۳۳۰ – وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ إِنَّهَا لَا تَنفِرُ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ تَنْفِرُ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ طرف الحديث :۱۷۶۱

طاؤس روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلے یہ کہتے تھے کہ حائض (طواف وداع کیے بغیر ) روانہ نہیں ہوسکتی، پھر میں نے ان سے یہ سنا کہ وہ روانہ ہوسکتی ہے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دی ہے۔

پہلے حضرت ابن عمر یہ کہتے تھے کہ حائض طواف وداع کیے بغیر مکہ سے روانہ نہیں ہوسکتی ‘بعد میں ان کو معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حائض کو رخصت دی ہے تو انہوں نے اپنے پہلے قول سے رجوع کر لیا’ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما میں انانیت بالکل نہیں تھی اور حق واضح ہونے کے بعد وہ رجوع کر لیتے تھے اور خوف خدا رکھنے والے علماء کی یہی شان ہے کہ جب ان پر اپنے قول سابق کی خطاء منکشف ہوجاتی تو وہ اس سے رجوع کر لیتے تھے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۶۳)

اپنے قول سابق سے رجوع کرنے کی تحقیق

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ۲۶۱ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ یا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ غزوہ تبوک کے سفر میں لوگوں کو سخت بھوک لگی ہوئی تھی’ صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم پانی لانے والے اونٹوں کو ذبح کرکے کھالیں اور چربی کا تیل بنالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اتنے میں حضرت عمر آگئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہعلیہوسلم! اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہوجائیں گی البتہ آپ لوگوں کا بچا ہوا کھانا منگوالیجئے اور اس پر برکت کی دعا کیجئے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ برکت عطا فرمائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے اور ایک چمڑے کا دسترخوان بچھا دیا پھر لوگوں کا بچا ہوا کھانا منگوایا’ کوئی شخص اپنی ہتھیلی میں جوار اور کوئی کھجوریں اور کوئی روٹی کے ٹکڑے لیے چلا آرہا تھا، یہ سب چیزیں مل کر بہت تھوڑی مقدار میں جمع ہوئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا فرمائی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب اپنے اپنے برتنوں میں کھانا بھرلیں، چنانچہ تمام لوگوں نے اپنے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ لشکر کے تمام برتن بھرگئے اور سب نے مل کر کھانا کھایا اور سیر ہوگئے اور کھانا پھر بھی بچ گیا’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور جو شخص بھی اس کلمہ پر یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا’ وہ شخص جنتی ہوگا۔

( صحیح مسلم، کتاب الایمان : 45 الرقم المسلسل : ۱۳۸)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ دیگر صحابہ کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما بھی بیٹھے ہوئے تھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے اور کافی دیر تک تشریف نہ لائے تو ہمیں خوف ہوا کہ کہیں خدانخواستہ آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو اس خیال سے ہم سب کھڑے ہوگئے سب سے پہلے میں گھبراکر آپ کی تلاش میں نکلا اور انصار بنی نجار کے باغ تک پہنچ گیا، میں باغ کے چاروں طرف گھومتا رہا، لیکن مجھے اندر جانے کے لیے کوئی دروازہ نہ ملا اتفاقاً ایک نالہ دکھائی دیا جو باہر کے کنویں سے باغ کے اندر کی طرف جارہا تھا میں لومڑی کی طرح سمٹ کر اس نالہ کے راستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا: جی ہاں ! یارسول اللہ ! حضور نے فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے، پھر آپ اچانک اٹھ کر تشریف لے گئے آپ کی واپسی میں دیر ہوگئی، اس وجہ سے ہمیں خوف دامن گیر ہوا کہ کہیں دشمن آپ کو تنہا دیکھ کر پریشان نہ کریں ہم سب گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سب سے پہلے میں آپ کی تلاش میں نکلا پس میں اس باغ تک پہنچا اور لومڑی کی طرح سمٹ کر باغ کے اندر آگیا’ باقی صحابہ میرے پیچھے آرہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نعلین مبارک مجھے عطا فرمائیں اور فرمایا: اے ابوہریرہ! میری یہ دونوں جوتیاں لے کر چلے جاؤ اور باغ کے باہر جو شخص تم کو کلمہ طیبہ کی دلی یقین سے شہادت دیتا ہوا ملے اس کو جنت کی بشارت دے دو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ باغ کے باہر سب سے پہلے میری ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے پوچھا: اے ابو ہریرہ ! یہ جوتیاں کیسی ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیاں ہیں، جو حضور نے مجھے اس لیے دی ہیں کہ جو شخص بھی مجھے یقین کے ساتھ کلمہ طیبہ کی گواہی دیتا ہوا ملے اس کو میں جنت کی بشارت دے دوں، یہ سن کر حضرت عمر نے میرے سینہ پر ایک ضرب لگائی جس کی وجہ سے میں پیٹھ کے بل گرپڑا پھر حضرت عمر نے مجھ سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس جاؤا پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر رونے لگا’ ساتھ ہی حضرت عمر بھی پہنچ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ابوہریرہ! کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: سب سے پہلے میری ملاقات حضرت عمر سے ہوئی میں نے ان کو آپ کا پیغام پہنچایا، انہوں نے میرے سینہ پر ضرب مار کر مجھے پیٹھ کے بل گرادیا اور کہا: واپس چلے جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے پوچھا : تم نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عمر نے عرض کیا: یارسول اللہ  صلی اللہ علیہوسلم! کیا واقعی آپ نے ابوہریرہ کو اپنی جوتیاں دے کر بھیجا تھا کہ جو شخص اسے یقین قلب کے ساتھ کلمہ طیبہ کی گواہی دیتا ہوا ملے، اس کو یہ جنت کی بشارت دے دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! ” حضرت عمر نے عرض کیا : حضور ایسا نہ کریں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ پھر کلمہ پر ہی بھروسا کرکے بیٹھ جائیں گے ان کو عمل کرنے دیجئے آپ نے فرمایا: اچھا پھر انہیں عمل کرنے دو۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان : ۵۲ رقم بلاتکرار 31 الرقم مسلسل (146)

