٢٤ – بَابُ إِذَا حَاضَتْ فِي شَهْرٍ ثَلَاثَ حِيضٍ ، وَمَا يُصَدَّقُ النِّسَاءُ فِي الْحَيْضِ وَالْحَمْلِ وَفِيمَا يُمْكِنُ مِنَ الْحَيْضِ۔

 جب عورت کو ایک ماہ میں تین حیض آئیں اور حیض اور حمل میں عورتوں کی جو تصدیق کی جاتی ہے اور ان کے حیض کو اس صورت پر محمول کیا جاتا ہے جو ممکن ہو

لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ تَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ) (البقره:۲۲۸).

کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ” اور عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ارحام میں جو پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں (البقرہ: ۲۲۸)۔

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کسی عورت کو ایک ماہ میں تین حیض آجائیں تو اس کا کیا حکم ہے اور اس کے حیض کی تکرار کو جو ممکن ہو اس پر حمل کیا جائے گا امام طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ زہری سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ارحام میں حمل یا حیض جس کو بھی پیدا کیا ہے عورتوں کے لیے اس کو چھپانا جائز نہیں ہے تاکہ ان کی عدت پوری ہوسکے ۔ امام ماتریدی متوفی ۳۳۳ھ نے لکھا ہے: حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ اس آیت سے مراد ہے: وہ حمل اور حیض کو نہ چھپائیں، حیض کی جگہ رحم ہے اور جب حمل ہوجاتا ہے تو وہ حیض کے خون کو نکلنے سے منع کردیتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عورتیں حمل کو چھپالیتی تھیں تاکہ اس بچہ کو کسی اور کی طرف منسوب کرسکیں تو اسلام میں ان کو اس فعل سے منع کر دیا گیا۔( تاویلات اہل السنته ج ۲ ص ۱۶۲ ۱۶۱ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۶ھ )

امام بخاری فرماتے ہیں:

وَيُذْكَرُ عَنْ عَلِي وَشُرَيْحٍ إِنِ امْرَأَةٌ جَاءَتْ بينةٍ مِنْ بِطَانَةِ أَهْلِهَا، مِمَّنْ يُرْضَى دِینَهُ، أَنَّهَا حَاضَتْ ثَلَاثًا فِي شَهْرٍ صُدِّقَتْ.

اور حضرت علی اور شریح سے ذکر کیا جاتا ہے کہ اگر عورت اپنے گھر کے افراد میں سے کوئی ایسا گواہ لے آئے جو اس کے احوال کو جانتا ہو اور جس کا دین پسندیدہ ہو کہ اس کو ایک ماہ میں تین حیض آگئے ہیں تو اس کی تصدیق کی جائے گی۔

اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:

عامر بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے مقدمہ پیش کیا جو اس کو طلاق دے چکا تھا، اس عورت نے کہا: مجھے ایک ماہ میں تین حیض آچکے ہیں، حضرت علی نے شریح سے کہا: تم ان کے درمیان فیصلہ کرو شریح نے کہا: امیر المؤمنین! آپ یہاں موجود ہیں، حضرت علی نے فرمایا: تم ان کے درمیان فیصلہ کرو شریح نے پھر کہا: امیر المؤمنین! آپ یہاں موجود ہیں، حضرت علی نے فرمایا: تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تب شریح نے کہا : اگر اس کے گھر میں اس کے احوال کو جاننے والا ایسا فرد گواہی دے جس کا دین اور امانت پسندیدہ ہو اور وہ یہ کہے کہ اس کو تین حیض آچکے ہیں اور ہر حیض کے بعد اس کا طہر گزرچکا ہے جس میں یہ نماز پڑھتی تھی تو اس کا دعویٰ قبول کیا جائے گا ورنہ نہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” قالون قالون‘ یہ رومی زبان کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : تم نے اچھا فیصلہ کیا ہے۔ (سنن دارمی : ۸۵۸ دار المعرفه بیروت ۱۴۲۱ھ )

ایک ماہ میں تین حیض گزرنے کے دعوی کے متعلق ائمہ اربعہ کے مذاہب

علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

امام مالک نے بھی اس کی مثل کہا ہے کہ اگر مطلقہ یہ کہے کہ مجھے ایک ماہ میں تین حیض آگئے ہیں تو عورتوں سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا اگر اس کے نزدیک یہ ممکن ہو تو اس عورت کی تصدیق کردی جائے گی۔

