– بَابُ إِذَا خَافَ الْجُنُبُ عَلَى نَفْسِهِ الْمَرَضَ أَوِ الْمَوْتَ ، أَوْ خَافَ الْعَطَشَ تَيَمَّمَ

جب جنبی کو اپنے نفس پر مرض یا موت کا خطرہ ہو یا انسان کو پیاس کا خوف ہو تو وہ تیمم کرلے

اس عنوان کے تحت تین مسائل ہیں:

(1) جب جنبی کو اپنے نفس کے اوپر غسل سے مرض کا خوف ہو تو پانی حاصل ہونے کے باوجود اس کے لیے تیمم کرنا مباح ہے امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک اگر مرض کے زیادہ ہونے کا خوف ہو تب بھی وہ تیمم کرسکتا ہے اور امام مالک سے ایک روایت ممانعت کی ہے ۔ عطاء اور حسن بصری نے کہا ہے : اس کے لیے تیمم کرنا بالکل جائز نہیں ہے اور طاؤس نے اس کو مکروہ کہا ہے جب پانی نہ ہو تو پھر وہ تیمم کرسکتا ہے اور جب پانی موجود ہو تو پھر تیمم نہیں کرسکتا، امام ابو یوسف اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے۔

(۲) جب جنبی کو اپنے نفس پرغسل کرنے سے موت کا خطرہ ہو تو پھر اس پر اتفاق ہے کہ اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے، “فتاوی قاضی خاں” میں مذکور ہے کہ جب جنبی شہر میں ہو اور تندرست ہو اور سردی کی وجہ سے غسل کرنے سے اس کو ہلاکت کا خطرہ ہو تو اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے اور مسافر کو جب غسل کرنے سے ہلاکت کا خطرہ ہو تو اس کے لیے تیمم کرنا بالاتفاق جائز ہے اور جوشخص شہر میں بے وضوء ہو تو امام ابوحنیفہ کے قول کی تخریج میں اختلاف ہے۔ شیخ الاسلام سرخسی نے اس کو جائز کہا ہے اور الحلوانی نے ناجائز کہا ہے۔

(۳) جب کسی شخص کو اپنے نفس پر پیاس کا خوف ہو تو اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے یا اس کو اپنے ساتھی یا اپنی سواری پر پیاس کا خوف ہو، پھر بھی اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے اور “شرح الوجیز” میں مذکور ہے: اگر کسی شخص کو اپنی جان یا مال پر درندے یا چور کا خطرہ ہو وہ بھی تیمم کرسکتا ہے اگر اس کو اس وقت پیاس لگی ہو یا پیاس کی توقع ہو، خواہ اپنے لیے یا اپنے رفیق کے لیے یا کسی ایسے جانور کے لیے جس کی شرعا مذمت نہیں ہے پھر بھی وہ تیمم کرسکتا ہے اور “مغنی ابن قدامہ” میں مذکور ہے کہ اگر پانی فساق ( غنڈوں) کے پاس ہو اور عورت کو خطرہ ہو کہ اگر وہ پانی لینے گئی تو وہ اس کی آبروریزی کریں گے تو اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے۔

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ یہ تمام ابواب تیمم کے احکام سے متعلق ہیں۔

وَيُذْكُرُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَجْنَبَ فِي لَيْلَة بَارِدَةٍ ، فَتَيَمَّمَ وَ تَلَا ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا) (النساء:۲۹)، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَنفَهُ.

اور ذکر کیا جاتا ہے کہ سردی کی ایک رات میں حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ جنبی ہوگئے انہوں نے تیمم کیا اور یہ آیت پڑھی: اور تم اپنی جانوں کو قتل نہ کرو بے شک اللہ تم پر رحم فرمانے والا ہے (النساء:۲۹) ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ان کو ملامت نہیں کی ۔

حضرت عمرو بن العاص کے غسل کے بجائے تیمم کرنے کی تفصیل اور اس حدیث کی تشریح

حضرت عمرو بن العاص القریشی ابو عبداللہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فتح مکہ سے آٹھ سال پہلے حاضر ہوئے تھے وہ قریش کے زاہدین میں سے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عمان کا حاکم بنایا وہ وہاں حکومت کرتے رہے حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ان سے ۳۷ احادیث مروی ہیں، جن میں سے امام بخاری نے ۳ احادیث روایت کی ہیں، یہ ۴۳ھ میں عید الفطر کے دن مصر میں فوت ہوئے اور یہ اس وقت وہیں پر حکمران تھے ان کے بیٹے حضرت عبداللہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی پھر انہوں نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی اس حدیث کو امام ابوداؤد نے موصولاً روایت کیا ہے:

عبدالرحمان بن جبیر، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: غزوہ ذات السلاسل میں سردی کی ایک رات میں، میں جنبی ہوگیا، مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا، پس میں نے تیمم کرلیا، پھر میں نے اپنے اصحاب کو فجر کی نماز پڑھائی، پھر لوگوں نے اس واقعہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا’ آپ نے فرمایا: اے عمرو! تم نے اپنے اصحاب کو اس حال میں نماز پڑھا دی کہ تم جنبی تھے پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ کس چیز نے مجھے غسل سے روک دیا تھا اور میں نے کہا: میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: لاتقتلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا النساء:۲۹) تم اپنی جانوں کو قتل نہ کرو بے شک اللہ تم پر رحم فرمانے والا ہے (سنن ابوداود : ۳۳۴)

