کتاب الغسل باب 18 حدیث 276
۱۸ – بَابُ نَفْضِ الْيَدَيْنِ مِنَ الغُسْلِ عَنِ الْجَنَابَةِ
غسل جنابت کے بعد ہاتھوں کو جھاڑنا
اس باب میں غسل جنابت کے بعد ہاتھوں کو جھاڑنے کا حکم بیان کیا گیا ہے باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ یہ دونوں باب احکام غسل سے متعلق ہیں۔
٢٧٦- حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُوحَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَن كُرَيْبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ مَيْمُونَةٌ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَسَتَرْتُهُ بِثوْبِ ، وَصَبَّ عَلَی يَدَيْهِ فَعَسَلَهُمَا ، ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَی شِمَالِهِ فَعَسَل فَرْجَهُ ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَهَا ثُمَّ غَسَلَها فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ، وَافَاضَ عَلَى جَسَدِهِ ، ثُمَّ تنحی فَغسَلَ قَدَمَيْهِ فَناوَلتْهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأخُذَهُ ، فَانْطَلَقَ وَهُوَ يَنْفُضُ يَدَيْهِ.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابو حمزہ نے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے الاعمش سے سنا از سالم از کریب از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہوں نے کہا: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ پر ایک کپڑے سے ستر کیا اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی بہایا پھر ان کو دھویا پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا، پس اپنی شرم گاہ کو دھویا پھر اپنا ہاتھ زمین پر مارا پھر اس کو ملا، پھر اس کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے کو اور اپنی کلائیوں کو دھویا پھر اپنے سر پر پانی ڈالا اور اپنے پورے جسم پر پانی بہایا پھر ایک طرف گئے اور اپنے دونوں پیروں کو دھویا، میں نے آپ کو تولیا دیا، آپ نے اس کو نہیں لیا اور چلے گئے اور آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو جھاڑ رہے تھے۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۲۴۹ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا، غسل سے پہلے وضوء کرنا اور یہاں اس کا عنوان ہے، غسل جنابت کے بعد ہاتھوں کو جھاڑنا۔