7- بَابُ الصَّلوةِ فِي الْجُبَّةِ الشَّامِيَّةِ

جبہ شامیہ پہن کر نماز پڑھنا

جبہ کا معنی ہے: لمبا کوٹ یہ کندھوں سے لے کر ٹخنوں تک کا لباس ہے یہ درمیان سے کوٹ اور شیروانی کی طرح کھلا ہوا ہوتا ہے اور اس میں بٹن لگے ہوئے ہوتے ہیں، شامیہ کا معنی ہے: شام کا بنا ہوا۔ علامہ عینی نے لکھا ہے: اس سے مراد وہ جبہ ہے جس کو کفار نے بنا ہو یہ جبہ غزوہ تبوک میں حاصل ہوا تھا اور شام میں اس وقت کفار کی حکومت تھی اور یہ اس وقت تک فتح نہیں ہوا تھا۔ اس تاویل سے ہمارا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ امام بخاری نے یہ عنوان اس لیے قائم کیا ہے کہ کفار کے بنائے ہوئے کپڑوں کو پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے جب تک کہ اس کے اوپر کوئی نجاست دکھائی نہ دے۔

امام بخاری فرماتے ہیں:

وَقَالَ الْحَسَنُ فِي الثيَابِ يَنْسُجُهَا الْمَجُوس الم يرَبِهَا بَأْسًا.

حسن (بصری ) نے کہا: جن کپڑوں کو مجوس نے بنا ہو ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اس حدیث کو نعیم بن حماد نے از معتمر از ہشام روایت کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: اس کپڑے کو دھونے سے پہلے پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جس کو مجوس نے بنا ہو۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۰۳) اس کے بعد دوسری تعلیق ہے:

وَقَالَ مَعْمَرٌ رَأَيْتُ الزُّهْرِئَ يَلْبَسُ مِنْ ثِيَاب الْيَمَنِ مَا صُبِغَ بِالْبَوْلِ.

ِ اور معمر نے کہا: میں نے زہری کو دیکھا وہ یمن کے ان کپڑوں کو پہنتے تھے، جن کو پیشاب سے رنگا جاتا تھا۔

یہ حدیث مصنف عبد الرزاق : ۱۴۹۸ میں مذکور ہے۔

وَصَلَّى عَلِيٌّ فِي تَوْبِ غَيْرَ مَقْصُورٍ.

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بغیر دھلے ہوئے کپڑے میں نماز پڑھی۔

اس حدیث کو امام ابن سعد نے از عطاء بن محمد روایت کیا ہے انہوں نے کہا: میں نے دیکھا حضرت علی رضی اللہ عنہ بغیر دھلی ہوئی سوتی قمیص پہن کر نماز پڑھ رہے تھے۔

علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ فرماتے ہیں: ان تینوں آثار میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کفار کے بنے ہوئے کپڑوں کو پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے اور دھونے کے بعد ان کپڑوں کو بھی پہنا جائز ہے جن کو پیشاب سے رنگا جاتا ہے اور نئے کپڑوں کو دھونے سے پہلے پہننا جائز ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص 104)

کفار کے بنے ہوئے کپڑوں میں مذاہب ائمہ

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:

کفار کے بنائے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھنے کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے امام مالک اور جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ کفار کے بنے ہوئے کپڑوں کو پہن کرنماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تاہم امام مالک نے ان کے بنے ہوئے کپڑوں کو پہن کرنماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے، انہوں نے کہا: جس شخص نے ان کے بنے ہوئے کپڑے پہن کر نماز پڑھی ہے وہ نماز کو اس کے وقت میں دہرائے اور فقہاء احناف اور امام شافعی نے کہا ہے کہ ان کے بنائے ہوئے لباس کے پہنے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ ان کو نہ دھویا جائے جب تک کہ اس میں نجاست ظاہر نہ ہو، مگر امام ابوحنیفہ نے کہا ہے: میں کہتا ہوں کہ مسلمان ان کی بنائی ہوئی شلوار اور تہبند کو بغیر دھوئے ہوئے پہنے تو میرے نزدیک وہ مکروہ ہے اور اسحاق نے کہا: ان کے تمام کپڑوں کو پاک کیا جائے گا اور جبہ شامیہ کی حدیث میں یہ تصریح نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہننے سے پہلے اس کو دھویا تھا یا نہیں، اس لیے اس حدیث میں کسی کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے اور الزہری نے جو پیشاب سے رنگے ہوئے کپڑے کو پہن کر نماز پڑھی تو یہ معلوم ہے کہ انہوں نے اس کپڑے کو دھوئے بغیر اس میں نماز نہیں پڑھی اور مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان کے بنے ہوئے کپڑے کو دھوئے تاکہ اس کپڑے کی طہارت کا یقین ہوجائے۔

( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۳ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1424ھ )

٣٦٣ – حدثنا يحيى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُومُعَاوِيَةَ ، عَن الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوق عَنْ مُغِيرَةَ ابْنِ شُعْبَةَ قَالَ كُنتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى سَفَرٍ فَقَالَ يَامُغِيرَةً خُذِ الْإِدَاوَةَ فَاخَذْتُها فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی تَوَارَى عَنِي ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّة فَذَهَبَ لِيُخْرِجَ يَدَهُ مِنْ كُمهَا فَضاقَتْ ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا ، فَصبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّا وُضُوءَ لِلصَّلوة وَمَسَحَ عَلَى حُفيْهِ ثُمَّ صَلَّى۔

جامع المسانيد لابن الجوزي: ۶۴۰۲ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی از الاعمش از مسلم از مسروق از حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا’ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا’ آپ نے فرمایا: اے مغیرہ! پانی کا برتن اٹھالو، میں نے برتن لے لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے حتی کہ مجھ سے چھپ گئے، پھر آپ نے قضاء حاجت کی اور آپ کے اوپر شامی جبہ تھا، آپ اس آستین سے اپنا ہاتھ نکالنے گئے وہ تنگ تھی، پس آپ نے اپنا ہاتھ آستین کے نیچے سے نکال لیا میں نے آپ کے اوپر پانی ڈالا تو آپ نے نماز کا وضوء کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر آپ نے نماز پڑھی۔

اس حدیث کی شرح صحیح البخاری: ۱۸۲ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: ایک شخص اپنے صاحب کو وضوء کرائے اور یہاں اس کا عنوان ہے: شامی جبہ پہن کر نماز پڑھنا۔

اس حدیث کے اہم فوائد اور مسائل حسب ذیل ہیں:

(1) سفر میں عالم اور استاذ کی خدمت کرنا اور اگر ضرورت ہو تو آستین کے نیچے سے ہاتھ نکالنا

(۲) تنگ آستین والے جبہ کو پہننے کا جواز

(۳) کفار کے بنائے ہوئے کپڑوں کو پہن کر نماز پڑھنے کا جواز (اس کی تفصیل تعلیقات کی شرح میں گزر چکی ہے۔)