٤ – بَابُ مَنْ سَمَّى النِّفَاسَ حَيْضًا

جس نے نفاس پر حیض کا اطلاق کیا

۲۹۸- حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا  هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْن أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ امِ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَن أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا قَالَتْ بَيْنَا إِنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعَةٌ فِي خَمِيصَةٍ ، إِذْ حِضْتُ فَانسَلَلْتُ،فَأَخَذَتْ ثِيَابَ حَيْضَتِي ، قَالَ انْفِسْتِ ؟ قُلْتُ نَعَمْ، فَدَعَانِي ، فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْحَمِيلَةِ.

اطراف الحدیث : ۳۲۲۔ ۳۲۳-۱۹۲۹

صحیح مسلم : ۲۹۶ الرقم المسلسل :۶۶۹ ، سنن نسائی : ۹۰۳ – ۳۶۹- 282، شرح السنة : 316، مصنف عبد الرزاق : 1335، مسند احمد ج 6 ص ۳۰۰ طبع قدیم مسند احمد : ۲۶۵۶۶ – ج ۴۴، ص۱۹۱ مؤسسة الرسالة بیروت .

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مکی بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی از یحيى بن ابى كثير از ابوسلمہ کہ زینب ام سلمہ کی بیٹی نے ان کو حدیث بیان کی کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوکور منقش چادر میں لیٹے ہوئے تھے، مجھے حیض آگیا، میں چپکے سے نکل گئی، پس میں نے اپنے حیض کے کپڑے لیے آپ نے پوچھا: کیا تم کو نفاس آگیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ! آپ نے مجھ کو بلایا پس میں آپ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔

اس حدیث کے چھ رجال ہیں، ان سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

خميصة “ اور ” خميلة “ کے معنی

اس حدیث میں ” خميصة “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : چوکور چادر، جس پر نقش و نگار بنے ہوئے ہوں، ایک قول کے مطابق اس کا معنی ہے: موٹے کپڑے کی چادر، جس پر موٹے نقش و نگار ہوں، یہ ابن سیدہ کا قول ہے، صحاح میں ہے: سیاہ رنگ کی چوکور چادر خواہ اس پر نقش و نگار نہ ہوں اور اس حدیث میں خمیل ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: چادر ۔

فانسللت میں چپکے سے نکل گئی ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۹۱)

باب کے عنوان کی وضاحت اور حائض کے بعض احکام

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:

المہلب نے کہا ہے : اس حدیث کا عنوان ہے: جس نے نفاس کا نام حیض رکھا۔ یہ ظاہر یوں ہونا چاہیے تھا: جس نے حیض کا نام نفاس رکھا، کیونکہ حدیث میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض پر نفاس کا اطلاق کیا ہے امام بخاری نے جب یہ دیکھا کہ حیض اور نفاس کا حکم ایک ہے کہ دونوں میں نمازوں کو ترک کردیا جاتا ہے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ ان میں سے ہر ایک کا دوسرے پر اطلاق جائز ہے، حیض پر نفاس کے اطلاق کی تو اس حدیث میں تصریح تھی تو انہوں نے اس کے عنوان میں نفاس پر حیض کے اطلاق کا ذکر کردیا۔

شرح ابن بطال ج ۱ ص ۴۲۱ دار الکتب العلمیہ بیروت 1424ھ 

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی لکھتے ہیں:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائض اپنے خاوند کے ساتھ حیض کے کپڑے پہن کر ایک بستر میں سوسکتی ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مستحب یہ ہے کہ حائض اپنے عام کپڑوں کے علاوہ حیض کے کپڑے الگ تیار رکھے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید میں ہے:

فَاعْتَزِلُوا النِّسَاء فِي الْمَحِيض (البقره: 222)

ایام حیض میں عورتوں سے الگ رہو۔

تو پھر کیا ایک بستر پر بیوی کے ساتھ سونے سے اس حکم کی مخالفت نہیں ہوتی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ایام حیض میں اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرو اور آپ نے جو حیض کو نفاس سے تعبیر فرمایا اس میں یہ تنبیہ ہے کہ نماز اور روزے کے جائز

نہ ہونے اور مسجد میں دخول، طواف کعبہ، قرآن مجید کی تلاوت اور مصحف کو چھونے کی ممانعت میں حیض اور نفاس کا حکم ایک ہے، مہلب نے کہا ہے : چونکہ امام بخاری کو نفاس کے متعلق الگ حدیث نہیں ملی، اس لیے انہوں نے اس حدیث کا عنوان قائم کیا، جس نے نفاس کو حیض کہا۔

نفاس والی عورتوں کے احکام

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نفاس والی عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چالیس دن بیٹھی رہتی تھیں، پھر ہم اپنے چہروں پر ورس نام کی خوشبو دار گھاس کا لیپ کرتی تھیں ۔

( سنن ترمذی: ۱۳۹ سنن ابوداؤد:311،  سنن ابن ماجه : ۶۴۸ مسند احمد ج 6 ص ۳۰۹ – ۳۰۴ ۳۰۲-۳۰۰)

اہل علم صحابہ، تابعین اور بعد کے فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ نفاس والی عورت چالیس دن تک نماز نہیں پڑھے گی، ماسوا اس کے کہ وہ اس سے پہلے طہر کو دیکھ لے پھر بے شک وہ غسل کرے گی اور نماز پڑھے گی اگر اس نے چالیس دن کے بعد بھی خون دیکھا تو اکثر فقہاء کے نزدیک اب وہ نماز ترک نہیں کرے گی، حسن بصری سے روایت ہے کہ وہ پچاس دن تک نماز ترک کرے اور عطاء سے روایت ہے: وہ ساٹھ دن تک نماز ترک کرے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۹۳- 392،  دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۹۱ – ج ا ص ۹۹۶ پر ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