امام ابوحنیفہ نے یہ کہا ہے کہ جب عورت یہ دعوی کرے کہ دو ماہ سے کم میں اس کی عدت پوری ہوگئی ہے اور  وہ ان عورتوں میں سے ہو جن کو حیض آتا ہے تو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ عادہ ممکن نہیں ہے کہ کسی عورت کا حیض اور طہر دونوں کم از کم مدت کے ہوں، کیونکہ جب حیض اکثر مدت کا ہو تو طہر کم از کم مدت کا ہوتا ہے اور جب حیض کم از کم مدت کا ہو تو طہر اکثر مدت کا ہوتا ہے۔

امام ابو یوسف اور امام محمد نے یہ کہا ہے کہ انتالیس دن سے کم میں اس عورت کے دعوی کی تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ ان کے نزدیک حیض کی کم از کم مدت تین دن ہے اور طہر کی کم از کم مدت پندرہ دن ہے۔

امام شافعی نے کہا: بیتیس دنوں سے زیادہ میں اس کے دعوی کی تصدیق کی جائے گی، اس کی صورت یہ ہے کہ جب اس کے شوہر نے اس کو طلاق دی تو اس کے طہر میں ایک ساعت رہتی تھی اس کو ایک دن حیض آیا اور پندرہ دن طہر کے گزرے پھر اس کو ایک دن حیض آیا اور پندرہ دن طہر کے گزرے پھر جب تیسرے حیض کا خون آیا تو اس کی عدت پوری ہوگئی۔

( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۴۴۹ دار الکتب العلمیہ بیروت 1424ھ )

علامہ زین الدین عبد الرحمان بن شہاب ابن رجب حنبلی متوفی ۷۹۵ ھ لکھتے ہیں:

ابن المبارک، نخعی اور اسحاق بن راھویہ نے کہا ہے کہ اگر مطلقہ عورت یہ کہے کہ اس کو ایک ماہ میں تین حیض آچکے ہیں تو اس عورت کی تصدیق کی جائے گی اور یہ اکثر فقہاء کا مذہب ہے ان میں امام مالک، امام احمد اور اسحاق وغیرہم ہیں اور یہ قول دو قاعدوں پر مبنی ہے۔ اول یہ ہے کہ الاقراء میں اختلاف ہے آیا اس سے مراد طہر ہے یا حیض ہے اور اس میں دو قول مشہور ہیں امام مالک اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اس سے مراد طہر ہے اور امام احمد سے صحیح روایت یہ ہے کہ اس سے مراد حیض ہے ۔

اور دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ کم از کم حیض کی مدت اور دو حیضوں کے درمیان کم از کم طہر کی مدت میں اختلاف ہے، امام شافعی اور امام احمد کے مشہور مذہب کے مطابق کم از کم حیض کی مدت ایک دن اور ایک رات ہے اور دو حیضوں کے درمیان کم از کم طہر کی مدت امام شافعی اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کے نزدیک پندرہ دن ہے اور امام مالک کے اکثر اصحاب کا بھی یہی مذہب ہے اور امام احمد کا مشہور مذہب یہ ہے کہ اس کی کم از کم مدت تیرہ دن ہے اور اسحاق کے نزدیک اس کی مدت دس دن ہے اور ابن القاسم نے امام مالک سے اس قول کی روایت کی ہے، پس جس کے نزدیک الاقراء سے مراد حیض ہے اور کم از کم طہر کی مدت تیرہ دن ہے تو اس کے نزدیک انتیس دن میں تین حیض گزرسکتے ہیں، سو اس طرح امام مالک اور امام احمد کے نزدیک ایک ماہ میں تین حیض گزر سکتے ہیں اور امام شافعی کے نزدیک اس کے لیے تینتیس دن ضروری ہیں ۔ (فتح الباری لابن رجب ج 1 ص ۵۱۳ – ۵۱۲ ملخصاً دار ابن الجوزی ریاض ۱۴۱۷ھ )

وَقَالَ عَطَاءُ أَقْرَاؤُهَا مَاكَانَتْ وَبِهِ قَال إبْرَاهِيمُ .

اور عطاء نے کہا ہے کہ عورت کے حیض کی مدت وہی ہوگی جو پہلے ہوتی تھی ابراہیم نخعی کا بھی یہی قول ہے۔

اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:

ابن جریج، عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ مستحاضہ اپنے حیض کے ایام کی مدت میں نماز نہیں پڑھے گی۔(مصنف عبد الرزاق: ۱۱۵۷)

وَقَالَ عَطَاءُ الْحَيْضُ يَوْمٌ إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ.

