کتاب الحیض باب 28 حدیث نمبر 331
۲۸ – بَابُ إِذَا رَاتِ الْمُسْتَحَاضَةُ الطَّهِّرَ
جب مستحاضہ طہر کو دیکھ لے
یہ باب اس کے بیان میں ہے کہ جب مستحاضہ طہر کو دیکھ لے یعنی جب اس کا خون منقطع ہوجائے تو وہ غسل کرکے نماز پڑھ لے، خواہ اس کا طہر ایک ساعت کا ہو اس کی دلیل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اثر ہے، جس کا عنقریب ذکر کیا جائے گا۔
حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ اس عنوان کی شرح میں لکھتے ہیں:
یعنی جب مستحاضہ کے لیے رگ کا خون حیض کے خون سے متمیز ہوجائے تو استحاضہ کے زمانہ کو طہر کہا جائے گا کیونکہ وہ حیض کے زمانہ کی بہ نسبت طہر ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے خون کے انقطاع کا ارادہ کیا جائے اور پہلا معنی عبارت کے زیادہ موافق ہے۔
(فتح الباری ج ۱ ص ۸۳۹ دار المعرفہ بیروت 1426ھ)
حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ حافظ ابن حجر کا رد کرتے ہیں:
اس عبارت میں کئی خدشات ہیں: (۱) یہ عبارت اس پر دلالت کرتی ہے کہ مستحاضہ کا خون دائما جاری ہو لیکن وہ حیض کے خون میں اور رگ کے خون میں تمیز کرسکتی ہو جب کہ اس عنوان کا معنی ہے : مستحاضہ طہر کو دیکھے اور طہر اس وقت ہوگا جب خون منقطع ہوجائے اور اس قائل نے کہا ہے کہ اس کا خون مستمر ہو تو پھر یہ طہر کیسے ہو گا ! (۲) اس نے استحاضہ کے خون کو مجاز اطہر کہا ہے اور بغیر ضرورت کے کسی عبارت کو مجاز پر محمول نہیں کیا جاتا (۳) اس نے کہا: یہ معنی عبارت کے سیاق کے زیادہ موافق ہے۔ یہ کہنا بھی غلط ہے بلکہ سیاق عبارت کے موافق یہ ہے کہ وہ طہر کو دیکھنے یعنی اس کا خون منقطع ہوجائے۔
امام بخاری ایک اثر ذکر کرتے ہیں :
قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ تَغْتَسِلُ وَتُصَلَّى وَلَوْ سَاعَةً ،وَيَأْتِيهَا زَوْجُهَا إِذَا صَلَّتْ الصَّلوةُ أَعْظَمُ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : مستحاضہ غسل کرے اور نماز پڑھے، خواہ ایک ساعت کے لیے حیض منقطع ہوا ہو اور جب وہ نماز پڑھ لے تو اس کا خاوند اس سے مباشرت کرئے نماز اعظم ہے۔
اس اثر کی اصل یہ حدیث ہے:
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ آل انس کی ایک عورت کو استحاضہ آگیا، انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کروں، حضرت ابن عباس نے کہا: جب تک وہ خون کی جولانی دیکھ رہی ہے تو نماز نہ پڑھے اور جب وہ طہر کو دیکھے، خواہ وہ دن کی ایک ساعت میں ہو تو وہ غسل کرکے نماز پڑھے۔ (سنن دارمی : ۸۰۳ دارالمعرفة بیروت ۱۴۲۱ھ )
۳۳۱- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ زُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَال َالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلوةَ ، وَإِذَا اَدْبَرَتْ فَاغْسِلِى عَنكِ الدَّمَ وَصَلى (سنن ابوداؤد: ۳۳۱)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں احمد بن یونس نے حدیث بیان کی از زبیر، انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی از عروه از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حیض آئے تو تم نماز چھوڑ دو اور جب حیض چلا جائے تو تم اپنے جسم سے خون کو دھوؤ اور نماز پڑھو۔
اس حدیث کی شرح کے لیے صحیح البخاری : ۲۲۸ کا مطالعہ کریں، وہاں اس کا عنوان تھا: خون کو دھونا اور یہاں عنوان ہے: جب مستحاضہ طہر کو دیکھے اور اس حدیث میں یہ دونوں امر ہیں۔