۱۹ – بَابُ إِقْبَالِ الْمَحِيضِ وَإِدْبَارِهِ

حیض کا آنا اور جانا

یہ باب حیض کے آنے اور جانے کے متعلق ہے۔

حیض کے آنے اور جانے کی علامتیں

علامہ ابن بطال مالکی نے کہا ہے : حیض کے آنے کا معنی ہے : خون کا اچانک نکل آنا اور حیض کے جانے کا معنی ہے: طہر کا آنا اور اس کی دو علامتیں ہیں: خالص سفید پانی کا آنا اور یا فرج میں رکھا ہوا کپڑا بالکل خشک ہو۔

( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۴۴۳ ، دار الکتب العلمیہ بیروت)

علامہ بدرالدین عینی حنفی نے کہا ہے : ہمارے اصحاب حنفیہ کے نزدیک حیض کے جانے کی علامت یہ ہے کہ خون کا آنا منقطع ہوجائے اور حیض کے زمانہ یا حیض کی عادت میں خون نہ آئے، جب اس کی عادت میں خلل ہو تو وہ غور کرے اور اگر اس کی عادت نہ ہو تو کم مدت پر غور کرے۔

سابق باب کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ دونوں بابوں میں حیض کے آنے کا ذکر ہے ۔ امام بخاری فرماتے ہیں:

وَكُنَّ نِسَاء يَبْعَثْنَ إِلَى عَائِشَةَ بِالدُّرْجَةِ فِيهَا الْكُرْسُفُ فِيهِ الصُّفَرَةُ، فَتَقُولُ لَا تَعْجَلنَ حَتَّى تَرَین الْقَصَّةَ الْبَيْضَاءَ يُرِيدُ بِذلِكَ الطهَرَ مِنَ الْحَيْضَةِ۔

اور خواتین حضرت عائشہ کی طرف ایک ڈبہ بھیجتی تھیں، جس میں حیض کے کپڑے ہوتے تھے اس میں زرد رنگ ہوتا تھا، حضرت عائشہ فرماتیں تم جلدی نہ کیا کرو حتی کہ تم خالص سفیدی دیکھو، اس سے آپ حیض سے طہر کا ارادہ کرتی تھیں ۔

یہ تعلیق موطا امام مالک : ۹۷ میں ہے۔ ( تنویر الحوالک ص ۷ ۷ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۸ھ )

وَبَلَغَ ابْنَةَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ نِسَاءٌ يَدْعُون بِالْمَصَابِيحَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ، يَنظُرْنَ إِلَى الطهر فَقَالَتْ مَا كَانَ النِّسَاءُ يَصْنَعْنَ هَذَا ، وَعَابَتْ عَلَيْهِنَّ۔

یہ تعلیق موطا امام مالک : ۹۸ میں ہے۔ ( تنویر الحوالک ص ۷۷ )

اور حضرت زید بن ثابت کی بیٹی کو یہ خبر پہنچی کہ خواتین آدھی رات کو اٹھ کر چراغ میں طہر کو دیکھتی ہیں تو انہوں نے کہا: یہ عورتیں کیا کرتی ہیں اور ان کی مذمت کرتیں۔

۳۲۰- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا  سُفْيَانُ ،عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ اَنَّ فَاطِمَة بنت أبى حُبَيْشِ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذلِكَ عِرْقٌ ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْصَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِى الصَّلوةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلَّى۔

جامع المسانیدا ابن الجوزی : 7590 مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن محمد نے َ حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از ہشام از والد خود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش کا خون جاری رہتا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ نے فرمایا: یہ رگ ( کا خون ) ہے اور حیض نہیں ہے، پس جب حیض آئے تو تم نماز کو چھوڑدو اور جب حیض چلا جائے تو تم غسل کرکے نماز پڑھو۔

اس حدیث کی شرح کے لیے صحیح البخاری : ۲۲۸ کا مطالعہ کریں، وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: خون کو دھونا‘ اور یہاں اس کا عنوان ہے: حیض کا آنا اور جانا اور یہ دونوں چیزیں اس حدیث میں مذکور ہیں۔