١٥ – بَابُ امْتِشَاطِ الْمَرْأَةِ عِنْدَ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ

حیض سے غسل کے وقت عورت کا کنگھی کرنا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حیض سے غسل کے وقت عورت اپنے بالوں میں کنگھی کرسکتی ہے دونوں بابوں میں مناسبت یہ ہے کہ یہ دونوں باب عورت کی زیادہ صفائی اور ستھرائی سے متعلق ہیں ۔

٣١٦- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ أَهْلَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَكُنْتُ مِمَّنْ تَمَتَّعَ وَلَمْ يَسْقِ الْهَدْيَ ، فَزَعَمَتُ أَنَّهَا حَاضَتْ ، وَلَمْ تَطهر حتى دَخَلَتْ لَيْلَةٌ عَرَفَةَ ، فَقَالَتْ يَارَسُولَ اللهِ هَذِهِ لَيْلَةُ عرَفَةَ ، وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَعْتُ بِعُمْرَةٍ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انقُضِى رَأسَك وَامْتَشِطى ، وَأمْتشطى عَنْ عُمْرَتِكِ فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ ، اَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ ،فَاعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيم ، مَكَانَ عُمْرَنِي الَّتِي نَسَكْتُ.

طرف الحدیث: 1556] ( صحیح مسلم : 1211 الرقم المسلسل : ۲۸۶۲ سنن ابوداؤد: ۱۷۸۱ سنن نسائی: ۲۷۶۴ صحیح ابن حبان : ۳۹۲۷ سنن بیہقی ج 4 ص 353، المعجم الاوسط : ۷۹۰۵، مسند احمد ج 6 ص ۱۶۴ طبع قدیم مسند احمد : 25307،  ج ۲۲ ص۱۸۶ مؤسسة الرسالة بیروت جامع المسانيد لابن الجوزی :۷۱۹۰ مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن شہاب نے حدیث بیان کی از عروہ از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا انہوں نے بیان کیا: میں نے حجتہ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھا، میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے حج تمتع کا احرام باندھا تھا اور ھدی روانہ نہیں کی تھی، پھر حضرت عائشہ نے بتایا کہ ان کو حیض آگیا اور وہ پاک نہیں ہوئیں،حتی کہ عرفہ کی شب آگئی، پس انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ عرفہ کی شب ہے اور میں نے عمرہ کے ساتھ تمتع کیا تھا؟ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے سر کے بال کھول دو اور کنگھی کرلو اور اپنے عمرہ کو موقوف کردو پس میں نے اس طرح کیا، پھر جب میں نے حج ادا کرلیا تو آپ نے حضرت عبدالرحمان کو لیلۃ الحصبة (جس دن ایام تشریق کے بعد لوگ منی سے واپسی میں وادی محصب میں ٹھہرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں ٹھہرے تھے ) میں حکم دیا کہ میں نے جس عمرہ کا احرام باندھا تھا، اس کی جگہ مجھے مقام تنعیم سے عمرہ کرائیں ۔

حدیث : ٢٩٤ میں حضرت عائشہ کے حج کے احرام باندھنے کا ذکر ہے اور اس باپ کی حدیث میں ان کے عمرہ کے احرام باندھنے کا ذکر ہے، آیا یہ حدیث غلط ہے یا ان دونوں حدیثوں میں تطبیق ہے؟

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت میں کافی اضطراب ہے، قاسم نے کہا ہے کہ حضرت عائشہ نے حج کا احرام باندھا تھا جیسا کہ گزرچکا ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا: ہم گھر سے نکلے اور ہم صرف حج کا ارادہ کرتے تھے، پھر جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آگیا۔ صحیح البخاری: ۲۹۴ اور عروہ کی اس روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور تمہید میں مذکور ہے کہ امام اوزاعی، امام شافعی، ابوثور اور ابن علیہ نے عروہ کی اس حدیث کو رد کردیا ہے اور کہا ہے کہ عروہ کی یہ حدیث غلط ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اصحاب میں سے کسی نے بھی عروہ کی متابعت نہیں کی، اسماعیل بن اسحاق نے کہا ہے کہ القاسم،  الاسود اور عمرہ کا اس پر اجماع ہے کہ ام المؤمنین نے حج کا احرام باندھا تھا، عمرہ کا احرام نہیں باندھا تھا اور عروہ کی یہ حدیث غلط ہے۔

