– بَابُ كَرَاهِيَةِ التَّعَرِى فِي الصَّلَوةِ

نماز میں برہنہ ہونے کی کراہت

یہ باب اس امر کے بیان میں ہے کہ نماز یا غیر نماز میں برہنہ ہونا مکروہ تحریمی ہے۔

٣٦٤ – حدثنا مُطَرُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثنَا رَوْح قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بنُ دينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللهِ يُحدث أن رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ، وَعَلَيْهِ اِزَارُهُ ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاس عمه يَا ابْنَ أَخِي ، لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ ، فَجَعَلْتَ عَلى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ ، قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلى مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ ، فَمَا رُوِيَ بَعْدَ ذلِكَ عُرْيَانًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم

َ اطراف الحدیث : ۱۵۸۲ – 3829( صحیح مسلم:340، الرقم المسلسل :756، ‘ مصنف عبدالرزاق:1103،  صحیح ابن حبان : 1603، مسند احمد ج ۳ ص ۲۹۵ طبع قدیم مسند احمد :۱۴۱۴۰ – ج ۲۲ ص ۴۵ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مطر بن الفضل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں روح نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں زکریا بن اسحاق نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے سنا حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی تعمیر کے لیے لوگوں کے ساتھ پتھر اٹھاکر لارہے تھے اور آپ نے تہبند باندھا ہوا تھا’ آپ سے آپ کے چچا عباس نے کہا: اے میرے بھتیجے! اگر تم اپنے تہبند کو اتار دو اور اس کو اپنے کندھوں کے اوپر پتھر کے نیچے رکھ دو حضرت جابر نے کہا: پھر انہوں نے آپ کا تہبند اتارکر آپ کے کندھوں پر رکھ دیا سو آپ بے ہوش ہو کر گرگئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا گیا۔

اس حدیث کے پانچ رجال میں:

(۱) مطہر بن الفضل المروزی

(۳) روح بن عبادہ التنیسی

(۳) زکریاء بن اسحاق المکی

(۴۳) عمرو بن دینار الحجمی

(۵) حضرت جابر بن عبداللہ انصاری  رضی اللہ عنہ ان سب کا تعارف ہوچکا ہے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: اس کے بعد آپ کو برہنہ نہیں دیکھا گیا’ یہ نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد کے احوال کو شامل ہے اور عام ازیں کہ نماز ہو یا غیر نماز ۔۔

تعمیر کعبہ اور آپ کے تہبند اتارنے کے واقعہ کی تاریخ

علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :

بعثت سے کافی پہلے کعبہ کی تعمیر ہوئی اس وقت نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نابالغ تھے اور آپ کی عمر اس وقت پندرہ سال تھی اللہ تعالی نے آپ کو رسول بنا کر اپنی مخلوق کی طرف بھیجا اور آپ کو ان تمام چیزوں کا علم دیا جن کو آپ پہلے نہیں جانتے تھے اور آپ پر قرآن نازل کیا جس نے آپ کو اس پر برانگیختہ کیا کہ آپ یہ حکم دیں کہ بیت اللہ میں کوئی برہنہ طواف نہیں کرے گا اور آپ کے اس حکم نے جاہلیت کی ان عادات کو منسوخ کردیا کہ وہ ایک دوسرے کی شرم گاہوں کو دیکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاکیزہ اخلاق اور شریفانہ خصال پر پیدا کیا تھا کیا تم نے نہیں دیکھا جب آپ کے چچا عباس نے آپ کا تہبند اتارا تو آپ بے ہوش ہو کر گرگئے اور اس کے بعد کسی نے آپ کو برہنہ نہیں دیکھا۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۴ دار الکتب العلمیہ بیروت (۱۴۲۴ھ)

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ۵۴۴ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالٰی نے کم عمری میں آپ کو قبیح کاموں سے محفوظ رکھا اور اخلاق جاہلیت سے آپ کی حفاظت کی، اس پر پہلے کلام گزرچکا ہے کہ آپ اعلان نبوت سے پہلے کفر اور گناہوں سے معصوم تھے اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ آپ کی شرم گاہ لوگوں پر منکشف ہوگئی تھی، کیونکہ تہبند اتارتے ہی آپ زمین پر بے ہوش ہوکر گرگئے تھے اور یہ کسی کی آپ پر نظر پڑنے سے پہلے ہوا اور اس کی تاکید اس سے ہوتی ہے کہ ایک اور حدیث میں مذکور ہے: آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک میری تکریم یہ ہے کہ میں ختنہ کیا ہوا پیدا ہوا اور کوئی شخص میری شرم گاہ پر مطلع نہیں ہوا۔ (تحفۃ المودود فی احکام المولود ص ۱۵۹)

