نحمده ونصلي ونسلم على رسوله الكريم

٨- كِتَابُ الصَّلوة

نماز کا بیان

یہ کتاب نماز کے احکام کے بیان میں ہے، طہارت نماز کی شرط ہے اور نماز مشروط ہے امام بخاری جب شرط کے متعلق احادیث روایت کرنے سے فارغ ہوگئے تو پھر انہوں نے مشروط کے متعلق احادیث کی روایت کا آغاز کیا۔

صلوۃ” کا غالب معنی لغت میں دعا ہے قرآن مجید میں ہے:

صَلِّ عَلَيْهِم . ( التوبه : ۱۰۳)

آپ ان کے حق میں دعا کیجئے ۔

اور صلوۃ ” کا معنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رحمت طلب کرنا ہے یعنی آپ پر درود پڑھنا قرآن مجید میں ہے:

يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ. (الاحزاب :56)

اے ایمان والو! نبی پر درود پڑھو۔

دعا اور درود نماز کے اجزاء میں سے ہیں، سو کل کا نام اشرف اجزاء پر رکھ دیا گیا۔ عرب کا مقولہ ہے:

صليت العود على النار.

میں نے ٹیڑھی لکڑی کو سیدھا کرنے کے لیے آگ پر رکھا۔

جس طرح ٹیڑھی لکڑی کو آگ کی حرارت سے سیدھا کیا جاتا ہے اسی طرح نماز میں خوف الہی کی حرارت سے نفس کی کجی کو سیدھا کیا جاتا ہے۔

۱ – بَابٌ كَيْفَ فُرِضَتِ الصَّلَوَاتُ فِي الْإِسْرَاءِ

شب معراج میں نمازوں کو فرض کیے جانے کی کیفیت

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ شب معراج میں نمازوں کو کس کیفیت سے فرض کیا گیا۔

جمهور سلف صالحین اس پر متفق ہیں کہ آپ کو آپ کے بدن اور آپ کی روح کے ساتھ معراج ہوئی ہے مکہ سے بیت المقدس تک معراج نص قرآن سے ثابت ہے اور بیت المقدس سے پہلے آسمان تک اور پہلے آسمان سے سدرۃ المنتہی تک احادیث مشہورہ سے ثابت ہے معراج کب ہوئی اس میں بھی اختلاف ہے۔

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ لکھتے ہیں:

امام بیہقی نے موسیٰ بن عقبہ سے روایت کی ہے کہ ہجرت سے ایک سال پہلے معراج ہوئی سدی سے روایت ہے کہ ہجرت سے سولہ ماہ پہلے معراج ہوئی’ سدی کے قول کے مطابق ذوالقعدۃ میں معراج ہوئی اور زہری کے قول کے مطابق ربیع الاول میں معراج ہوئی اور ایک قول یہ ہے کہ رجب کی ستائیسویں شب میں معراج ہوئی حافظ عبد الغنی بن سرور المقدسی کا یہی مختار ہے۔

عمدۃ القاری ج 4 ص ۵۹ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )

امام بخاری فرماتے ہیں:

وقال ابنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ فِي حَدِيثِ هِرَ قَلَ فَقَالَ يَأْمُرُنَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلوةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ.

حضرت ابن عباس رضی اللہ نے کہا: مجھے حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ  نے ہرقل کی حدیث میں بیان کیا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پڑھنے،سچ کی بولنے اور پاک دامن رہنے کا حکم دیتے ہیں۔

اس تعلیق کی اصل صحیح البخاری : 7 کی مفصل روایت ہے امام بخاری نے اس تعلیق کو یہاں اس لیے ذکر کیا ہے کہ نمازوں کو فرض کیے جانے کی کیفیت کی معرفت سے پہلے نفس نماز کی معرفت ہوجائے۔