علامہ یحیی بن شرف نواوی متوفی ۶۷۶ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

حضرت عمر نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ضرب ماری جس سے وہ گرگئے اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا واقعی آپ نے ابوہریرہ کو اپنی نعلین دے کر بھیجا تھا کہ جو شخص بھی یقین سے لا الہ الا اللہ کی گواہی دے اس کو جنت کی بشارت دے دو؟ اس سے حضرت عمر کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنا یا آپ کے حکم کو مسترد کرنا نہ تھا،  کیونکہ اس پیغام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد صرف امت کی دلداری اور ان کو بشارت دینا تھا، حضرت عمر کی یہ رائے تھی کہ اس بشارت کو مخفی رکھنا بہتر ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ لوگ صرف کلمہ پڑھ لینے پر ہی تکیہ کرلیں اور اعمال سے غافل ہوجائیں، اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ رائے پیش کی، تو آپ نے اس کو صحیح قرار دیا اس حدیث میں اکابر کی اصاغر کی رائے سے موافقت کرنے کا بیان ہے اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ اگر اصاغر کی رائے میں کوئی مصلحت ہو تو اکابر کو ان کی رائے کی طرف رجوع کرلینا چاہیے۔

(صحیح مسلم بشرح النواوی ج 1 ص 581 مکتبه نزار مصطفی مکه مکرمه 1417ھ)

اس سے پہلے ہم نے وہ احادیث بیان کی تھیں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم امت کے لیے اپنی سابق رائے سے رجوع فرماکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کی رائے کو قبول فرمالیا۔ اب ہم وہ حدیث ذکر کر رہے ہیں کہ جس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر کی رائے کی طرف رجوع فرمالیا۔

امام بخاری محمد بن اسماعیل متوفی ۲۵۶ ھ روایت کرتے ہیں:

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اہل یمامہ سے جنگ ہورہی تھی تو اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس تھے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ جنگ یمامہ میں بہت سے قرآن کے قاری شہید ہوگئے اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ اگر اسی طرح قرآن کے قاری شہید ہوتے رہے تو ہمارے پاس سے بہت سارا قرآن جاتا رہے گا اور میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کو جمع کرنے کا حکم دیں، میں نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ اس کام کو کیسے کریں گے، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت عمر نے کہا: اللہ کی قسم ! اس کام میں خیر ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے مسلسل یہ مشورہ دیتے رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی اس کام کے لیے کھول دیا اور میں نے دیکھا کہ حضرت عمر کی رائے درست ہے۔ (صحیح البخاری : ۴۹۸۲)