امام ابوداؤد اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔

ذات السلاسل وادی القریٰ کے پیچھے ہے اور یہ مدینہ منورہ سے دس دن کی مسافت پر ہے، سلسل کا معنی جذام ہے اور یہ جگہ جذام کی سرزمین ہے اس لیے اس کو ذات السلاسل کہتے ہیں یہ غزوہ جمادی الاول ۸ ہجری میں ہوا تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو سردی کی وجہ سے حالت جنابت میں تیمم کرنے پر ملامت نہیں کی اور آپ نے ان کے اس عمل کو مقرر اور ثابت رکھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انہوں نے اس تیمم کے ساتھ جو نماز پڑھائی تھی اس کا اعادہ نہیں ہوگا اور یہ حدیث ان لوگوں کے خلاف حجت ہے، جو اس تیمم کے ساتھ نماز کو واجب الاعادہ قرار دیتے ہیں اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس شخص کو وضوء کرنے میں ہلاکت کا خطرہ ہو وہ تیمم کرسکتا ہے، خواہ سخت سردی کی وجہ سے ہلاکت کا خطرہ ہو یا کسی اور وجہ سے خواہ وہ سفر میں ہو یا شہر میں ہو خواہ وہ جنبی ہو یا بے وضوء ہو اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اجتہاد کرتے تھے، اس کی تائید میں درج ذیل حدیث ہے:

باب کے عنوان کی تائید میں ایک اور حدیث اور اس کی تشریح

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں تھے،  ایک شخص ہمارے ساتھ تھا، اس کے سر پر پتھر آ کر لگا جس نے اس کا سر پھاڑ دیا پھر اس کو احتلام ہوگیا، اس نے اپنے اصحاب سے پوچھا: کیا تم میرے لیے تیمم کرنے کی رخصت پاتے ہو انہوں نے کہا: ہم تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں پاتے، تم پانی کے استعمال پر قادر ہو اس نے غسل کیا پس وہ فوت ہوگیا، پھر جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کو اس حادثہ کی خبر دی گئی آپ نے فرمایا: انہوں نے اس قتل کردیا اللہ ان کو قتل کرے ان کو جب اس مسئلہ کا علم نہیں تھا تو انہوں نے کسی سے سوال کیوں نہیں کیا کیونکہ لاعلمی کی شفاء سوال کرنا ہے اس کے لیے تیمم کرنا کافی تھا یا وہ اپنے زخم پر کوئی کپڑا رکھ کر پٹی باندھ لیتا، پھر اس پر مسح کرلیتا اور باقی جسم پر پانی بہالیتا۔ (سنن ابوداؤد :۳۳۶)

امام ابوداؤد اس حدیث کی روایت میں بھی منفرد ہیں۔

اس حدیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجتہاد پر دلیل ہے اور یہ کہ صحابہ کرام کو بعض اوقات اجتہاد میں خطاء ہوجاتی تھی اور یہ کہ مفتی اپنے اجتہاد سے فتوی دے اور اس پر عمل کرکے کوئی شخص ہلاک ہوجائے تو مفتی پر اس کی دیت یا قصاص نہیں ہے نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مختلف امراض میں پرہیز کرنا واجب ہے۔

اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ جب جنبی کو غسل کرنے سے جان کا خطرہ ہو تو وہ تیمم کرسکتا ہے اور یہ امام بخاری کے عنوان پر دوسری حدیث سے استدلال ہے۔

٣٤٥- حَدَّثَنَا بِشُرُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ،هُوَ غندَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِى وَائِلِ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِذَا لَمْ يَجِدالْمَاء لَا يُصَلَّى؟ قَالَ عَبْدُاللَّهِ لَوْ رَخَصْتُ لَهُمْ فِي هذَا كَانَ إِذَا وَجَدَ اَحَدُهُمُ الْبَرْدَ قَالَ هَكَذَا يَعْنِى تَيَمَّمَ ، وَصَلَّى، قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَر؟َ قَال إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَر َقنعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ (جامع المسانيد لابن الجوزی : ۵۶۶۴)

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں بشر بن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد نے حدیث بیان کی، وہ غندر ہیں از شعبه از سلیمان از ابی وائل انہوں نے کہا: حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: جب کوئی شخص پانی نہ پائے تو وہ نماز نہ پڑھے؟ حضرت عبداللہ نے کہا: اگر میں ان کو اس کی اجازت دوں تو جس کو ذرا سی بھی سردی لگے گی وہ اس طرح کرے گا یعنی تیمم کرے گا اور نماز پڑھ لے گا۔ حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں: میں نے کہا: پھر حضرت عمار نے جو حضرت عمر سے کہا تھا، اس کی کیا توجیہ ہوگی ؟ حضرت ابن مسعود نے کہا: میں نے نہیں دیکھا کہ حضرت عمر حضرت عمار کے قول سے مطمئن ہوئے ہوں۔

اس حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۳۳۸ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: آیا تیمم میں ہاتھوں پر پھونک ماری جائے گی ؟ اور یہاں اس کا عنوان ہے : جب جنبی کو اپنے آپ پر مرض یا ہلاکت کا خطرہ ہو یا کسی شخص کو پیاس کا خوف ہو تو وہ تیمم کرسکتا ہے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس جملہ میں ہے : یعنی وہ تیمم کرے گا اور نماز پڑھے گا۔

اس حدیث کے تمام رجال کا تعارف ہوچکا ہے۔