کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 63 حدیث 228
۲۲۸- حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ أَبِي حُبَيْشِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنى امْرَأَةٌ اسْتَحَاضُ فَلا أَطهرُ، أَفَادَعُ الصَّلوةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْض ،فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتكِ فَدَعِى الصَّلوةَ ، وَإِذَا ادْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلَّى . قَالَ وَقَالَ أَبِي ثُمَّ تَوَضئي لِكُلِّ صَلُوةٍ ، حَتَّى يَجِيْءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ.
اطراف الحدیث : ۳۰۶۔۳۲۰۔ ۳۲۵-۳۳۱)
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی از والد خود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، پس انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! بے شک میں ایسی عورت ہوں، جس کا حیض مسلسل جاری رہتا ہے اور میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! یہ رگ ( کا خون) ہے اور حیض نہیں ہے پس جب تمہارا حیض آجائے تو نماز کو چھوڑدو اور جب حیض چلا جائے تو تم اپنے جسم سے خون صاف کرنا ، پھر ( غسل کر کے ) نماز پڑھنا میرے والد نے کہا: آپ نے فرمایا: پھر تم ہر نماز کے لیے وضوء کرنا حتی کہ اس نماز کا وقت آ جائے۔
(صحیح مسلم : 333، الرقم المسلسل : ۷۳۷ سنن ترمذی : ۱۲۵ سنن نسائی: 359، سنن ابن ماجہ : 621 السنن الکبری للنسائی: 217، سنن دارقطنی ج ا ص ۲۰۶ الطبقات الکبری ج ۸ ص 245 مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۱۲۵ مسند ابوعوانہ ج ا ص 319، سنن بیہقی ج ا ص ۳۲۴ مسند احمد ج 6 ص ۱۹۴ طبع قدیم مسند احمد : ۲۵۶۲۲ – ج ۴۲ ص ۴۰۰ مؤسسة الرسالة بیروت)
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے: اور جب حیض چلا جائے تو تم اپنے جسم سے خون صاف کرنا۔
اس حدیث کے چھ رجال ہیں، پانچ کا تعارف پہلے کیا جا چکا ہے۔
چھٹی حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش ہیں، یہ قرشیہ اسدیہ ہیں، ان کے والد حبیش، قیس بن المطلب تھے اور بعض نے کہا ہے: قیس بن عبدالمطلب تھے یہ حضرت فاطمہ بنت قیس کے علاوہ خاتون ہیں، جن کو تین طلاقیں دی گئی تھیں ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۱۱)
حیض اور استحاضہ کا معنی
اس حدیث میں مذکور ہے : ” استحاض“ اس کا معنی ہے: حیض کی مدت گزرنے کے بعد میرا خون مسلسل جاری رہتا ہے یعنی وہ مستحاضہ تھیں، حیض اس خون کہتے ہیں، جو رحم سے نکلتا ہے اور رحم وہ جگہ ہے جہاں جماع کیا جاتا ہے اور جہاں سے بچہ کی ولادت ہوتی ہے اور استحاضہ وہ خون ہے، جو حیض کی کم از کم مدت سے کم دنوں میں آئے یا حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت سے زیادہ دنوں میں آئے یعنی تین دن سے کم آئے یا دس دن سے زیادہ آئے۔
اس اشکال کا جواب کہ آپ نے حیض ختم ہونے کے بعد نماز پڑھنے کا حکم دیا ۔۔۔۔حالانکہ اس سے پہلے غسل کرنا ضروری ہے
اس حدیث میں مذکور ہے : اور جب حیض چلاجائے تو تم اپنے جسم سے خون صاف کرنا، پھر نماز پڑھنا اس حدیث پر یہ اشکال ہے کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کا ذکر نہیں کیا اور حیض ختم ہونے کے بعد غسل کرنا ضروری ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ اس روایت میں غسل کا ذکر نہیں ہے لیکن دوسری صحیح روایت میں غسل کا ذکر ہے وہ روایت حسب ذیل ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : بے شک حیض کے بعد میرا خون جاری رہتا ہے آپ نے فرمایا: یہ رگ ( کا خون ) ہے، پس تم غسل کرو پھر نماز پڑھو، پس وہ ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں ۔ (صحیح مسلم : 334، الرقم المسلسل :۷۳۹ ، سنن ابوداؤد : 285، سنن ترمذی:۱۲۹ سنن نسائی : ۲۰۵)
اور احادیث ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں لہذا اس حدیث میں بھی یہی معنی مراد ہے کہ جب حیض چلاجائے تو تم غسل کرو پھر نماز پڑھو۔
حائضہ عورت کو پیش آنے والے دیگر مسائل
اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس سے معلوم ہوا کہ عورت اپنے پیش آمدہ مسئلہ میں عالم دین سے براہ راست سوال کرسکتی ہے۔
(۲) جو عورت حائضہ ہو اس کا ایام حیض میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، خواہ نماز فرض ہو یا نفل ہو نہ اس کا طواف کرنا جائز ہے نہ نماز جنازہ پڑھنا نہ سجدہ تلاوت کرنا نہ سجدہ شکر ادا کرنا۔
(۳) جب کسی عورت کا حیض منقطع ہوجائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اسی وقت غسل کر کے اس وقت کی نماز پڑھے اور پھر اس کے لیے نماز اور روزے کو ترک کرنا جائز نہیں ہے اور وہ طاہرات کے حکم میں ہے۔
(۴) بعض فقہاء احناف نے اس حدیث سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر پیشاب اور پاخانے کے راستوں کے علاوہ بھی جسم کے کسی حصہ سے خون نکل آئے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے استحاضہ میں وضو ٹوٹنے کی علت یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ رگ سے خون نکلا ہے لیکن وہ پیشاب کے راستہ سے نکالا ہے اور پیشاب کے راستہ سے جو خون نکلے اس سے وضو ٹوٹنے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
(۵) اس حدیث میں مذکور ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضوء کرے، اس میں فقہاء احناف اور شوافع کا اختلاف ہے کہ مستحاضہ ہو یا کوئی اور صاحب عذر مثلاً جس کے پیشاب کے قطرات ہر وقت نکلتے رہتے ہیں یا جسم کے زخم سے ہر وقت خون بہتا رہتا ہے آیا وہ ہر نماز کے لیے ایک وضوء کرے یا ہر نماز کے وقت کے لیے ایک وضوء کرے فقہاء شافعیہ یہ کہتے ہیں کہ وہ ہر نماز کے لیے ایک وضوء کرے اور فقہاء احناف یہ کہتے ہیں کہ وہ ہر نماز کے وقت کے لیے ایک وضوء کرے اور اس پورے وقت میں فرائض اور نوافل اور تلاوت قرآن کر سکتا ہے بہ شرطیکہ کسی اور وجہ سے اس کا وضوء نہ ٹوٹے اور جب دوسری نماز کا وقت آجائے گا تو پھر اس کو دوبارہ وضوء کرنا ہوگا۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : 661 – ج ۱ ص 1026 پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح میں صرف دو سطریں لکھی گئی۔
[…] حدیث صحیح البخاری : ۲۲۸ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: خون کو دھونا اور […]
[…] حدیث کی شرح کے لیے صحیح البخاری : ۲۲۸ کا مطالعہ کریں، وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: خون کو […]
[…] حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۲۲۸ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: خون کو دھونا اور […]
[…] حدیث کی شرح کے لیے صحیح البخاری : ۲۲۸ کا مطالعہ کریں، وہاں اس کا عنوان تھا: خون کو دھونا اور […]