کتاب التیمم باب 5 حدیث نمبر 339
٥ – بَابُ التَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ
چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کرنا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ تیمم میں ایک ضرب ہے اور اس ضرب سے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کیا جائے ۔
علامہ ابن حجر عسقلانی نے اس باب کی شرح میں کہا ہے کہ یہ واجب ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۱۴ دار المعرفة بیروت 1426ھ )
علامہ عینی نے اس پر رد کیا ہے کہ باب کے عنوان میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے جو اس کے وجوب پر دلالت کرے۔(عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
نیز حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:
امام بخاری نے اس عنوان کو جزم کے صیغہ کے ساتھ لکھا ہے، حالانکہ اس میں اختلاف مشہور ہے کیونکہ ایک ضرب کے ساتھ تیمم کرنے کی دلیل قوی ہے، کیونکہ اس حدیث کے علاوہ جو اور احادیث تیمم کی صفت میں وارد ہیں ان میں حضرت ابوجہیم اور حضرت عمار کی حدیثوں کے علاوہ کوئی حدیث صحیح نہیں ہے اور ان کے علاوہ ضعیف روایات ہیں یا ان کے مرفوع یا موقوف ہونے میں اختلاف ہے اور راجح یہ ہے کہ وہ غیر مرفوع ہیں اور رہی حضرت ابوجہیم کی حدیث تو اس میں دو ہاتھوں کاغذ کر مجملا ہے اور رہی حضرت عمار کی حدیث تو صحیحین کے مطابق اس میں ہتھیلیوں کا ذکر ہے اور کہنیوں کا ذکر سنن میں ہے اور ایک روایت میں نصف ذراع کا ذکر ہے اور ایک روایت میں بغلوں تک کا ذکر ہے اور جو کہنیوں تک کی روایت ہے اسی طرح جو نصف ذراع (ہاتھ ) کی روایت ہے اس میں بحث ہے اور جو بغلوں تک کی روایت ہے اس کے متعلق امام شافعی وغیرہ نے کہا ہے: اگر یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے واقع ہوا ہے تو اس کے بعد جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تیمم ہے وہ اس کے لیے ناسخ ہے اور اگر یہ آپ کے امر کے بغیر ہوا ہے تو حجت وہ طریقہ ہے، جس کا آپ نے حکم دیا ہے اور صحیحین کی جس حدیث میں چہرے اور ہتھیلیوں پر اقتصار ہے ( جو اس باب کی حدیث ہے ) اس کی تقویت اس سے ہوتی ہے کہ حضرت عمار، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسی پر فتوی دیتے تھے اور حدیث کا راوی اس حدیث کی مراد کو دوسروں سے زیادہ جاننے والا ہے خصوصاً وہ راوی جو صحابی اور مجتہد ہو اور عنقریب اس پر کلام اس باب میں آئے گا، جس میں ایک ضرب پر اقتصار کو بیان کیا گیا ہے۔(لیکن حافظ ابن حجر بھول گئے اور اس باب میں انہوں نے اس پر کلام نہیں کیا دیکھئے : فتح الباری ج ۲ ص ۲۶-۲۵ دار المعرفۃ بیروت 1426ھ ) ( فتح الباری ج ۲ ص ۱۵ دار المعرفہ بیروت 1426ھ )
حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :
اس قائل کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ حضرت ابوجہیم اور حضرت عمار کی حدیثوں کے علاوہ اور کوئی حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب کہنیوں سمیت کلائیوں کے لیے ہے امام دار قطنی نے کہا: اس حدیث کے تمام راوی ثقات ہیں۔ (سنن دار قطنی : ۶۷۹) اور حاکم نے کہا: اس حدیث کی اسناد صحیح ہے اور ذہبی نے بھی کہا: اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔ (المستدرک ج ۱ص۱۸۰) اور جس نے اس حدیث کی صحت کا انکار کیا ہے اس کے قول کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا اگر تم یہ اعتراض کرو کہ ایک جماعت نے اس حدیث کو موقوفا روایت کیا ہے تو میں کہوں گا کہ اس کا مرفوع ہونا زیادہ قوی اور زیادہ ثابت ہے کیونکہ وہ دو وجہوں سے مسند ہے اور اس قائل کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ حضرت ابوجہیم کی حدیث میں دو ہاتھوں کا ذکر مجمل ہے کیونکہ اس پر اجمال کی تعریف صادق نہیں آتی بلکہ وہ مطلق ہے اور ہتھیلیوں اور کہنیوں اور اس سے آگے تک ہاتھ کے حصہ کو شامل ہے اس حدیث میں ذکر ہے: آپ نے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا۔ (صحیح بخاری: ۳۳۷) اگرچہ صحیح بخاری کی روایت میں ہاتھوں کا ذکر مطلق اور عام ہے لیکن امام دار قطنی نے ہاتھوں کی تخصیص کلائیوں کے ساتھ کردی ہے انہوں نے حضرت ابوجہیم کی روایت میں ذکر کیا:
پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور کلائیوں پر مسح کیا۔ (سنن دارقطنی :660 دار المعرفه 1422ھ ) لہذا یہ روایت امام بخاری کی روایت کی تفسیر ہے پس امام دارقطنی کی روایت زیادہ واضح اور زیادہ کاشف ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۳ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1421ھ )
میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر کی ساری بحث کی بنیاد یہ تھی کہ دوضربوں کے ساتھ تیمم صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے اور جب علامہ عینی نے یہ ثابت کردیا کہ دوضربوں کے ساتھ تیمم صحیح حدیث سے ثابت ہے تو حافظ ابن حجر کی پوری عبارت ساقط ہوگئی۔
٣٣٩- حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ عَنْ ذَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بنِ ابزی عَنْ أَبِيهِ قَالَ عَمَّارٌ بِهَذَا، وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ثُمَّ أَدْنَاهُمَا مِنْ فِيْهِ ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. وَقَالَ النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ذَرا يَقُولُ عَنِ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ ابَزی . قَالَ الْحَكَمُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِن ابْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَمَّارُ الصَّعِيْدُ الطَّيبُ وَضُوْءُ المُسْلِمِ يَكْفِيهِ مِنَ الْمَاءِ ۔
جامع المسانيد لا ابن الجوزی : ۵۶۶۴ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں حجاج نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے الحکم نے خبر دی از ذر از سعید بن عبد الرحمان بن ابزی از والد خود که حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اس طرح کیا اور شعبہ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان کو اپنے منہ کے قریب کیا، پھر اپنے چہرے پر مسح کیا اور اپنی ہتھیلیوں پر مسح کیا اور نضر نے کہا: ہمیں شعبہ نے از الحکم خبر دی انہوں نے کہا: میں نے ذر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے از عبدالرحمان بن ابزی، حکم نے کہا: میں نے ابن عبدالرحمن از والد خود سنا ہے کہ حضرت عمار نے کہا: پاک مٹی مسلمان کا وضوء ہے وہ اس کو پانی سے کافی ہے۔
اس حدیث کی مکمل شرح گزشتہ حدیث : ۳۳۸ کے تحت گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