کتاب الحیض باب 5 حدیث نمبر 300
٣٠٠- وَكَانَ يَأْمُرُنِي فَاتَّزِرُ فَيُبَاشِرُنِي وَأَنَا حائض . ( اطراف الحديث : ۳۰۲-۲۰۳۰]
صحیح مسلم : 293، الرقم مسلسل : 665، سنن ابوداؤد : ۲۶۸ سخن ترمذی: ۱۳۲ سنن ابن ماجہ: ۶ ۶۳ سنن نسائی: ۳۷۱- 285 مصنف ابن ابی شیبہ ج ۳ ص 254، المستدرک ج ا ص ۱۷۲ سنن بیہقی ج ۱ ص ۳۱۱ 310 سنن دارمی : ۱۰۶۱ معجم الاوسط:6871 مسند احمد ج 6 ص ۳۳ طبع قدیم مسند احمد :24046 – ج ۲۰ ص 50 مؤسسة الرسالة بیروت
امام بخاری روایت کرتے ہیں: اور آپ مجھے حکم دیتے تو میں تہبند باندھ لیتی، پھر آپ مجھے اپنے ساتھ لپٹاتے اور میں حائض ہوتی۔
اس حدیث کے چھ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: پھر آپ مجھے اپنے جسم کے ساتھ لپٹاتے۔
مباشرت کا معنی اور حائض سے مباشرت کی اقسام
اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ مجھے تہبند باندھنے کا حکم دیتے، اس جملہ میں یہ دلیل ہے کہ یہاں مباشرت کا معنی جماع نہیں ہے بلکہ یہاں مباشرت کا معنی لمس ہے یعنی مرد کا اپنی کھال کو عورت کے کھال کے ساتھ ملانا اور مس کرنا۔
حائض کے ساتھ مباشرت کی کئی قسمیں ہیں:
(۱) حائض کے ساتھ جماع کیا جائے اور اس کی فرج میں اپنا آلہ داخل کیا جائے یہ بالا جماع حرام ہے اور فَاعْتَزِلُوا النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ . (البقرہ :۲۲۲) کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے، جو شخص اس کی حلت کا اعتقادر رکھے وہ کافر ہے اور اگر کسی نے حرام سمجھتے ہوئے یہ کام کیا تو وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے اور دوبارہ یہ کام نہ کرے، اس میں اختلاف ہے کہ اس پر کفارہ واجب ہوگا یا نہیں، امام احمد اور امام شافعی کا قول قدیم یہ ہے کہ اس پر کفارہ واجب ہو گا اور امام شافعی کا قول جدید یہ ہے کہ اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا اور اس پر سوا استغفار کے اور کچھ لازم نہیں ہے اکثر علماء کا اور ہمارا یہی قول ہے پھر کفارہ کی مقدار میں اختلاف ہے، بعض نے کہا: وہ ایک غلام کو آزاد کرنا ہے، بعض نے کہا: وہ ایک دینار یا نصف دینار ہے۔ بعض نے کہا: یہ صدقہ کرنا مستحب ہے۔
حائض سے مباشرت کی دوسری قسم یہ ہے کہ اس کے جسم کے ناف کے اوپر اور گھٹنے سے نیچے سے لذت حاصل کی جائے یہ بالاتفاق جائز ہے۔ حائض سے مباشرت کی تیسری قسم یہ ہے کہ اس کی فرج اور دبر کے علاوہ ناف اور گھٹنے کے درمیان سے لذت حاصل کی جائے امام ابوحنیفہ امام ابویوسف امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک یہ حرام ہے امام محمد بن حسن اور امام احمد کے نزدیک یہ جائز ہے
ان کی دلیل یہ حدیث ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہود کی عورت حائض ہوجاتی تو وہ اس کے ساتھ کھانا پینا ترک کردیتے اور نہ اس کو گھر میں اپنے ساتھ رکھتے اور نہ اس سے جماع کرتے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ” وَيَسْنَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ “. (البقرہ:۲۲۲) لوگ آپ سے حیض کا حکم دریافت کرتے ہیں’ آپ کہیے : وہ نجاست ہے پس تم ایام حیض میں عورتوں سے الگ رہو یعنی ان سے جماع نہ کرو تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان سے جماع اور دخول کے سوا سب کچھ کرو ۔ الحدیث
(صحیح مسلم : ۳۰۲، سنن ابن ماجہ : ۶۴۴ مسند احمد ج ۳ ص ۱۳۲ کنز العمال: ۴۴۸۹۴)
وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تہبند کے اوپر سے مباشرت کی ہے وہ استحباب پر محمول ہے، امام محمد کا یہ قول حضرت علی، حضرت ابن عباس، اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۹۶-۳۹۵ ملخصا شرح ابن بطال ج ۱ ص ۴۲۴ – ۴۲۳، ملخصا ، فتح الباری ج۱ ص ۸۱۹ ملخصاً)
اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم: ۵۸۷ – ج ۱ ص ۹۹۴ پر مذکور ہے اس کی شرح کے عنوانات ہیں:
حائضہ عورت سے مباشرت کی اقسام اور ان کے احکام منکرین حدیث کے ایک اعتراض کا جواب۔
[…] حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۳۰۰ میں تفصیل سے گزر چکی […]
[…] رجال میں اور ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔ اس حدیث کی مفصل شرح صحیح البخاری : ۳۰۰ میں کر دی گئی […]