اسی طرح حضرت عمر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے کی طرف رجوع فرمالیا۔

امام ابن عبدالبر القرطبی متوفی ۴۶۳ ھ لکھتے ہیں:

سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے کہ میں اس مسئلے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، جس کے مشورے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نہ ہوں، انہوں نے کہا: ایک مجنونہ عورت کے ہاں چھ مہینے کے بعد بچہ پیدا ہوگیا، حضرت عمر نے اس کو رجم کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت علی نے ان سے کہا: قرآن مجید میں ہے:

وَحَمْلُهُ وَفِصْلُهُ ثلْثونَ شَهْرًا “. (الاحقاف:۱۵) وضع حمل کی مدت چھ ماہ بھی ہوتی ہے اور یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجنون سے حکم تکلیف اٹھالیا ہے یعنی وہ مکلف نہیں ہے، پھر حضرت عمر یہ کہتے تھے کہ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ہے۔

الاستیعاب ج ۳ ص ۲۰۶ دار الکتب العلمیة بیروت)

شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ۴۸۳ھ لکھتے ہیں:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں کہا کہ بہت زیادہ مہر نہ رکھا کرو،  تو ایک سیاہ چہرے والی عورت نے کہا کہ آیا آپ اپنی رائے سے یہ کہہ رہے ہیں یا اس کو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کیونکہ آپ کے قول کے خلاف قرآن مجید میں ہے:

” وَاتَيْتُمْ إِحْدُهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا. (النساء : ٢٠) اور تم اپنی ازواج میں سے کسی کو ڈھیروں مال دے چکے ہو،  تو بھی اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ یہ جواب سن کر حضرت عمر حیران رہ گئے اور کہا کہ ہر شخص کو عمر سے زیادہ علم ہے حتی کہ گھروں میں رہنے والی عورتوں کو بھی عمر سے زیادہ علم ہے۔ (المبسوط ج 10، ص ۱۵۳ – ۱۵۲ دار المعرفہ بیروت 1098ھ جامع العلم وفضله ج ۲ ص ۹۲۰)

اسی طرح بعض دیگر صحابہ نے بھی ایک دوسرے کے قول کی طرف رجوع کیا ہے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

عن عكرمة ان اهل المدينة سألوا ابن عباس عن امراة طافت ثم حاضت قال لهم تنفر” قالوالا ناخذ بقولك وندع قول زيد، قال اذا قدمتم المدينة فاسئلوا فقدموا المدينة فكان فی من سالوا ام سليم فذكرت حديث صفية.

صحیح البخاری 1758-1759، صحیح مسلم 1328 السنن الکبری للنسائی 4199

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ اہل مدینہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کیا کہ جس عورت نے طواف ( زیارت ) کرلیا ہو پھر اس کو حیض آجائے تو آیا وہ (طواف وداع کے بغیر) واپس جاسکتی ہے؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا: جا سکتی ہے، اہل مدینہ نے کہا: ہم آپ کے قول کی وجہ سے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول کو ترک نہیں کریں گے (حضرت زید کہتے تھے کہ وہ طواف وداع کیے بغیر نہیں جا سکتی) حضرت ابن عباس نے فرمایا: جب تم مدینہ جاؤ تو اس مسئلہ کی تحقیق کرلینا جب وہ مدینہ گئے تو انہوں نے اس کی تحقیق کی اور حضرت ام سلیم سے بھی پوچھا تو انہوں نے حضرت صفیہ کی ( یہ ) حدیث بیان کی (کہ ایسی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ کو طواف وداع کیے بغیر جانے کی اجازت دی تھی)۔

جب اہل مدینہ کو حضرت صفیہ کی یہ حدیث مل گئی تو انہوں نے حضرت ابن عباس کے پاس جا کر حق کا اعتراف کرلیا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

پھر اہل مدینہ حضرت ابن عباس کے پاس گئے اور کہا : جس طرح آپ نے ہمیں حدیث سنائی تھی، ہمیں اسی طرح حدیث مل گئی ۔ (فتح الباری ج ۳ ص ۵۸۸ طبع لاہور )

اور حضرت زید بن ثابت کو جب یہ حدیث مل گئی تو انہوں نے بھی رجوع فرمالیا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی، امام مسلم اور امام نسائی کے حوالے سے لکھتے ہیں :