٣٤٩- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْتُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ أَبُو ذَرٍ يُحَدِتْ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُرِجَ عَنْ سَقْفِ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْت مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِى حِكْمَةً وَاِيْمَانًا، فَافْرَغَهُ فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِی فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَلَمَّا جِئْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ افْتَحُ ، قَالَ مَنْ هَذَا؟ قَالَ جبْرِيلُ قَالَ هَلْ مَعَكَ اَحَدٌ؟ قَالَ نَعَمْ، مَعِيَ مُحَمَّدصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا فَتَحَ عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَإِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ، علی يمِينِهِ أَسْوِدَةٌ ، وَعَلَى يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ ، إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى ، فَقَالَ مرحَباً بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْابْنِ الصَّالِحِ، قُلْتُ لِجبريل، منْ هَذَا قَالَ هَذَا آدَمُ، وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةٌ عَنْ يَمِينِهِ وشِمَالِهِ نَسَم بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِيْن مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلَ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ عَنْ يمينه ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، حتی عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ، فَقَالَ لِخَازِنِها افتح فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُ ، فَفَتَح . قَالَ انس فَذَكَرَ انَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ ادَمَ وَإِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعِيسَى، وَإِبْرَاهِيمَ، صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ،وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ انَّهُ ذَكَرَ انَّهُ وَجَد َادَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءالسَّادِسَةِ ، قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ بِالنَّبِيِّ صَلَّىِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْآخِ الصَّالِحِ . فَقُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ هَذَا إِدْرِيسُ ثم مَرَرْتُ بِمُوسَى، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِح وَالْآخِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ هَذَا مُوسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالْآخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِي الصَّالِحِ، قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ هَذَا عِيسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَرْ بالنَّبِيِّ الصَّالِح والابن الصَّالِحِ ، قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْم ان ابْنَ عَبَّاسِ وَابَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِي كَانَا يَقُولَانِ قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّی ظَهَرْتُ لِمُسْتَوَى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلوةٌ فَرَجَعْتُ بِذلِكَ ، حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَكَ عَلَى أُمَّتِكَ ؟ قُلْتُ فَرَضَ خَمْسِین صلوةٌ قَالَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ ، فَإِنَّ أَمَتَكَ لَا تُطِيقُ ذلِكَ ، فَرَاجَعَنِي فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إلی مُوسَى قُلْتُ وَضَعَ شَطْرَهَا، فَقَالَ رَاجِعُ رَبَّكَ ، فَإِنَّ امتك لا تُطِيقُ ، فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ، فَإِنَّ أَمَتَكَ لا تطيق ذلك،فَراجَعْتُهُ ، فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ ، لَا يُبدل الْقَوْلُ لَدَى، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ رَاجِعُ رَبَّكَ فقلت استَحْيَيْتُ مِن رَّبِّي ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى انتهى بي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَغَشِيَهَا الْوَان لَا أَدْرِى ماهي، ثُمَّ ادْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا فِيها حَبَائِلُ اللولو، وَإِذَا تَرَابُهَا الْمِسْكُ . اطراف الحديث : ۱۶۳۶ – ۳۳۴۲|

صحیح مسلم : ۱۶۳ الرقم المسلسل : ۴۰۸ السنن الكبرى للنسائی: ۳۱۴ سنن نسائی:۱۳۹۹ – ۴۴۸ جامع المسانيد لابن الجوزی : ۲۹۲ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ جامع المسانيد لابن الجوزی: ۱۳۸۵ مكتبة الرشد 1426ھ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں یحی بن بکیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از یونس از ابن شہاب از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا: حضرت ابوذر رضی الله عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر کی چھت میں شگاف کیا گیا اور میں اس وقت مکہ میں تھا پھر حضرت جبریل نازل ہوئے، پس میرے سینہ کو شق کیا پھر انہوں نے اس کو زمزم کے پانی سے دھویا پھر وہ سونے کا طشت لے کر آئے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، پس اس کو میرے سینہ میں انڈیل دیا، پھر اس کو بند کردیا، پھر مجھے آسمان دنیا کی طرف چڑھایا پس جب میں آسمان دنیا کی طرف آیا تو حضرت جبریل نے آسمان کے محافظ سے کہا : کھولو! اس نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل ہے اس نے کہا: کیا آپ کے ساتھ کوئی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! میرے ساتھ (سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس نے کہا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ! پس جب اس نے آسمان کو کھولا تو ہم آسمان دنیا کے اوپر گئے وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اس کی دائیں طرف بھی کچھ لوگ تھے اور بائیں طرف بھی کچھ لوگ تھے جب وہ دائیں طرف دیکھتے تو ہنستے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو روتے، پس انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید ہو میں نے حضرت جبریل سے کہا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ آدم (علیہ السلام) ہیں، اور یہ لوگ جو ان کی دائیں طرف اور بائیں طرف ہیں یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں، سو ان میں سے جو دائیں طرف والے ہیں وہ اہل جنت ہیں اور جو لوگ بائیں طرف والے ہیں وہ اہل دوزخ ہیں، پس جب وہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو بنستے ہیں اور جب وہ بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں حتی کہ حضرت جبریل نے مجھے دوسرے آسمان کی طرف چڑھایا، پھر اس کے محافظ سے کہا: کھولو اس کے محافظ نے ان سے اس طرح کام کیا، جس طرح پہلے آسمان کے محافظ نے کلام کیا تھا پھر اس نے ( آسمان کا دروازہ ) کھول ديا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا : آپ نے آسمانوں میں حضرت آدم حضرت ادریس حضرت موسی حضرت عیسی اور حضرت ابراہیم صلوات الله علیہم سے ملاقات کی اور یہ نہیں بیان کیا کہ وہ کن آسمانوں میں تھے البتہ انہوں نے یہ بیان کیا کہ آپ نے آسمان دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات کی اور حضرت ابراہیم  علیہ السلام سے چھٹے آسمان میں ملاقات کی ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا:جب حضرت جبریل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ادریس  علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید ہو میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل نے کہا: یہ حضرت ادریس علیہ السلام ہیں، پھر میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید ہو میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل نے کہا: یہ حضرت موسی علیہ السلام ہیں، پھر میں حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید ہو میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: یہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں پھر میں حضرت ابراہیم علیہ  السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید ہوا میں نے کہا: یہ کون ہیں تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ ابن شہاب الزہری نے کہا: مجھے ابن حزم نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابوحبہ انصاری دونوں یہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے اور اوپر چڑھایا گیا، حتیٰ کہ میں مقام استوی پر چڑھا جہاں میں نے قلموں کے چلنے کی آواز سنی ابن حزم اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کردیں میں ان نمازوں کو لے کر لوٹا حتی کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انہوں نے کہا: آپ کے لیے آپ کی امت پر اللہ تعالٰی نے کیا فرض کیا؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں فرض کی ہیں، انہوں نے کہا: آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت ان کی طاقت نہیں رکھتی، انہوں نے مجھے واپس کردیا پس اللہ نے آدھی نمازیں کم کردیں، میں حضرت موسی کی طرف گیا اور میں نے کہا: اللہ نے آدھی نمازیں کم کردیں انہوں نے پھر کہا: آپ اپنے رب کے پاس جائیں، کیونکہ آپ کی امت ان کی طاقت نہیں رکھتی میں پھر اللہ تعالی کے پاس گیا تو اللہ تعالٰی نے فرمایا: یہ (فرض) پانچ نمازیں ہیں اور (اجر میں ) پچاس ہیں، میرا قول میرے نزدیک تبدیل نہیں کیا جاتا میں پھر حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے کہا: آپ پھر اپنے رب کے پاس جائیے میں نے کہا: (اب) مجھے اپنے رب سے حیا آتی ہے پھر حضرت جبریل مجھے لے گئے ، حتی کہ سدرۃ المنتہی تک پہنچے اور اس کو مختلف رنگوں نے ڈھانپ رکھا تھا، میں از خود نہیں جانتا کہ وہ کیا ہیں، پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا اچانک میں نے جنت میں موتی کی لڑیاں دیکھیں اور جنت کی مٹی مشک تھی۔

