۲۱ – بَابُ النوْمِ مَعَ الْحَائِضِ وَهِيَ فِي ثِيَابِهَا

حائض کے ساتھ سونا جب کہ وہ حیض کے کپڑے پہنے ہو

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حائض اپنے حیض کے کپڑے پہنے ہوئے ہو تو اس کے ساتھ سونے کا کیا حکم ہے اور یہ جائز ہے جیسا کہ اس باب کی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے۔

۳۲۲- حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصِ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةٌ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ ابی سلَمَةَ حَدَّثتْهُ أَنَّ أَمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخمِيلَةِ، فَانسَلَلْتُ فَخَرَجْتُ مِنْهَا، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي فَلَبِسْتُها،فَقَالَ لِي رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنفُسَتِ؟ قُلْتُ نَعَمْ ، فَدَعَانِي ، فَادْخَلَنِي مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ.قَالَتْ وَحَدَّثَتْنِى اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ ، وَكُنْتُ اغْتَسِلُ اَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَّاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ.

جامع المسانید لابن الجوزی : 7656، مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۲ھ مسند احمد ج 6 ص ۲۹۱، السنن الکبری للنسائی : ۳۰۷۳- ۳۰۷۲ المعجم الكبير : ۷۸۹ – ج ۲۳ ص ۳۴۰

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سعد بن حفص نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شیبان نے حدیث بیان کی از یحیی از ابی سلمه از زینب بنت ابی سلمہ، وہ بیان کرتی ہیں کہ ان کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں (لیٹی ہوئی) تھی کہ مجھے حیض آگیا’ میں چپکے سے اٹھی اور بستر سے نکل گئی، پھر میں نے اپنے حیض کے کپڑے لے کر ان کو پہنا، پس رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم کو نفاس آگیا ؟ میں نے کہا: جی ہاں ! پس آپ نے مجھے بلایا اور مجھے اپنے ساتھ چادر میں داخل کرلیا زینب بنت ابی سلمہ نے کہا: اور حضرت ام سلمہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی کہ میں روزے سے ہوتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بوسہ دیتے تھے اور میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے پانی لے کر غسل جنابت کرتے تھے۔

اس حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۲۹۸ میں ملاحظہ فرمائیں، وہاں اس کا عنوان تھا: جس نے حیض کو نفاس کہا اور یہاں اس کا عنوان ہے: حائض کے ساتھ سونا جب کہ وہ حیض کے کپڑے پہنے ہو اور اس حدیث میں یہ دونوں باتیں ہیں۔