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ پھر حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رجوع کرلیا اور حضرت ابن عباس سے فرمایا: مجھے یہ یقین ہے کہ آپ نے بیچ کے سوا اور کچھ نہیں کہا یہ “صحیح مسلم” کی عبارت ہے اور “سنن نسائی” میں یہ عبارت ہے : عکرمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کے پاس بیٹھا تھا، ان سے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ یہ فتویٰ دیتے ہیں؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا: اس انصاری خاتون سے اس کے متعلق حدیث معلوم کرلو حضرت زید نے ان سے حدیث پوچھی اور ہنستے ہوئے (اپنے قول سے) رجوع کرلیا اور کہا : جس طرح آپ نے بیان کیا تھا، اسی طرح حدیث ہے۔

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کئی مسائل میں اپنے شاگردوں کے قول کی طرف رجوع کیا امام مالک نے کئی اقوال میں رجوع کیا اور امام احمد اور امام شافعی کے ہر مسئلے میں دو قول ہیں، یعنی انہوں نے بعد والے قول میں اپنے پہلے قول سے رجوع کرلیا۔

علامہ سید ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ لکھتے ہیں:

اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب عزیز کے سوا کسی کتاب کے لیے عصمت کو مقدر نہیں فرمایا یا کسی اور کتاب کی عصمت پر راضی نہیں ہے، یہ صرف اس کی کتاب کی شان ہے، جس کے حق میں فرمایا: ” لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ (ثم اسجده: ۴۲) اس کتاب میں باطل سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے۔

سو قرآن مجید کے علاوہ دوسری کتابوں میں خطائیں اور لغزشیں واقع ہوتی ہیں، کیونکہ وہ انسان کی تصنیفات ہیں اور خطاء اور لغزش انسان کی سرشت ہے۔

علامہ عبد العزیز بخاری نے ” اصول بزودی” کی شرح میں لکھا ہے کہ بویطی نے امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ امام شافعی نے کہا: میں نے اس کتاب کو تصنیف کیا ہے، میں نے اس میں صحت اور صواب کو ترک نہیں کیا، لیکن اس میں ضرور کوئی نہ کوئی بات اللہ تعالی کی کتاب اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہوگی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ( النساء: ۲۸)

اور اگر قرآن اللہ کے غیر کی جانب سے ہوتا تو لوگ اس میں ضرور بہت سے اختلاف پاتے

لہذا تم کو اس کتاب میں جو بات کتاب اللہ اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ملے اس کو چھوڑ دو کیونکہ میں کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف رجوع کرنے والا ہوں، مزنی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام شافعی کی کتاب ” الرسالۃ” ان کے سامنے اسی مرتبہ پڑھی اور ہر مرتبہ امام شافعی اس میں کسی خطاء پر مطلع ہوئے بالآخر امام شافعی نے فرمایا: اب چھوڑ دو اللہ تعالی اس بات سے انکار فرماتا ہے کہ اس کی کتاب کے سوا اور کوئی کتاب صحیح ہو ۔

رد المختار علی الدر المختار ج 1 ص ۱۰۴ – ۱۰۳ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )

امام ابوحنیفہ نے بعض مسائل میں اپنے شاگردوں امام ابو یوسف اور امام محمد کے اقوال کی طرف رجوع کرلیا، اسی طرح امام مالک نے بعض مسائل میں رجوع کرلیا امام شافعی کے تقریباً ہر مسئلہ میں دو قول ہیں، ایک قول قدیم اور ایک قول جدید قول جدید میں قول قدیم سے رجوع فرمالیا ہے اسی طرح امام احمد کے بھی تقریباً ہر مسئلہ میں دو قول ہیں اور بعد کے قول میں پہلے قول سے رجوع فرمالیا ہے۔

سو میں نے بھی بعض مسائل میں رجوع کر کے اپنے دامن کو ان نفوس قدسیہ کے مقدس دامن کے ساتھ وابستہ کیا ہے اور اپنے عجز وانکسار اور للہیت کو واضح کیا ہے، کیونکہ وہی شخص کسی مسئلہ میں رجوع نہیں کرتا، جو اپنے آپ کو ہمہ دان اور غلطیوں سے مبرا اور منزہ جانتا ہو اور ہر قسم کی خطاء سے پاک ہونا تو صرف اللہ عزوجل کی صفت ہے اور عصمت تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا متوفی ۱۳۴۰ ھ فرماتے ہیں:

شاہ ( عبد العزیز محدث دہلوی) صاحب سے اس مسئلہ میں غلطی ہوئی اور وہ نہ فقط فتاوی بلکہ تفسیر عزیزی میں بھی ہے اور ایک نہ ان کا فتاوی بلکہ کسی بشر غیر معصوم کی کوئی کتاب ایسی نہیں، جس میں سے کچھ متروک نہ ہو، سیدنا امام مالک رضی عجز وانکسار اور للہیت کو واضح کیا ہے، کیونکہ وہی شخص کسی مسئلہ میں رجوع نہیں کرتا، جو اپنے آپ کو ہمہ دان اور غلطیوں سے مبرا اور منزہ جانتا ہو اور ہر قسم کی خطاء سے پاک ہونا تو صرف اللہ عزوجل کی صفت ہے اور عصمت تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا متوفی ۱۳۴۰ ھ فرماتے ہیں:

شاہ ( عبد العزیز محدث دہلوی) صاحب سے اس مسئلہ میں غلطی ہوئی اور وہ نہ فقط فتاوی بلکہ تفسیر عزیزی میں بھی ہے اور ایک نہ ان کا فتاوی بلکہ کسی بشر غیر معصوم کی کوئی کتاب ایسی نہیں، جس میں سے کچھ متروک نہ ہو، سیدنا امام مالک  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

” كل ماخوذ من قوله ومردود عليه الا صاحب هذا القبر صلی اللہ علیہ وسلم

ہر شخص کے قول سے کچھ لیا بھی جاتا ہے اور کچھ رد بھی کیا جاتا ہے، ماسوا صاحب گنبد خضراء صلی عجز وانکسار اور للہیت کو واضح کیا ہے، کیونکہ وہی شخص کسی مسئلہ میں رجوع نہیں کرتا، جو اپنے آپ کو ہمہ دان اور غلطیوں سے مبرا اور منزہ جانتا ہو اور ہر قسم کی خطاء سے پاک ہونا تو صرف اللہ عزوجل کی صفت ہے اور عصمت تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا متوفی ۱۳۴۰ ھ فرماتے ہیں:

شاہ ( عبد العزیز محدث دہلوی) صاحب سے اس مسئلہ میں غلطی ہوئی اور وہ نہ فقط فتاوی بلکہ تفسیر عزیزی میں بھی ہے اور ایک نہ ان کا فتاوی بلکہ کسی بشر غیر معصوم کی کوئی کتاب ایسی نہیں، جس میں سے کچھ متروک نہ ہو، سیدنا امام مالک رضی عجز وانکسار اور للہیت کو واضح کیا ہے، کیونکہ وہی شخص کسی مسئلہ میں رجوع نہیں کرتا، جو اپنے آپ کو ہمہ دان اور غلطیوں سے مبرا اور منزہ جانتا ہو اور ہر قسم کی خطاء سے پاک ہونا تو صرف اللہ عزوجل کی صفت ہے اور عصمت تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا متوفی ۱۳۴۰ ھ فرماتے ہیں:

شاہ ( عبد العزیز محدث دہلوی) صاحب سے اس مسئلہ میں غلطی ہوئی اور وہ نہ فقط فتاوی بلکہ تفسیر عزیزی میں بھی ہے اور ایک نہ ان کا فتاوی بلکہ کسی بشر غیر معصوم کی کوئی کتاب ایسی نہیں، جس میں سے کچھ متروک نہ ہو، سیدنا امام مالک  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

” كل ماخوذ من قوله ومردود عليه الا صاحب هذا القبر صلی اللہ علیہ وسلم

ہر شخص کے قول سے کچھ لیا بھی جاتا ہے اور کچھ رد بھی کیا جاتا ہے، ماسوا صاحب گنبد خضراء صلی کے ۔ (فتاوی رضویه ج ۸ ص ۱۳۵۶ مکتبہ رضو یا کراچی)

الحمد للہ رب العلمین ! میں نے ” شرح صحیح مسلم کی بارہ اور قبیان القرآن” کی تین عبارات سے رجوع کر لیا ہے ان کی تفصیل شرح صحیح مسلم جو کے آخر میں ص ۱۲۶۴ – ۱۲۶۳، الطبع الثالث عشر، شوال ۱۴۲۶ھ/ نومبر ۲۰۰۵ء پر مذکور ہے۔