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں نماز فرض کیے جانے کی کیفیت کو بیان کیا گیا

اس حدیث کے چھ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف پہلے کیا جاچکا ہے۔

اس کی توجیہ کہ آپ نے حضرت ام ھانی کے گھر کو اپنا گھر فرمایا اور اس کی حکمت کہ فرشتے دروازہ سے آنے کے بجائے چھت میں شگاف کرکے آئے

اس حدیث میں مذکور ہے: میرے گھر کی چھت میں شگاف کیا گیا اور میں اس وقت مکہ میں تھا۔

اس پر یہ اعتراض ہے کہ شب معراج، آپ حضرت ام ھانی رضی اللہ عنہا کے گھر تھے تو آپ نے یہ کیسے فرمایا کہ میرے گھر کی چھت میں شگاف کیا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تھوڑی سی مناسبت کی وجہ سے بھی اپنی طرف اضافت کردی جاتی ہے حضرت ام ھانی آپ کی چچازاد بہن تھیں اس لیے آپ نے ان کے گھر کو اپنا گھر فرمایا، پھر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ بعض روایات میں ہے کہ آپ اس رات حطیم کعبہ میں تھے تو اس سے مطابقت کس طرح ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ زمزم سے سینہ دھونے کے بعد آپ حضرت ام ھانی کے گھر چلے گئے تھے پھر وہاں سے آپ کو معراج کرائی گئی فرشتے گھر کے دروازہ سے نہیں آئے بلکہ چھت میں شگاف کرکے چھت کے وسط سے آئے، اس میں یہ حکمت تھی کہ فرشتوں نے آنے کے لیے معمول کے خلاف راستہ اختیار کیا تاکہ یہ اس پر دلیل ہو کہ واقعہ معراج خلاف معمول اور خلاف عادت اُمور پر مشتمل ہے نیز اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس سفر میں بالآخر اوپر کی طرف جاتا ہے۔

شق صدر کی تعداد اور اس کی حکمت

اس حدیث میں مذکور ہے کہ میرے سینہ کو شق کیا گیا۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسند احمد میں روایت ہے کہ آپ کا سینہ اس وقت چاک کیا گیا تھا، جب آپ بچپن میں بنو سعد میں حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کا سینہ دو بار چاک کیا گیا اور شق صدر میں حکمت یہ تھی کہ آپ کے سینہ سے خون کا وہ لوتھڑا نکال دیا جائے، جس کے متعلق فرشتوں نے کہا تھا: یہ آپ میں شیطان کا حصہ تھا، اور دوسری بارشق صدر اس لیے کیا گیا کہ شب معراج میں جن حقائق کو آپ نے دیکھا تھا، ان کی صلاحیت آپ کے سینہ میں رکھ دی جائے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک بار اور آپ کا شق صدر ہوا تھا، جب غار حراء میں حضرت جبریل آپ کے پاس وحی لے کر آئے تھے اور اس میں حکمت یہ تھی کہ آپ کے سینہ میں وحی قبول کرنے کی صلاحیت رکھ دی جائے ۔

سونے کے طشت کی توجیہ اور حکمت کا معنی

اس حدیث میں مذکور ہے: پھر انہوں نے اس قلب کو زمزم کے پانی سے دھویا پھر وہ سونے کا طشت لے کر آئے جو ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا تھا۔