بعض روایات میں مذکور ہے کہ ایک فرشتہ نازل ہوا اور اس نے میرا تہبند باندھ دیا۔

اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ۲ ص ۱۹۱ – ۱۹۰ دار الدفا ۱۴۱۹ھ )

علامہ ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المتوفی ۶۵۶ ھ لکھتے ہیں : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند آپ کے کندھے پر رکھا گیا تو آپ زمین پر گرگئے اس میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کے بچپن میں آپ کی حفاظت کی اور اللہ تعالیٰ نے خود آپ کو ادب سکھایا اور کسی اور کو آپ کی تادیب پر مامور نہیں کیا، اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کی نگرانی کرتا رہا، حتی کہ افعال جاہلیت کو آپ کے نزدیک مکروہ بنادیا اور آپ کو ان افعال سے محفوظ رکھا، حتیٰ کہ ان میں سے کوئی چیز آپ پر جاری نہیں ہوئی اور یہ سب اللہ تعالٰی کا آپ پر لطف و کرم تھا اور آپ میں محاسن کو جمع کرنا تھا۔ المفہم ج 6 ص ۱۱۸ دار ابن کثیر بیردت 1420ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

یہ حدیث مرسل الصحابی ہے کیونکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اس قصہ کے وقت موجود نہیں تھے، ہوسکتا ہے انہوں نے اس قصہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو یا کسی اور صحابی سے سنا ہو،  جو اس قصہ کے وقت موجود تھے اور امام طبرانی نے اور ابونعیم نے ” دلائل النبوہ “میں از ابن لھیعہ از ابوالزبیر روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا کوئی شخص برہنہ کھڑا ہوسکتا ہے انہوں نے کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ جب کعبہ منہدم ہوگیا تو اس کی تعمیر نو کے لیے قریش کا ہر خاندان پتھر لارہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عباس کے ساتھ پھر لارہے تھے اور انہوں نے اپنے کپڑے اپنے کندھوں کے اوپر رکھے ہوئے تھے اور اس سے پتھر اٹھانے کی طاقت حاصل کر رہے تھے، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس میرا پیر مڑگیا اور میں گرپڑا اور میرا کپڑا گرگیا، میں نے عباس سے کہا: میرا کپڑا لائیں اس کے بعد میں کبھی برہنہ نہیں ہوا ما سوا غسل کرنے کے، لیکن ابن لھیعہ ضعیف راوی ہے البتہ عبدالعزیز بن سلیمان نے اس کی ابوالزبیر سے متابعت کی ہے، جس کا ابو نعیم نے ذکر کیا ہے، پس اگر یہ روایت محفوظ ہے تو فبہا ورنہ اس موقع پر صحابہ میں سے حضرت عباس موجود تھے، جیسا کہ اس باب کی حدیث میں ہے، پس ہوسکتا ہے کہ حضرت جابر نے ان سے اس حدیث کو سنا ہو۔

ابونعیم نے ” المعرفہ ” میں اور ” دلائل” میں از سماک بن حرب از عکرمہ از حضرت ابن عباس روایت کیا ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد عباس بن عبدالمطلب نے یہ حدیث بیان کی کہ جب قریش نے کعبہ کی تعمیر کی تو دو دو آدمی پتھر اٹھا کر لا رہے تھے پس میں نے اور میرے بھتیجے نے اپنے اپنے تہبند اپنے کندھوں کے نیچے رکھ لیے اور ہم ان پر پتھر رکھ رہے تھے پس جب ہم لوگوں کے قریب پہنچتے تو ہم اپنے تہبند باندھ لیتے، پس جس وقت وہ میرے آگے چل رہے تھے تو وہ گرگئے میں دوڑا تو ان کی نظر آسمان کی طرف تھی، میں نے پوچھا: کیا ہوا؟ تو انہوں نے کہا: مجھے برہنہ چلنے سے منع کیا گیا ہے، حضرت عباس نے کہا: میں نے اس بات کو چھپالیا حتی کہ اللہ تعالی نے ان کی نبوت کو ظاہر کردیا اس حدیث کی سند میں بھی ضعیف راوی ہیں۔

اسی طرح امام ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ تھا اور ہم نے اپنے اپنے تہبند اپنے کندھوں کے اوپر رکھے ہوئے تھے کیونکہ ہم پتھروں کو اٹھا کر لارہے تھے کہ اچانک کسی نے زور سے مجھے مکا مارا، پھر کہا: اپنا تہبند باندھ لو یہ ایک اور قصہ ہے۔ از رقی نے اس سے دھوکا کھایا ہے اور کہا ہے: جب کعبہ کی تعمیر ہورہی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو عمر لڑکے تھے۔ (میرے نزدیک یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ سعیدی غفرلہ )

امام عبدالرزاق اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اجیاد سے پتھر اٹھا اٹھا کر لارہے تھے تو آپ پر ایک چادر تھی وہ چادر تنگ ہوگئی تو آپ نے اس کو اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا اس چادر کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے آپ کی شرم گاہ ظاہر ہوگئی، پس نداء کی گئی: اے محمد ! اپنی شرم گاہ ڈھانپئے، پھر اس کے بعد آپ کو برہنہ نہیں دیکھا گیا اس واقعہ اور آپ کی بعثت کے درمیان پانچ سال کا عرصہ تھا اس وقت آپ کی عمر پینتیس سال تھی۔ (فتح الباری ج 3 ص ۱۵۱-۱۵۰ ملخصا دار المعرفة بیروت (1424ھ)

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

الزہری نے کہا ہے کہ جب قریش نے کعبہ کی تعمیر کی تھی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالغ نہیں ہوئے تھے، ابن بطال اور ابن التین نے کہا ہے : اس وقت آپ کی عمر پندرہ سال تھی اور ہشام نے کہا ہے کہ کعبہ کی تعمیر اور آپ کی بعثت میں پانچ سال کا عرصہ تھا ایک قول یہ ہے کہ کعبہ کی تعمیر اس وقت ہوئی جب آپ کی عمر چھتیس سال تھی، امام بیہقی نے یہ ذکر کیا ہے کہ کعبہ کی تعمیر اس وقت ہوئی جب ابھی آپ نے حضرت خدیجہ سے نکاح نہیں کیا تھا اور مشہور یہ ہے کہ قریش نے کعبہ کی تعمیر اس وقت کی، جب حضرت خدیجہ سے آپ کے نکاح پر دس سال کا عرصہ گزرچکا تھا اور اس وقت آپ کی عمر پینتیس سال تھی اور یہی وہ قول ہے جس کی تصریح امام محمد بن اسحاق نے کی ہے اور موسیٰ بن عقبہ نے کہا ہے کہ کعبہ کی تعمیر بعثت سے پندرہ سال پہلے ہوئی یعنی اس وقت آپ کی عمر پچیس سال تھی امام ابن اسحاق کی سیرت میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ تعالٰی نے بچپن میں آپ کو کس طرح محفوظ رکھا’ آپ نے بتایا کہ میں قریش کے لڑکوں کے ساتھ پتھر اٹھا اٹھا کر لارہا تھا، جن سے لڑکے کھیل رہے تھے، ہم سب نے اپنا اپنا تہبند اپنے اپنے کندھے پر رکھا ہوا تھا، ہم اس پر پتھر رکھ رہے تھے ہم سب برہنہ ہوگئے تھے میں اس طرح آگے جارہا تھا کہ کسی نے مجھے زور سے مکا مارا پھر کہا: اپنا تہبند باندھو پھر میں نے اپنا تہبند باندھ لیا، پھر میں تہبند باندھے ہوئے اپنے کندھے پر پتھر رکھ کر لارہا تھا سہیلی نے کہا ہے : اگر یہ روایت صحیح ہے تو پھر آپ کی برہنگی کا واقعہ دو بار ہوا ہے آپ کے بچپن میں اور تعمیر کعبہ کے وقت۔ (میرے نزدیک یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ سعیدی غفرله ) (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۰۷-106،  دارالکتب العلمیة بیروت 1421ھ)

مصنف کے نزدیک آپ کے تہبند اتارنے کے واقعہ کی تحقیق

میں کہتا ہوں کہ کعبہ کی تعمیر کے وقت میں کافی اضطراب ہے، الزہری نے کہا ہے کعبہ کی تعمیر اس وقت ہوئی تھی جب آپ بالغ نہیں ہوئے تھے۔ قاضی عیاض اور علامہ قرطبی نے اسی قول کو اختیار کیا ہے اور یہی قرین قیاس ہے کیونکہ کسی نابالغ لڑکے سے تو اس کا چچا شفقت سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اپنا تہبند اتارکر اپنے کندھے کے اوپر رکھ لو تاکہ تمہیں پتھر نہ چبھیں اور مشہور قول کے مطابق کعبہ کی تعمیر اس وقت ہوئی تھی، جب آپ کی عمر پینتیس سال تھی اور پینتیس سال کے مرد سے یہ کہنا متصور نہیں ہے کہ آپ اپنا تہبند اتار کر اپنے کندھے کے اوپر رکھ لیں اور نہ ہی اس مرد کا تہبند اتارنا متصور ہوسکتا ہے۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آپ کے تہبند اتارنے کا واقعہ حضرت جابر سے روایت کیا گیا ہے اگر یہ آپ کے بچپن کا واقعہ ہو تو پھر اس روایت کے صحیح ہونے کی ایک وجہ ہے جیسا کہ امام ابن شہاب، زہری، قاضی عیاض اور علامہ قرطبی نے کہا ہے اور اگر کعبہ کی تعمیر اس وقت ہوئی تھی جب آپ کی عمر پینتیس سال تھی جیسا کہ مشہور قول ہے تو پھر ہمارے نزدیک آپ کے تہبند اتارنے کا واقعہ درایہ صحیح نہیں ہے۔ ہم نے تبیان القرآن سورۃ الاعراف: ۲۸ کی تفسیر میں ج ۲ ص ۱۰۴ – ۱۰۲ میں اس کو تفصیل سے بیان کردیا ہے۔

اجنبی لوگوں کے سامنے برہنہ ہونے کی ممانعت کے متعلق احادیث

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک بھاری پتھر اٹھایا جب میں اس کو اٹھا کر چل رہا تھا تو میرا تہبند گرگیا تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کپڑا اٹھاؤ اور برہنہ نہ چلو ۔ ( صحیح مسلم:۳۴۱، سنن ابوداؤد ( 4016)

بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہم اپنی شرم گاہیں کس کے سامنے ظاہر کریں اور کس سے چھپائیں؟ آپ نے فرمایا: اپنی بیوی اور اپنی باندی کے سوا سب سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرو میں نے کہا: جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط ہوں؟ آپ نے فرمایا: جب تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ تمہاری شرم گاہ کو کوئی نہ دیکھے تو کوئی نہ دیکھے، میں نے کہا: یارسول اللہ ! جب ہم میں سے کوئی شخص اکیلا ہو؟ آپ نے فرمایا: لوگوں کی بہ نسبت اللہ تعالی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے حیاء کی جائے۔ (سنن ابوداؤد : ۴۰۱۷ سنن ترمذی: ۲۷۹۴)

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد دوسرے مرد کی برہنگی نہ دیکھے اور کوئی عورت دوسری عورت کی برہنگی نہ دیکھے۔ الحدیث ( صحیح مسلم: ۱۴۳۷ سنن ابوداؤد : 4018 سنن ترمذی: 2793، سنن ابن ماجه : 661)

شرم گاہ کو چھپانے میں فقہاء کی تصریحات

علامہ بدرالدین عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

کسی شخص کا اس طرح برہنہ ہونا جائز نہیں ہے کہ دیکھنے والے کو اس کی شرم گاہ نظر آئے اور نہ اس کا برہنہ ہوکر چلنا جائز ہے کہ اس کی شرم گاہ اجنبی لوگوں سے محفوظ نہ ہو اور اس کا خلوت میں بھی برہنہ ہونا جائز نہیں ہے ماسوا اس کے غسل کے وقت یا اس کی بیوی کے سامنے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کوئی شخص اپنی شرم گاہ کو کھولتا ہے تو فرشتہ اس سے اعراض کرتا ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری نے کہا: میں اندھیری جگہ بیٹھ کر غسل کرتا ہوں اور اپنے رب سے حیاء کی وجہ سے سیدھا کھڑا نہیں ہوتا، لیکن یہ استحباب پر محمول ہے وجوب پر نہیں، توضیح میں مذکور ہے کہ جب ہم نے خلوت میں بھی ستر کو واجب کیا ہے تو آیا دریا اور چشمہ میں بغیر تہبند کے غسل کرنے کے لیے اترنا جائز ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں دو قول ہیں: ایک یہ کہ نہیں دوسرا یہ کہ ہاں، کیونکہ دریا اور چشمہ کا پانی شرم گاہ کو چھپانے میں تہبند کے قائم مقام ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۰۷ دار الكتب العربیه بیروت ۱۴۲۱ھ )

اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۸۰ – ج ۱ ص ۱۰۳۳ پر مذکور ہے وہاں اس کی مفصل شرح نہیں کی گئی صرف ایک فائدہ بیان کیا گیا ہے۔