حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے منسوب روایات: تنقیدی و تحقیقی جائزہ
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے منسوب روایات: تنقیدی و تحقیقی جائزہ
✍️: محمد علی مصباحی نقشبندی
بعض مقررین اپنی تقریروں میں اور بعض قوال نے اپنی قوالیوں میں ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تلفظ پر کسی صحابی نے اعتراض کیا اور رسولﷺ سے شکایت کی کہ وہ “شین” کو “سین” سے بدل دیتے ہیں، اس پر رسولﷺ نے حضرت بلال کو اذان دینے سے منع کر دیا؛ چنانچہ ایک دن انہوں نے اذان نہ دی تو سورج طلوع نہ ہوا۔ پھر حضرت جبرئیل نے آکر کہا: جب تک حضرت بلال اذان نہیں دیں گے سورج نہیں نکلے گا اور سین اور شین پر جو اعتراض ہے اس کا جواب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دیا “فَإِنّ سِيْنُ بِلَالٍ عِنْدَ اللّٰهِ شِيْنٌ”. بلال کا “سین” اللہ کے نزدیک “شین” ہے۔
اس واقعہ میں چند باتیں قابل غور ہیں؛
اول: “فَإِنّ سِيْن بِلَالٍ عِنْدَ اللّٰهِ شِيْنٌ.” یعنی بلال کا سین اللہ کے نزدیک شین ہے۔
دوم :” إِنَّ بِلَالًا كَانَ يُبَدِّلُ الشِّينَ فِي الْأَذَانِ سِينًا.” یعنی حضرت بلال حبشی اذان میں شین کو سین سے بدل دیتے تھے۔
سوم: حضرت بلال کا اذان نہ دینا پھر سورج طلوع نہ ہونے کا واقعہ۔
ان حدیثوں پر محدثین اور ناقدین حدیث کی کیا رائے ہے ؟ کیا حقیقت میں حضرت بلال “شین” کو سین سے بدل دیتے تھے ؟ کیا واقعی حضرت بلال کا “سین” اللہ کے نزدیک “شین” ہے؟
یہ مضمون تین فصل ایک خاتمہ پر مشتمل ہے :
`فصل اول`: “سِيْنُ بِلَالٍ عِنْدَ اللّٰهِ شِيْنٌ” کی حقیقت
حافظ ابن کثیر نے فرمایا: وما يُروى ” أن سين بلال عند الله شينا ، فليس له أصل.
ترجمہ:اور جو یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ: “حضرت بلالؓ کا ‘سین’ اللہ کے نزدیک ‘شین’ ہے”، تو اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ ( البدایہ والنہایہ ج 7 ص 221 دار ابن کثیر)
`حافظ ابن کثیر کے اس قول کو متعدد ائمہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ چنانچہ امام سمہودی نے “الغماز علی اللماز”(ص121) میں، امام ابن عمر شیبانی نے “تمییز الطیب من الخبیث”(ص 92) میں، امام سخاوی نے “المقاصد الحسنۃ”(ص 397) میں، امام عجلونی نے “کشف الخفاء ومزیل الإلباس” (ج 1، ص 530) میں اور ملا علی قاری نے “المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع” (ص 113) میں اسے نقل کرتے ہوئے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے`۔
*فصل دوم* : “إِنَّ بِلَالًا كَانَ يُبَدِّلُ الشِّينَ فِي الْأَذَانِ سِينًا” کی حقیقت
امام بدرالدین زرکشی نے فرمایا:
*قال الحافظ جمال الدين المزي: إشتهر على ألسنة العوام أن بلالاً رضي الله عنه كان يبدل الشين في الأذان سيناً، ولم نره في شيء من الكتب، كذا وجدته عنه بخط الشيخ برهان الدين السفاقسي*
ترجمہ: حافظ جمال الدین المزی فرماتے ہیں: “عوام کی زبانوں پر یہ بات مشہور ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان میں ‘شین’ کو ‘سین’ سے بدل دیتے تھے (یعنی أَشْهَدُ کو أَسْهَدُ پڑھتے تھے)، حالانکہ ہم نے اسے کتابوں میں کہیں نہیں دیکھا۔ میں نے شیخ برہان الدین السفاقسی کے اپنے ہاتھ کی تحریر میں بھی اسی طرح لکھا ہوا پایا ہے۔” (التذکرۃ فی الاحادیث المشتھرۃ،ص297)
`ملا علی قاری نے ” اسرار المرفوعة في الاحاديث الموضوعة” (ص140) میں، امام جلال الدین سیوطی نے “الدرر المنتثرہ في الاحاديث المشتهرة”(ص 224) میں، شیخ مرعی بن یوسف کرمی مقدسی “الفوائد الموضوعة في الاحاديث الموضوعة”(ص89 ) میں، امام سخاوی نے “المقاصد الحسنة”(ص190) میں، امام ابن عمر شیبانی نے “تمیز الطیب من الخبیث”(ص40 ) میں، شيخ محمد بن درویش بيروتی شافي نے “أسنی المطالب في الاحاديث المختلفة المراتب”(رقم 345) میں اور مختلف علما و محدثین نے امام جمال الدین مزی کے اسی قول؛ ولم نره في شيء من الكتب یعنی” ہم نے اسے کتابوں میں کہیں نہیں پایا” پر اکتفاء کیا ہے` ۔
البتہ امام عجلونی نے `”کشف الخفاء ومزیل الباس”` (ج1 ص260) میں مختلف اقوال نقل کیے، اور شیخ نجم الدین دمشقی نے `”إتقان ما یحسن من الاخبار الدائرۃ علی الالسن”` میں بھی مختلف اقوال نقل فرما کر حافظ ابن کثیر کے قول کو بھی نقل کیا اور فرمایا:
قال ابن کثیر: لیس أصل له یعنی اس کی کوئی اصل نہیں ہے ۔
اسی طرح ملا علی قاری نے اپنی دوسری کتاب`” المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع”` میں فرمایا : ليس له أصل یعنی اس کی کوئی اصل نہیں ہے ۔ رضوان اللہ علیھم اجمعین
`فصل سوم` : حضرت بلال کا اذان نہ دینا پھر سورج طلوع نہ ہونے کے واقعہ کی حقیقت
`شہید بغداد علامہ اسید الحق ازھری بدایونی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مذکورہ بالا واقعہ کے بارے میں فرمایا: یہ حدیث بالکل موضوع ہے کتابوں میں اس کا کوئی اتا پتا نہیں ہے”`۔(نقد و نظر ص 17،18)
`شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے اس واقعے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: “تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع من گڑھت اور بالکلیہ جھوٹ ہے”` ۔(فتاوی شارحِ بخاری ج2 ص37)
خلاصہ کلام یہ کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے منسوب “شین کو سین سے بدلنے، اذان میں شین کو سین کہنے اور سورج طلوع نہ ہونے کا واقعہ موضوع، من گھڑت اور بے اصل ہیں۔ محدثین و محققین کا اس پر اتفاق ہے کہ ان روایات کا کوئی علمی یا تاریخی وجود نہیں ہے۔ لہٰذا، ایسی بے بنیاد باتوں کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کی طرف منسوب کرنا علمی خیانت ہے اور بلا تحقیق ایسی روایات بیان کرنا جائز نہیں
20/ جون 2026عیسوی
تحقیق_حدیث محمد علی نقشبندی