کتاب الحیض باب ۔۔۔۔ حدیث نمبر 294
… – بَابُ الْأَمْرِ بِالنَّفَسَاءِ إِذَا نَفَسن
َ نفاس والی عورتوں کو جب نفاس آئے تو انہیں حکم دینا
٢٩٤- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْمَدِينِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسم قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ خَرَجْنَا لا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِف حضت فَدَخَلَ عَلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآنَا ابكي ، قَالَ مَا لَكِ انْفِسْتِ؟ . قُلْتُ نَعَمْ، قَالَ إِنَّ هذا أمر كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ ادَمَ ، فَاقْضِي مَا يَقْضِی الْحَاجِ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطْوَفِي بِالْبَيْتِ. قَالَتْ وَضَحَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ۔
اطراف الحدیث: ۳۰۵-۳۱۶۔ ۳۱۷_۳۱۹- ۳۲۸-۱۵۱۶۔ 1518-1556 – ۱۵۶۱-1562 – 1638 – 1650 – ۱۷۲۰-۱۷۰۹-۱۲۵۰ ۴۳۹۵-۱۷۸۷-۱۷۸۶-۱۷۷۲-۱۷۷۱ -۱۷۶۲ -۱۷۵۷-1709-1720-1733-1757،1762-1771-1772،1771،1772،1787 ،1787 ،4395، ۲۱۵۷-۵۵۴۸_۴۴۰۱
صحیح مسلم : 1211، الرقم المسلسل : ۲۸۷۰ سنن ابوداؤد: ۱۷۸۰-۱۷۷۹ سنن نسائی: 2715، سنن ابن ماجہ : 2965 سفن بیہقی ج ۵ ص 2، شرح السنتہ: ۱۸۷۴ مسند الحمیدی: ۲۰۵ مسند احمد ج ۶ ص ۲۳۷ طبع قدیم مسند احمد : ۲۴۰۷۶ – ج ۴۰ ص ۸۷ مؤسسة الرسالة بیروت
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبداللہ المدینی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے عبد الرحمان بن القاسم سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے قاسم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ہم گھر سے نکلے اور ہم صرف حج کا ارادہ کر رہے تھے جب ہم مقام سرف پر پہنچے تو مجھے حیض آگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اس وقت میں رورہی تھی، آپ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ کیا تمہیں حیض آگیا! میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: یہ وہ چیز ہے جس کو اللہ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دیا ہے پس تم وہ افعال کرو جو حج کرنے والے کرتے ہیں سوا اس کے کہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
عنوان باب کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: بے شک یہ وہ چیز ہے، جس کو اللہ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دیا ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) علی بن عبد اللہ المدینی ابن الاثیر نے کہا: یہ مدینہ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں اور یہ خلاف قیاس ہے، قیاس مدنی ہے الجوہری نے کہا : مدینہ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہوئے مدنی کہا جائے گا اور مدینہ المنصور کی طرف نسبت کرتے ہوئے مدینی کہا جائے گا
(۲) سفیان بن عیینہ
(۳) عبد الرحمان بن القاسم
(۴) قاسم بن محمد بن ابی ابکر الصدیق رضی اللہ عنہ
(۵) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا
(عمدة القاری ج ۳ ص ۳۸۰)
حائض، نفساء اور جنبی کے طواف کے احکام
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب احرام باندھنے کے بعد عورت کو حیض آجائے تو اس کو چاہیے کہ وہ تمام افعال حج ادا کرے لیکن وہ بیت اللہ کا طواف نہ کرے اور اگر اس نے حالت حیض میں بیت اللہ کا طواف کرلیا تو حیض سے پاک ہونے کے بعد اس کو ایک اونٹ کی قربانی دینی ہو گی، اس طرح نفاس والی عورت یا جنبی نے نفاس اور جنابت سے پاک ہونے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرلیا تو ان کو اونٹ کی قربانی دینی ہوگی اور اگر کسی نے بغیر وضوء کے طواف قدوم کرلیا تو اس کا صدقہ دینا ہوگا امام شافعی کے نزدیک طواف کے لیے وضوء شرط نہیں ہے اس لیے ان کے نزدیک اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہے ہر نفلی طواف کا یہی حکم ہے اور اگر طواف زیارت بے وضوء کرلیا تو اسے ایک بکری کی قربانی دینی ہوگی اور اگر جنبی نے طواف زیارت کیا تو اس پر اونٹ کی قربانی ہے، اس طرح حائضہ اور نفساء کا حکم ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرد عورتوں کی طرف سے قربانی کر سکتا ہے ہاں ! اگر قربانی واجب ہو تو ان سے اجازت لینا ضروری ہے اور نفلی قربانی میں ان سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
امام مالک نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ گائے کی قربانی اونٹ سے افضل ہے، دیگر فقہاء بہ شمول امام شافعی نے یہ کہا ہے کہ اونٹ کی قربانی افضل ہے کیونکہ ساعت جمعہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی قربانی کو گائے کی قربانی پر مقدم فرمایا ہے۔
شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۸۱۴ – ج ۳ ص ۳۸۳ – 382 پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
افراد، تمتع اور قران کے معنی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں ائمہ کا اختلاف، آیا آپ کا حج افراد تھا تمتع تھا یا قران تھا؟
آپ کے حج کے بارے میں روایات کے اختلاف کی توجیہ (۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج قران ہونے پر دلائل اور افراد اور تمتع کی روایات کے جوابات
افراد تمتع اور قرآن میں مذاہب ائمہ
افضیلت قرآن پر احناف کے دلائل
بعض شارحین کا حج کی متعارض روایات کی تطبیق میں تسامح
(۸) ائمہ ثلاثہ کے دلائل کے جوابات
(9) قران میں طواف کے متعلق ائمہ کے مذاہب
(10) قران میں دو طوافوں پر احناف کا احادیث سے استدلال
ہدی روانہ کرنے والے متمتع کے حلال ہونے میں مذاہب ائمہ
(۴) شوافع اور مالکیہ کے دلائل شوافع اور مالکیہ کے دلائل کا جواب
حنابلہ کے دلائل
(0) احناف کے دلائل
(19) علم رسالت پر اعتراض کا جواب
حضرت عائشہ کی اپنے حج میں تمتع میں ہدی کی نفی کرنے کی توجیہ
) طواف کے لیے طہارت کی شرط میں مذاہب
(0) عورت کا بغیر محرم کے حج کرنا
مکہ میں عمرہ کرنے والے کے میقات میں مذاہب
حج کے احرام کو عمرہ کے ساتھ تبدیل کرنے میں مذاہب
آئمہ
امام احمد کی موافقت میں شیخ ابن تیمیہ کے دلائل اور ان کے جوابات
حضرت عمر کے تمتع سے منع کرنے کی تاویلات اور
توجیہات ۔
نوٹ : حدیث مذکور “صحیح مسلم کے باب : احرام کی اقسام میں درج ہے اس باب میں ۴۴ احادیث ہیں اور مذکور الصدر عنوانات کا تعلق صرف اس حدیث کی شرح کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ۴۴ احادیث کے ساتھ ہے۔
[…] حدیث : ٢٩٤ میں حضرت عائشہ کے حج کے احرام باندھنے کا ذکر ہے اور اس باپ کی حدیث میں ان کے عمرہ کے احرام باندھنے کا ذکر ہے، آیا یہ حدیث غلط ہے یا ان دونوں حدیثوں میں تطبیق ہے؟ […]