدر احادیث ضبط کی تھیں وہ سب انھیں واپس بھجوا دیں۔
تصانیف
امام مسلم کی عمر کا حصہ روایت حدیث کے حصول کے لیے مختلف شہروں میں سفر کرتے ہوئے گذرا ہے. اس کے ساتھ ساتھ وہ درس و تدریس میں بھی بے حد مشغول رہے۔ اس کے باوجود ان سے مندرجہ ذیل تصانیف یادگار ہیں ۔
– الجامع الصحيح – ٢ – المسند الكبير – ٣ – كتاب الاسماء والكنی – كتاب الجامع على الباب – ۵- کتاب العلل ۶- كتاب الوحدان -۷ – كتاب الافراد – ۸- کتاب سوالات احمد بن حنبل – ۹- کتاب حدیث عمرو بن شعیب -۱۰ کتاب الانتفاع باہب السباع ۱۱- کتاب مشائخ مالک – ۱۲ – کتاب مشائخ ثوری – ۱۳- کتاب مشائخ شعبه – ۱۴- کتاب من ليس له الا را واحد ۱۵ کتاب المخضرمین ۱۶- کتاب اولاد الصحابة ۱۷- کتاب اوہام المحدثین -١٨كتاب الطبقات – ۱۹ کتاب افراد الشامیین ۲۰ مسند امام مالک – ۲۱ مسند الصحابة –
حافظ ابن عسقلانی لکھتے ہیں کہ امام مسلم نے مسند الصحابہ بہت تفصیل سے لکھنی شروع کی تھی مگر وہ مکمل نہ ہوسکی اور امام مسلم وفات پاگئے اور اگر وہ اس کو پورا کر لیتے تو وہ ایک ضخیم تصنیف ہوتی ۔
وصال
امام مسلم کے وصال کا سبب بھی نہایت عجیب و غریب بیان کیا گیا ہے ، حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ ایک دن مجلس مذاکرہ میں امام مسلم سے ایک حدیث کے بارے میں استفسار کیا گیا اس وقت آپ اس حدیث کے بارے میں کچھ نہ بتاسکے گھر آکراپنی کتابوں میں اس حدیث کی تلاش شروع کردی۔ قریب ہی کھجوروں کا ایک ٹوکرا بھی رکھا ہوا تھا امام مسلم کے استغراق اور انہماک کا یہ عالم تھا کہ کھجوروں کی مقدار کی طرف آپ کی توجہ نہ ہو سکی اور حدیث ملنے تک کھجوروں کا سارا ٹوکرا خالی ہوگیا اور غیر ارادی طور پر کھجوروں کا زیادہ کھا لینا ہی ان کی موت کا سبب بن گیا۔ اور اس طرح ۲۴ رجب ۲۶۱ھ اتوار کے دن شام کے وقت علم حدیث کا یہ درخشندہ آفتاب غروب ہوگیا اور اگلے روزے پیر کے دن خراسان کے اس عظیم محدث کو سپرد خاک کر دیا گیا ۔
حسن عاقبت
امام مسلم سادہ دل درویش تھے اورعلم و عمل کی بہترین خوبیوں کے جامع تھے۔ اللہ تعالی نے انھیں ان کی خدمات کا بہترین صلہ عطا فرمایا۔ ابو حاتم رازی بیان کرتے ہیں میں نے امام مسلم کو خواب میں دیکھا اور ان کا حال دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا : اللہ تعالی نے اپنی جنت کو میرے لیے مباح کر دیا ہے، اور میں اس میں جہاں چاہتا ہوں رہتا ہوں ۔(شاہ عبد العزیز محدث دہلوی متوفی ۱۲۲۹ ھ بستان المحدثین ص ۲۸۱ ، مطبوعہ سعید اینڈ کمپنی کراچی)
ٹیگز:-
امام مسلم , شرح صحیح مسلم , امام مسلم بن حجاج قشیری , امام مسلم بن الحجاج , امام مسلمؒ , الصحیح مسلم , امام مسلم بن حجاج القشیری , Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح مسلم