اور عطاء نے کہا: حیض کی مدت ایک دن سے پندرہ دن تک ہے۔

اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:

عطاء نے کہا: اکثر حیض پندرہ دن ہے۔

(سنن دارقطنی : 786 ‘سنن بیہقی ج ۱ ص ۳۲۱)

حیض کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدت میں مذاہب ائمہ

علامہ شمس الدین عبدالرحمان بن محمد ابن قدامہ ضیلی متوفی ۶۸۲ ھ لکھتے ہیں:

امام احمد کا مشہور مذہب یہ ہے کہ کم از کم حیض کی مدت ایک دن اور ایک رات ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے اور یہ عطاء بن ابی رباح اور ابوثور کا مذہب ہے اور امام احمد سے ایک روایت یہ ہے کہ کم از کم مدت ایک دن ہے اور زیادہ سے زیادہ مدت سترہ دن ہے الخلال نے کہا کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ امام احمد کے نزدیک کم از کم مدت ایک دن ہے اور زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے اور اقل اور اکثر مدت میں امام شافعی کا مذہب بھی اسی طرح ہے اور امام ابوحنیفہ اور ان کے دو صاحبوں کا مذہب یہ ہے کہ حیض کی کم از کم مدت تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے کیونکہ حدیث میں ہے:

حضرت وائلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حیض کی کم از کم مدت تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہے۔ (سنن دار قطنی : ۸۳۵ – ج ا ص ۴۸۵ دار المعرفة بیروت)

امام مالک نے کہا : کم از کم حیض کی کوئی حد نہیں ہے وہ ایک ساعت بھی ہو سکتی ہے۔ (المغنی ج ۱ ص ۴۰۱ دار الحدیث’ قاہرہ ۱۴۲۵ھ )

وَقَالَ مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ سَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى الدَّمَ ، بَعْدَ قَرْئهَا بِخَمْسَةِ أَيَّامٍ ؟ قَالَ النِّسَاء أَعْلَمُ بذلك. 

اور معتمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن سیرین سے اس عورت کے متعلق سوال کیا، جو طہر کے پانچ دنوں کے بعد خون کو دیکھتی ہے؟ انہوں نے کہا : عورتیں اس کو زیادہ جانتی ہیں ۔

اس اثر کی اصل یہ حدیث ہے:

محمد بن عیسی بیان کرتے ہیں: ہمیں معتمر نے حدیث بیان کی از والد خود از الحسن کہ جو عورت طہر کے ایام میں خون دیکھ لے، انہوں نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ وہ غسل کرے اور نماز پڑھے اور ابن سیرین نے کہا: وہ مٹیالے اور پیلے رنگ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ (سنن دارمی: ۸۶۹ دار المعرفہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

٣٢٥- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُوأسَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِی ابی عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أبِى حُبَيْشٍ، سَاَلَتِ النَّبِی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنِى اسْتَحَاضُ فَلا أَطهرُ أَفَادَعُ الصَّلوة؟َ فَقَالَ لَا، إِنَّ ذلِكَ عِرق، وَلكِنْ دَعِى الصَّلوةَ قَدْرَ الْأَيَّامِ الَّتِى كُنتِ تَحِيْضِینَ فِيْهَا ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلَّى۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں احمد بن ابی رجاء نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے ہشام بن عروہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے خبردی از حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرا خون جاری رہتا ہے لہذا میں پاک نہیں ہوتی ، کیا میں نماز ترک کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ! یہ رگ (سے خون نکلتا) ہے لیکن جتنے ایام میں تمہیں حیض آتا تھا، اتنے ایام تک تم نماز چھوڑ دو پھر غسل کرو اور نماز پڑھو۔

اس حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۲۲۸ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: خون کو دھونا اور یہاں اس حدیث کا عنوان ہے : جب کسی عورت کو ایک ماہ میں تین حیض آئیں، تاہم اس حدیث میں اس عنوان پر کوئی دلالت نہیں ہے ثبوت پر، نہ نفی پر۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جس عورت کا خون ابتداء بلوغت سے مسلسل جاری ہو وہ حیض کے ایام کا کس طرح تعین کرے گی اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ہر مہینہ کے ابتدائی دس دنوں کو حیض قرار دے گی اور باقی ہیں دنوں کو طہر قرار دے گی۔

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کے دنوں کے لیے ایام کا لفظ استعمال فرمایا ہے اس سے امام ابوبکر رازی نے یہ استدلال کیا ہے کہ ایام جمع قلت ہے، جس کے افراد کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ دس ہوتے ہیں اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ حیض کی کم از کم مدت تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۵۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )