کتاب الحیض باب 5 حدیث نمبر 299
٥ – بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ
حائض کے ساتھ مباشرت کرنا یعنی اس کے جسم کو اپنے جسم کے ساتھ لپٹانا
اس عنوان میں مباشرت کا معنی جماع نہیں ہے، بلکہ اس کا معنی ہے: اپنی حائض بیوی کے ساتھ اپنے جسم کو لپٹانا، باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ اس میں بھی حائض بیوی کو اپنے ساتھ لٹانے کا ذکر ہے اور اس میں بھی مباشرت کا یہی معنی ہے۔
مباشرت کا مادہ “بشرة “ ہے اور “بشرة ” کا معنی ہے: کھال اور مباشرت کا معنی ہے: ایک جسم کی کھال کو دوسرے جسم کی کھال کے ساتھ ملانا۔
۲۹۹- حَدَّثَنَا قَبیصَةٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ انَّا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِد،ٍ كِلَانَا جُنب۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قبیصہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از منصور از ابراہیم از الاسود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے پانی لے کر غسل کرتے تھے، ہم دونوں جنبی ہوتے تھے۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۲۵۰ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ غسل کرنا اور یہاں اس کا عنوان ہے: حائض کے ساتھ مباشرت کرنا اور اس عنوان کی اس حدیث کے ساتھ کوئی مطابقت نہیں البتہ اس باب کی دوسری حدیث اس عنوان کے مطابق ہے۔۔