کتاب الحیض باب 2 حدیث نمبر 296
٢٩٦ – حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِی هِشَامٌ ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ سُئِلَ أَتَحْدُمُنِى الْحَائِضُ ، اوتَدْنُو مِنِى الْمَرْأَةُ وَهِيَ جُنُبْ ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ كُلُّ ذلِكَ عَلَيَّ هَيِّنٌ، وَكُلٌّ ذَلِكَ تَحْدُمُنِي ، وَلَيْسَ عَلَى أَحَد فِي ذَلِكَ بَاسُ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِلُ،ٍتَعْنِي رَأَسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ حَائِضٌ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِنیئِذٍ مُجَاوِرٌ فِي الْمَسْجِدِ يُدْنِي لَهَا رَأْسَهُ ، وَهِيَ فِى حُجْرَتِهَا ، فَتُرَجَلُهُ وَهِيَ حَائِضٌ.
جامع المسانید لابن الجوزی:۷۴۳۹ مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ باقی تخریج وہی ہے جو حدیث: ۲۹۵ کی ہے۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابراہیم بن موسیٰ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی کہ بے شک ابن جریج نے ان کو خبر دی انہوں نے کہا: مجھے ہشام نے خبر دی از عروہ، بے شک ان سے سوال کیا گیا: آیا حائض میری خدمت کرسکتی ہے یا عورت اگر جنبی ہو تو میرے قریب ہوسکتی ہے؟ عروہ نے کہا: یہ سب چیزیں میرے اوپر آسان ہیں اور میری بیوی اس طرح میری خدمت کرتی ہے اور اس میں کسی کے لیے بھی کوئی حرج نہیں ہے مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتی تھیں اور وہ حائض ہوتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے تھے، آپ اپنا سر حضرت عائشہ کے قریب کرتے اور وہ اپنے حجرہ میں ہوتی تھیں، پس وہ آپ کے سر میں کنگھی کرتیں اور وہ حائض ہوتی تھیں ۔
حائض کو چھونے اور اس کو مست کرنے کا جواز
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی لکھتے ہیں:
امام ابن شیبہ نے از منبوذ از مادر خود یہ روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہارے بال بکھرے ہوئے دیکھ رہی ہوں انہوں نے کہا: میری کنگھی کرنے والی ام عمار حائض ہے، حضرت میمونہ نے کہا: اے بیٹے ! حیض ہاتھ میں تو نہیں ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر ہم میں سے کسی ایک کے حجرہ میں رکھتے تھے اور وہ حائض ہوتی تھی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ص ۲۰۲ ادارۃ القرآن کراچی مسند احمد ج 6 ص ۲۳۱ طبع قدیم، مسند احمد : 2681 – ج ۴۴ ص ۳۹۱)
باب مذکور کی حدیث میں عروہ کا استدلال حضرت میمونہ کے استدلال کی طرح ہے اور وہ حائض کی طہارت میں اور اس سے جسمانی قرب میں حجت ہے اور اس میں یہ دلیل ہے کہ قرآن مجید میں جو ہے:
وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَكِفُونَ فِي الْمَسْجِدِ .
اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو عورتوں سے مباشرت مت کرو۔(البقرہ: ۱۸۷)
اس آیت میں مباشرت سے مراد جماع ہے، اس آیت میں عورت کو چھونے اور اس کو مس کرنے کی ممانعت نہیں ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی صلی علی اللہ علیہ وسلم اپنا سر حضرت عائشہ کے قریب کردیتے تھے اور وہ آپ کے سر میں کنگھی کرتی تھیں، حالانکہ وہ حائض ہوتی تھیں ۔
علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ اس حدیث سے امام شافعی کا رد ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ عورت کے چھونے سے مرد کا وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ معتکف کے لیے باوضوہ ہونا لازم نہیں ہے۔
اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مرد زینت کے لیے کنگھی کرسکتا ہے۔
اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ حائض اپنے خاوند کی خدمت کر سکتی ہے اس کی صفائی کر سکتی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عائشہ سے مصلی طلب کیا اور انہوں نے کہا: میں حائض ہوں تو آپ نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص 453، ادارۃ القرآن’ کراچی
نیز اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ حائض تنزیہا اور تعظیماً مسجد میں داخل نہیں ہوسکتی اس کا مسجد میں داخل ہونا حرام ہے۔
( شرح ابن بطال ج ا ص ۴۱۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ معتکف ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے یا صفائی کی غرض سے مسجد سے باہر غسل کرنے کے لیے نہیں جاسکتا، ورنہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کے لیے اپنے حجرہ میں چلے جاتے اور مسجد سے حجرہ میں اپنا سر داخل نہ کرتے۔
جنبی اور حائض کے جسم پر صرف حکمی نجاست ہے
علامہ ابن رجب حنبلی متوفی ۷۹۵ ھ لکھتے ہیں :
خلاصہ یہ ہے کہ حائض کا بدن طاہر ہے اور اس کا پسینہ اور اس کا جھوٹا پاک ہے، جس طرح جنبی کا پسینہ اور اس کا جھوٹا پاک ہے اس پر متعدد علماء کا اجماع ہے حماد سے سوال کیا گیا: آیا حائض اپنے پسینہ سے آلود کپڑوں کو دھوئے گی ؟ انہوں نے کہا: یہ کام صرف مجوس کرتے ہیں، لیکن امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب یہ کہتے ہیں کہ جنبی اور حائض کے بدن پر نجاست حکمیہ ہوتی ہے جو غسل سے زائل ہوجاتی ہے۔ (فتح الباری لابن رجب ج ۱ص ۴۰۲ دار ابن الجوزی جدہ : ۱۴۱۷ھ )