زمزم کے پانی سے دھونے کی حکمت یہ ہے کہ زمزم کو آپ کے قلب کے ساتھ مس ہونے کا شرف حاصل ہوجائے اور طشت کا معنی تھال ہے سونے کے طشت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ سونے کا استعمال مردوں پر حرام ہے پھر آپ کے قلب کو سونے کے طشت میں کیوں رکھا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سونے کے برتنوں کا استعمال کرنا ہم پر حرام ہے فرشتوں پر حرام نہیں ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی ممانعت سے پہلے کا ہے اور اصل اشیاء میں اباحت ہے اور ان کے استعمال کی ممانعت مدینہ میں ہجرت کے بعد ہوئی تھی اور یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور سونے کے طشت کی حکمت یہ ہے کہ سونے کے برتن جنت میں ہوں گے اور سونا سب سے قیمتی دھات ہے اور سونے کے خواص میں سے یہ ہے کہ اس کو آگ نہیں کھاتی نہ اس کو مٹی کھاتی ہے نہ اس کو مٹی متغیر کرتی ہے اور سونا ہر دھات سے زیادہ صاف ہوتا ہے۔

اس حدیث میں حکمت کا ذکر ہے حکمت کا معنی علم ہے اس کی تعریف ہے : وہ علم جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی معرفت اور احکام شرعیہ کے ساتھ ہو اور اس کا حامل خواہش نفس کی اتباع سے مجتنب ہو اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ آپ کا شرح صدر لیلۃ المعراج میں ہوا تھا تاکہ اس رات آپ کو جو عظیم نشانیاں دکھائی جانی تھیں، آپ کے دل میں ان کی طمانیت حاصل ہو۔

نسم“ کا معنی اور اس اعتراض کا جواب کہ کفار کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے، پھر حضرت آدم نے اپنی بائیں جانب کفار کی روحوں کو کیسے دیکھا؟

اس حدیث میں “نسم بنیہ“ کے الفاظ ہیں ۔ ” النسم” نسمة‘ کی جمع ہے ” نسمة “ کا معنی روح ہے اور اس سے مراد اولاد آدم کی ارواح ہیں۔ قاضی عیاض نے کہا: اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ اہل نار کی روحیں بھی آسمان میں ہیں اور احادیث میں یہ وارد ہے کہ کفار کی روحیں سجین میں ہیں اور مؤمنین کی روحیں جنت کی نعمتوں میں ہیں. پھر آسمان میں یہ روحیں کیسے جمع ہوگئیں، پھر انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ روحیں بعض اوقات حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کی جاتی ہیں سو جس وقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہونا تھا، اس وقت بھی روحیں حضرت آدم کے سامنے پیش کی گئیں۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید میں یہ تصریح ہے کہ کفار کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گئے، پھر حضرت  آدم علیہ السلام کی بائیں جانب کفار کی روحیں کیسے آگئیں، اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے جنت حضرت آدم علیہ السلام کی دائیں جانب ہو اور دوزخ حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں جانب ہو اور جنت میں مؤمنین کی روحوں اور دوزخ میں کفار کی روحوں کو آپ کے لیے منکشف کردیا گیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان روحوں سے مراد وہ روحیں ہوں، جو ابھی تک اجسام میں داخل نہیں ہوئی تھیں اور روحیں اجسام سے پہلے پیدا کی گئی ہیں اور جن روحوں نے اجسام میں داخل ہونے کے بعد ایمان سے متصف ہونا تھا وہ حضرت آدم کی دائیں طرف رکھی گئی ہوں اور جن روحوں نے کفر کے ساتھ متصف ہونا تھا، ان کو حضرت آدم کی بائیں طرف رکھا گیا ہو۔

ایک روایت میں ہے: حضرت ابراہیم چھٹے آسمان پر تھے دوسری روایت میں ہے: وہ ساتویں آسمان پر تھے اس تعارض کا جواب

اس حدیث میں مذکور ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان میں دیکھا اور دوسری روایت میں ہے: آپ نے حضرت ابراہیم کو ساتویں آسمان میں دیکھا، اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے حضرت ابراہیم چھٹے آسمان میں تھے بعد میں جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اوپر ساتویں آسمان پر گئے تو وہ بھی آپ کے ساتھ ساتویں آسمان پر چلے گئے۔

ابن شہاب ابن حزم اور ابوحبہ کا تعارف

اس حدیث میں ابن شہاب ابن حزم اور ابوحبہ کا ذکر ہے ابن شہاب سے مراد محمد بن مسلم بن شہاب الزہری ہیں اور ابن حزم ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم الانصاری البخاری المدنی ہیں ان کے والد کا نام محمد تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے وہ فقیہ اور فاضل تھے ان کو یوم حرہ میں قتل کردیا گیا، اس وقت ان کی عمر تریپن سال تھی، وہ تابعی تھے لیکن علامہ ابن الاثیر نے ان کا صحابہ میں ذکر کیا ہے الزہری نے ان سے سماع نہیں کیا کیونکہ وہ ان سے پہلے فوت ہو چکے تھے۔

ابوحبہ کے نام میں اختلاف ہے ابو زرعہ نے کہا: ان کا نام عامر ہے ایک قول ہے کہ عمر ہے دوسرا قول ہے ثابت ہے الواقدی نے کہا: مالک ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۶۱ )

“المستوى‘ اور صریف الاقلام “ کا معنی

اس حدیث میں مذکور ہے حتی کہ میں مستوی پر چڑھا، جہاں میں نے قلموں کے چلنے کی آواز سنی۔

مستوى” کا معنی ہے: چڑھنے کی جگہ، عزت والی جگہ۔

صريف الافلام ” کا معنی ہے: اللہ تعالی کے فیصلوں اور اس کی وحی کو فرشتے قلموں سے جو لکھتے ہیں اس کی آواز اور لوح محفوظ سے دیکھ کر جو لکھتے ہیں اور جو کچھ اللہ چاہتا ہے اس کو لکھنے کی آواز اور وہ جو احکام نافذ کرتا ہے اور مخلوق کی جو تدبیر کرتا ہے فرشتے اس کو لکھتے ہیں اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ کسی چیز کو لکھنے یا لکھانے سے مستغنی ہے اس نے اپنی کسی حکمت سے فرشتوں کے لکھنے کا انتظام کیا ہوا ہے۔

نمازوں میں تخفیف کی تفصیل

اس حدیث میں مذکور ہے : پس اللہ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کردیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سفارش سے ان میں سے آدھی کم کردیں اور مالک بن صعصہ کی روایت میں ہے: ان میں سے دس کم کردیں اور ثابت کی روایت میں ہے : پانچ کم کردیں اس باب کی روایت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کے پاس گئے، پہلی مرتبہ آدھی نمازیں کم کیں، دوسری مرتبہ تیرہ نمازیں کم کیں، تیسری مرتبہ سات نمازیں کم کیں اور چوتھی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض کردیں اور ان کا اجر پچاس نمازیں کردیا۔

السدرة المنتهى كا معنى

السدرة ” کا معنی ہے: بیر کا درخت، یہ درخت ساتویں آسمان پر ہے اور اس کا سایا ساتوں آسمانوں پر ہے ایک روایت میں ہے: یہ درخت چھٹے آسمان پر ہے ان میں تطبیق اس طرح ہے کہ اس کی جڑ چھٹے آسمان میں ہے اور اس کا تنا ساتویں آسمان میں ہے۔ اس کو منتھی اس لیے کہتے ہیں کہ ہر مقرب فرشتے اور ہر نبی مرسل کے علم کی اس پر انتہاء ہوجاتی ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا: یہ درخت عرش کے نیچے ہے کوئی فرشتہ اس سے تجاوز نہیں کر سکتا، نہ کوئی نبی اس سے تجاوز کرسکتا ہے زمین سے جو چیزیں اوپر چڑھتی ہیں اس درخت پر ان کی انتہا ہوجاتی ہے ایک قول ہے: شہداء کی روحوں کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے ایک قول ہے: مومن کی روح کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے اور ملائکہ مقربین اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔

پانچ نمازوں کی فرضیت اور اس سے پہلے کتنی نمازیں فرض تھیں

علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ پانچ نمازیں شب معراج میں فرض کی گئیں ہیں امام ابن اسحاق نے کہا ہے کہ پھر جبریل علیہ السلام  آئے اور انہوں نے وادی کی ایک جانب میں ایڑی ماری تو وہاں پر پانی کا چشمہ جاری ہوگیا پھر حضرت جبریل نے اس چشمہ سے وضوء کیا اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ رہے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ پکڑ کر وہاں آئے اور آپ نے اس چشمہ سے اسی طرح وضوء کیا، جس طرح حضرت جبریل نے وضوء کیا تھا، پھر آپ نے اور حضرت خدیجہ نے دو رکعت نماز پڑھی جس طرح حضرت جبریل نے دو رکعت نماز پڑھی تھی ایک جماعت نے کہا ہے: اس سے پہلے کوئی نماز فرض نہیں تھی، سوا اس کے کہ آپ کو رات میں قیام کا حکم دیا گیا تھا، جس میں رکعات کی کوئی تحدید نہیں تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے دو تہائی حصہ میں  ایک تہائی حصہ میں قیام فرماتے تھے آپ کے ساتھ صحابہ بھی قیام کرتے تھے۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی المتوفی ۱۰۸۸ ھ لکھتے ہیں:

اہل سیر کا اس پر اجماع ہے کہ وضوء اور غسل مکہ میں نماز کے ساتھ جبریل علیہ السلام کی تعلیم سے فرض ہوئے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز بغیر وضوء کے نہیں پڑھی۔

علامه سید محمد امین شامی متوفی 1252ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

آیت وضوء مدنی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے بھی نماز پڑھتے تھے اور آپ کے اصحاب بھی،  اس میں اختلاف ہے کہ پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے کوئی نماز فرض تھی یا نہیں، ایک قول یہ ہے کہ اس سے پہلے فجر اور عصر کی نماز میں فرض

تھیں، کیونکہ قرآن مجید میں ہے:

وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا . (ط :۱۳۰)

 

اور آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے، طلوع آفتاب سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے۔

در مختار وردالمختارج ا ص ۱۸۱ – ۱۸۰ دار احیاء التراث العربی بیروت )

اور سورۃ المزمل سے ثابت ہے کہ رات کی نماز بھی فرض تھی۔

تمام نبیوں میں سے صرف حضرت موسیٰ نے آپ کی امت کے لیے نمازوں میں تخفیف کی سفارش کی، اس کی وجہ

ایک سوال یہ ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تمام نبیوں میں سے صرف سیدنا محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے نمازوں میں تخفیف کی سفارش کی اس کا جواب یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ دیکھا کہ آپ کی امت اللہ تعالی کے نزدیک بہت مکرم ہے اور آپ نے یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ ! مجھے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے بنادے۔ (کتاب السنہ ج ا ص  305 تاریخ دمشق ج64 ص ۱۹۰ در منثور ج ۳ ص 488) اس وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ کی امت کے لیے نمازوں میں تخفیف کی سفارش کی اور چونکہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کی یہ دعا منقول نہیں ہے اس لیے انہوں نے یہ سفارش نہیں کی ۔

انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں ہیں، پھر آپ نے ان کو آسمانوں پر کیسے دیکھا؟

ایک سوال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء علیہم السلام کو آسمانوں پر کیسے دیکھا جب کہ انبیاء علیہم السلام زمین پر اپنی اپنی قبر میں آرام فرما ہیں

علامہ ابن عقیل اور علامہ ابن التین نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو ان کے جسموں کی صورتوں میں متشکل کردیا تھا اور انہوں نے کہا: حشر کے دن جب لوگوں کو اٹھایا جائے گا اس دن ان کی روحیں ان کے جسموں میں لوٹائی جائیں گی ماسوا حضرت عیسی علیہ السلام کے کیونکہ وہ زندہ ہیں اور وہ زمین کی طرف نازل ہوں گے۔ علامہ عینی فرماتے ہیں: میں کہتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء علیہم السلام کو حقیقتہ دیکھا ہے اور صحیح مسلم میں یہ حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرے اس وقت وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور پھر آپ نے حضرت موسیٰ کو چھٹے آسمان میں بھی دیکھا یہ بھی ہوسکتا ہے انبیاءعلیہم السلام جسم مثالی کے ساتھ آسمانوں پر گئے ہوں۔

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں پر جن نبیوں سے ملاقات کی،  ان کی وجہ ترجیح

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن انبیاء علیہم السلام کو آسمانوں پر دیکھا ان کی آپ کے ساتھ خاص مناسبت تھی، حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ آپ کی یہ مناسبت تھی کہ جس طرح حضرت آدم کا دشمن ابلیس تھا اور اس کی دشمنی کی وجہ سے ان کو جنت چھوڑ کر زمین پر آنا پڑا اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ابوجہل تھا اور دیگر صنادید قریش تھے جن کی وجہ سے آپ کو مکہ چھوڑ کر مدینہ آنا پڑا۔

حضرت ادریس علیہ السلام کے ساتھ مناسبت یہ تھی کہ وہ پہلے نبی ہیں، جنہوں نے قلم کے ساتھ لکھا، پھر قلم سے لکھنے کا طریقہ تمام دنیا میں رائج ہوگیا، اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے اہم بادشاہوں کی طرف تبلیغی مکاتیب بھیجے،  جس کی وجہ سے تمام دنیا میں اسلام پھیل گیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں دیکھا کہ انہوں نے البیت المعمور کی طرف اپنی کمر کی ٹیک لگائی ہوئی تھی، اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عمر میں بیت اللہ کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ظالم اور جابر بادشاہ کے قہر کی وجہ سے اپنی سرزمین چھوڑ کر مدین جانا پڑا اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مکہ سے مدینہ ہجرت کرنی پڑی۔

رہے حضرت عیسی علیہ السلام تو یہود نے ان کو قتل کرنے کا قصد کیا تھا اس طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہود نے قتل کرنے کا قصد کیا تھا، جب انہوں نے بکری کے گوشت میں زہر ملا کر آپ کو کھلایا۔

حضرت یحیی علیہ السلام نے یہود کے بہت مظالم برداشت کیے حتی کہ انہوں نے آپ کو ذبح کردیا اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے قریش سے بہت صدمات اٹھائے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔

رہے حضرت یوسف علیہ السلام تو انہوں نے اپنے بھائیوں کے کیے ہوئے مظالم کو معاف فرمادیا اور فرمایا:

لا تقريب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ . (يوسف: ٩٢)

میں آج تمہیں کوئی ملامت نہیں کرتا۔

اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن قریش کے تمام مظالم کو معاف فرمادیا اور فرمایا: میں تمہیں ملامت نہیں کرتا۔

رہے حضرت ہارون علیہ السلام تو وہ بنی اسرائیل کے نزدیک محبوب تھے، حتی کہ وہ ان کو حضرت موسیٰ پر ترجیح دیتے تھے اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم امت کے نزدیک محبوب ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو اپنی جان، اپنے والدین، اپنی اولاد اور اپنے مال پر ترجیح دیتے ہیں۔

رات کے وقت میں معراج کرانے کی وجوہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج رات میں کرائی گئی ہے نہ کہ دن میں، جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی تصریح ہے اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں:

(1) رات کے وقت میں خلوت ہوتی ہے اور یہ وقت بادشاہوں کے ساتھ مجالست کا اور ان سے مناجات کا ہوتا ہے۔

(۲) اللہ تعالی نے متعدد انبیاء  علیہم السلام کو رات کے وقت میں کرامات سے نوازا ہے،  حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرمایا:

فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَا كَوْكَبًا . (الانعام: ۷۶) جب ان پر رات کی تاریکی چھاگئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا۔

حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق فرمایا:

فاسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ. ( ھود :۸۱) آپ اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے ایک حصہ میں نکل جائیں۔

حضرت موسیٰ علیہ سلام کے متعلق فرمایا : –

إِذْ رَا نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُنُوا إِنِّي أَنَسْتُ نَارًا.(طہ : ۱۰)  جب موسی نے اپنے گھر والوں سے کہا: تم ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے۔

وَوَعَدْنَا مُوسَى ثلثينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَهَا بِعَشْرٍ.۔الاعراف: ۱۴۲)

اور جب ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور مزید دس راتوں کا۔

(۳) اللہ تعالٰی نے متعدد آیات میں رات کے ذکر کو دن پر مقدم فرمایا ہے:

وَجَعَلْنَا الَّيلَ وَالنَّهَارَ ايَتَيْنِ. (بنی اسرائیل: ۱۲)

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنادیا۔

وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ. (يس:۴۰)

اور نہ رات دن پر سبقت کرنے والی ہے۔

(۴) رات اصل ہے اور چاند کی تاریخ کی ابتداء رات سے ہوتی ہے۔

(۵) ہر رات کے ساتھ دن ہوتا ہے اور کبھی صرف دن ہوگا اور رات نہیں ہوگی جیسے قیامت کا دن ۔

(1) رات کے وقت میں دعا قبول ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور عطا کا نزول ہوتا ہے۔

(۷) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر رات میں سفر کرتے تھے۔

(۸) رات کا وقت عبادت میں کوشش کرنے کا بے،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اتنا زیادہ قیام کرتے تھے کہ آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے تھے۔

(۹) آپ رات میں بہت زیادہ عبادت کرتے تھے ،اللہ عزوجل نے خود اس میں کمی کرنے کا حکم دیا’ فرمایا:

يأيُّهَا الْمُزمِلُ قم الَّيْلَ إِلَّا قَلِيلا

(المزمل : ۱-۲)

اے چادر اوڑھنے والے ! رات کو قیام کیجئے مگر تھوڑا

وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّد به. (بنی اسرائیل: ۷۹)

رات کے ایک حصہ میں آپ تہجد پڑھیے۔

سو جب آپ کی زیادہ عبادت رات میں ہوتی تھی تو آپ کو معراج بھی رات میں کرائی گئی۔

(۱۰) جب معراج رات میں ہوئی تو یہ واقعہ لوگوں کی نظر سے غائب تھا، پھر جنہوں نے اس واقعہ کی تصدیق کی ان کا اجر بہت زیادہ ہوگیا۔

آپ کو معراج کرانے کی حکمت

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالی سے مناجات کرنے کے لیے معراج کرائی گئی،  اسی وجہ سے یہ معراج اچانک کرائی گئی اور یہ بہت عظیم اور دل میں جاگزین ہونے والی ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے ہمکلامی کا وعدہ کیا گیا تھا، پھر آپ کو شرف کلام سے نوازا اور دونوں میں بہت فرق ہے وہ چالیس راتوں تک اس کا انتظار کرتے رہے اور آپ کو بغیر انتظار کی مشقت میں ڈالے بلالیا گیا اور ان دونوں کے مقام میں بہت فرق ہے ایک کو پہاڑ طور پر بلایا گیا اور دوسرے کو البیت المعمور کے اوپر بلایا گیا’ حضرت سلیمان کی ایک ماہ کی مسافت کے لیے ہوا کو مسخر کیا گیا اور آپ کو ایک ساعت میں فرش سے عرش پر لے جایا گیا اور سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ آپ کو اپنے رب کا دیدار کرایا گیا سب نبیوں نے اللہ کی بن دیکھے گواہی دی تنہا آپ نے اللہ کو دیکھ کہ اس کے واحد ہونے کی گواہی دی۔

سدرۃ کو مختلف رنگوں کا ڈھانپنا

اس حدیث میں مذکور ہے کہ سدرۃ کو مختلف رنگوں نے ڈھانپ رکھا تھا میں از خود نہیں جانتا کہ وہ کیا ہیں۔

ایک قول ہے کہ وہ سونے کے پروانے تھے دوسرا قول ہے: وہ متعدد انوار تھے جو سدرہ سے نکل رہے تھے اور اس سے اس طرح گررہے تھے جس طرح پروانے گرتے ہیں وہ پروانے سونے کے تھے کیونکہ سونا بہت صاف اور چمک دار ہوتا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کا سب سے زیادہ قوی ہونا

سوال ہوتا ہے کہ آسمانوں اور آپ کے اوپر چڑھنا جسم انسانی کے لیے کس طرح متصور ہوسکتا ہے جب کہ انسانی جسم بہت کثیف ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ارواح چار قسم کی ہیں: (۱) وہ ارواح جو صفات بشریہ سے مکدر ہیں، یہ عوام کی ارواح ہیں، جن پر قوتِ حیوانیہ کا غلبہ ہوتا ہے وہ عروج کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتیں (۲) وہ ارواح جن میں کامل قوت نظریہ ہوتی ہے اور وہ علوم کو حاصل کرلیتی ہیں یہ علماء کی ارواح ہیں (۳) وہ ارواح جو اخلاق حمیدہ کے ساتھ متصف ہونے کی وجہ سے کامل قوت مدبرہ کی حامل ہوتی ہیں یہ ریاضت اور مجاہدہ کرنے والوں کی ارواح ہیں (۴) وہ ارواح جن کو قوت نظریہ اور قوت عملیہ دونوں میں کمال حاصل ہوتا ہے اور یہ انبیاء اور صدیقین کی ارواح ہیں، جیسے جیسے ان کی ارواح کی قوت زیادہ ہوتی ہے ان میں زمین سے اوپر اٹھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور جب انبیاء علیہم السلام کی ارواح بہت قوی ہوتی ہیں تو وہ آسمان کی طرف عروج کرسکتی ہیں اور چونکہ ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی قوت سب سے زیادہ تھی اس لیے آپ نے “قاب قوسین او ادنی” کی طرف عروج کیا۔

(معراج کے یہ تمام اسرار اور نکات عمدۃ القاری ج 4 ص ۷۷ – ۶۴ سے ماخوذ ہیں)

شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح

حدیث مذکور شرح صحیح مسلم ج ا ص ۶۷۵ نمبر ۳۲۳ پر مذکور ہے اور اس کی شرح کے عنوان حسب ذیل ہیں :

معراج کا لغوی معنی (۲) معراج کا اصطلاحی معنی شب معراج اللہ تعالیٰ کو دیکھنے میں علماء امت کا بیان (۴) سورۃ بنی اسرائیل میں معراج کا ذکر اور اس کے فوائد اور نکات لفظ” سبحان “ کے اسرار (9) لفظ ” عبدہ “ کے اسرار لفظ اسری کے اسرار () معراج کے متعلق سورہ والنجم کی آیات و النجم اذا هوی“ کے اسرار (9) ثم دنا فتدلی“ کے اسرار (1) فــكــان قاب قوسین ” کے اسرار (۱۴) حضرت جبریل کا دو مرتبہ حضور کو اپنی صورت دکھانا (۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے موجب فضیلت اللہ کا قرب اور اس کا دیدار ہے نہ کہ حضرت جبریل کا قرب اور ان کا دیدار (۳) شب معراج دیدار الہی کے بیان میں احادیث اور آثار شب معراج دیدار الہی کے متعلق علماء مالکیہ کا نظریہ (۱۲) شب معراج دیدار الہی کے متعلق علماء حنبلیہ کا نظریہ (۷) شب معراج دیدار الہی کے متعلق علماء شافعیہ کا نظریہ (1) شب معراج دیدار الہی کے متعلق علماء احناف کا نظریہ (۹) واقعہ معراج کی تاریخ (۴۰) واقعہ معراج کی ابتداء کی جگہ 9 معراج کی احادیث میں تعارض کی توجیہ (۴۴) کتب احادیث کے مختلف اقتباسات سے واقعہ معراج کا مربوط بیان ( رات میں معراج کرانے کے اسرار (۴) معراج کی ابتداء کی جگہ کے متعلق مختلف روایات میں تطبیق (۴۵) حضرت ام هانی کے گھر کی چھت شق کرکے فرشتے کے آنے کے اسرار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے سفر معراج شروع نہ ہونے کے اسرار 2 شق صدر کے متعلق احادیث کی تخریج اور تحقیق ۸ تین بار شق صدر کرنے کے اسرار (9) ” هذا حظك من الشيطان ” کے اسرار (۳۰) قلب اطہر کو سونے کے طشت میں رکھنے کے اسرار (۴۱) شق صدر کے اسرار کا تمتہ (۴) براق پر سواری کے اسرار ۴ قبر میں حضرت موسی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے کے اسرار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کی تحقیق ۴۵ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبر انور میں سلام کا جواب دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبر انور میں درود پیش کیا جانا (2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبر انور میں نماز پڑھنا ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبر انور میں امت کے اعمال کو پیش کیا جانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام کائنات کو ملاحظہ فرمانا صالحین امت کا نیند اور بیداری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنا (۱) اجساد مثالیہ کا تعدد (۳۲) انبیاء اور اولیاء کا آن واحد میں متعدد جگہ موجود ہونا شب معراج عالم برزخ دکھائے جانے کے اسرار (1) مسجد اقصی میں انبیاء علیہم السلام کی امامت کرانے کے اسرار (۴۵) آسمانوں پر جانے کے اسرار سدرہ انتہی سے آگے جانے کے اسرار “قف يا محمد فان ربك يصلى “ کے اسرار (۴۸) حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شفاعت سے نمازوں میں کمی کے اسرار ” الصلوة معراج المؤمنین ” کے اسرار (2) کفار قریش کو دیے ہوئے جوابات کے اسرار شب معراج دیدار الہی کے اسرار۔

معراج کی یہ تفصیل شرح صحیح مسلم میں ص ۷۷۲-۶۷۱ تک پھیلی ہوئی ہے اور اس قدر جامع تفصیل قارئین کو اور کسی کتاب می نہیں ملے گی۔ وذالك فضل الله يوتیہ من یشاء۔.

اور تبیان القرآن سورۃ بنی اسرائیل : ۱ ج 6 ص ۶۴۳ – ۶۱۷ میں بھی معراج کا تفصیلی بیان ہے۔