جد الممتار علی رد المحتار*
(عالم عرب سے اشاعت کی خصوصیات و مختصر تعارف )
جد الممتار اعلحضرت عظیم المرتبت الشاہ امام احمدرضا خان نور اللہ مرقدہ کی تعلیقات اور حواشی ہیں *رد المحتار* پر اور رد المحتار *فقہ حنفی* کی بہت مشہور ومعروف اور معتبر کتاب ہے جسکو عرب دنیا میں *حاشیہ ابن عابدین* اور پاکستان و ہندوستان میں *فتاوی شامی* کے نام سے جانا جاتا ہے فقہ حنفی کے مفتیان کرام اپنے فتاوی میں اس کتاب کا استعمال بھی فرماتے ہیں اور رد المحتار در اصل حاشیہ اورشرح ہے *در مختار* کتاب پر جوکہ علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے اور یہ خود شرح ہے *تنویر الابصار* کی جوکہ علامہ تمر تاشی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے
گویاکہ امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ کے جو یہ حواشی ہیں رد المحتار کے ساتھ ساتھ وہ در مختار پر بھی ہے اور تنویر الابصار پر بھی اور اعلحضرت رحمۃ اللہ علیہ نے کس طرح کے حواشی و تعلیقات و کلام ان کتب پر فرمایا ہے اسکا زکر اسکی پہلی جلد میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے
یہ تمام باتیں لکھنے کا مقصد یہ کہ *عالم عرب سے اشاعت* کی کیا کیا خصوصیات ہے
سابقہ تمام اشاعتیں اپنے وقت کے اعتبار سے نہایت شاندار وجاندار تھی لیکن عالم عرب سے اشاعت سابقہ تمام اشاعتوں سے ممتاز ہے اسکی وجہ یہ ہے سب سے پہلے اسکی مکمل سات جلدوں کی نظر ثانی از سر نو کی گئی ہے اور نظر ثانی میں کچھ لفظی و معنوی اغلاط سامنے آئی تو اسکی درستگی کی گئی ہے مزید اس پر عالم عرب وعجم کے معروف علماء کرام کی تقاریظ کو بھی شامل گیا گیا ہے جو کہ اسکے حسن میں مزید اضافے کا باعث ہے مزید اسی طریقے سے اسکے حاشیے میں
در مختار ، ردالمحتار(فتاوی شامی) پر اعلحضرت رحمۃ اللہ علیہ نے جو کلام ذکر فرمایا ہے اس کتاب کے قاری کو مسئلہ سمجھانے کے لئے جسکے پاس فتوی شامی موجود نہ ہو اور اسکو بھی اعلحضرت کا کلام سمجھ آجائے تو ان عبارتوں کو بھی حاشیے میں ذکر کردیا گیا ہے اسکے علاوہ وہ تخاریج جو سابقہ اشاعتوں کے وقت مخطوط کی صورت میں تھی اور اب مطبوع ہوگئی ہیں تو انکی تخاریج مطبوع سے کی گئی ہے اور مزید کچھ تخاریج بتقضائے بشریت رہ گئی تھی انکی تخاریج بھی کردی گئی ہے
اور یہ کتاب نہایت عمدہ جاپانی کاغذ *شموا* جسکو برانڈ کہا جاتا ہے اس پر شائع ہوئی ہے اور دو کلر کا استعمال اسکو مزید خوبصورت بناتا ہے
جس سے بن سکے تو اس نسخہ کو لازمی لازمی اپنی لائبریری اپنے دار الافتاء کی زینت بنائے اور اس کا ایک بار مکمل مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ اعلحضرت رحمۃ اللہ علیہ کے قلم کی علمی جولانیاں فقہ حنفی پر اس سے زندگی بھر خوب استفادہ کرسکے

حصہ اول ۔۔۔۔ حصہ دوم ۔۔۔ حصہ سوم ۔۔۔۔۔ حصہ چہارم ۔۔۔۔۔ حصہ پنجم ۔۔۔ حصہ ششم ۔۔۔حصہ ہفتم