دونوں حدیثوں میں تطبیق

حضرت عائشہ نے جو کہا ہے کہ میں نے عمرہ کے ساتھ تمتع کیا تھا، یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ پہلے عمرہ کرنے والی تھیں، علامہ نووی نے کہا ہے کہ اگر تم یہ کہو کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زیادہ صحیح روایت یہ ہے کہ ہم صرف حج کو دیکھتے تھے اور صرف حج کا ارادہ کرتے تھے اور ہم حج کا احرام باندھ کر نکلے تھے تو اس حدیث کی اس باب کی حدیث کے ساتھ کیسے تطبیق ہوگی کیونکہ اس میں حضرت عائشہ نے کہا ہے کہ میں نے عمرہ کے ساتھ تمتع کیا تھا، تو میں کہتا ہوں کہ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ نے پہلے حج کا احرام باندھا تھا، پھر اس احرام کو عمرہ کی طرف فسخ کردیا جب آپ نے لوگوں کو حج کا احرام فسخ کرکے عمرہ کا احرام باندھنے کا حکم دیا کیونکہ انہوں نے ھدی روانہ نہیں کی تھی، پھر حضرت عائشہ نے عمرہ کا احرام باندھ لیا پھر جب حضرت عائشہ کو حیض آگیا اور ان کے لیے عمرہ کو پورا کرنا مشکل ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ حج کا احرام باندھ لیں تو انہوں نے حج کا احرام باندھ لیا اور انہوں نے حج کے احرام کو عمرہ کے احرام پر باندھ لیا اور وہ قارنہ ہوگئیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا طواف، حج اور عمرہ کے لیے کافی ہے اور یہ جو آپ نے فرمایا ہے: اپنے عمرہ کو موقوف کردو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اپنے عمرہ کو باطل کردو بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں میں اپنے عمل کو جاری رکھو اور عمرہ کے افعال کو پورا کرکے اس سے اعراض کرلو اور سر کے بال کھولنے اور ان میں کنگھی کرنے سے عمرہ کا باطل کرنا لازم نہیں آتا کیونکہ ہمارے نزدیک یہ دونوں کام احرام میں جائز ہیں، بایں طور کہ بال نہ ٹوٹیں، لیکن بغیر عذر کے سر میں کنگھی کرنا مکروہ ہے اور حضرت عائشہ کے کنگھی کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا عذر تھا کہ ان کے سر میں جوئیں تھیں اور ایک قول یہ ہے کہ حقیقت میں کنگھی کرنا مراد نہیں ہے بلکہ انگلیوں سے بالوں کو سیدھا کرنا مراد ہے تاکہ وہ حج کے احرام کے لیے غسل کرلیں، خصوصاً اس صورت میں کہ انہوں نے اپنے بالوں کو چپکایا ہوا تھا اور اس صورت میں غسل اسی وقت صحیح ہوتا، جب پانی تمام بالوں میں پہنچ جاتا اور اس لیے انہیں بالوں کو کھولنا لازم تھا۔

اگر تم یہ کہو کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ نے یہ ارادہ کیا کہ حضرت عائشہ کا حج سے الگ ایک عمرہ ہوجائے جیسے باقی امہات المؤمنین اور دیگر ان صحابہ کا عمرہ تھا، جنہوں نے حج کا احرام فسخ کرکے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور انہوں نے عمرہ کو پورا کرکے حج کا احرام باندھا، پس ان کو مستقل عمرہ حاصل ہوا اور مستقل حج حاصل ہوا اور حضرت عائشہ کو صرف وہ عمرہ حاصل ہوا جو حج قران میں داخل تھا، پس انہوں نے جس عمرہ کا ابتداء میں ارادہ کیا تھا جو حج میں داخل نہیں تھا اور مستقل عمرہ تھا تو حج کے بعد انہوں نے وہ عمرہ کیا اور اس عمرہ سے ان کو حیض نے روک دیا تھا اور انہوں نے یہ اس لیے کیا کہ ان کی عبادات پر حرص تھی، تو میں کہوں گا کہ مشہور اور ثابت یہ ہے کہ حضرت عائشہ کا صرف حج تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ عمرہ کو چھوڑ دیں اور حضرت عائشہ نے جو کہا تھا کہ میں صرف ایک حج کے ساتھ لوٹوں گی اس میں اس کی واضح دلیل ہے اور حضرت عائشہ نے کہا تھا کہ میری صواحب حج اور عمرہ کے ساتھ لوٹیں گی اور میں حج کے ساتھ لوٹوں گی اس میں عمرہ چھوڑنے کی واضح دلیل ہے اس لیے کہ اگر ان کا حج عمرہ پر داخل ہوتا تو وہ اور آپ کی صواحب برابر ہوجاتیں اور آپ کو عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنے کی ضرورت نہ ہوتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آپ کے عمرہ اخیرہ کے بعد فرمایا: یہ تمہارے عمرہ کی جگہ ہے، یہ اس میں صریح ہے کہ آپ پہلے عمرہ سے نکل گئی تھیں اور اس کو چھوڑ دیا تھا تاکہ یہ دوسرا عمرہ پہلے عمرے کی جگہ ہوجائے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۳۰ – ۴۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۸۰۶ – ج ۳ ص ۳۷۹- ۳۷۸ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی.