کتاب الصلوۃ باب 10 حدیث نمبر 367
۱۰ – بَابُ مَا يَسْتُرُ مِنَ الْعَوْرَةِ
جس شرم گاہ کو چھپایا جائے
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ شرم گاہ کو چھپانا واجب ہے شرم گاہ سے مراد وہ اعضاء ہیں، جن کو دکھانے سے انسان کو حیاء آتی ہے اور جن کو ظاہر کرنا عرف میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔
٣٦٧ – حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْث عَن ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالله بن عتبةَ ، عَنْ ابِي سَعِيدِ الْخُدْرِي أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يُحْتبی الرَّجُلُ فِي ثَوْبِ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ۔
اطراف الحدیث : ۱۹۹۱ – ۲۱۴۴ – ۲۱۴۷ – ۵۸۲۰ – 5822 – 6284 |
جامع المسانيد لابن الجوزي: 2042 مکتبة الرشد ریاض 1426ھ سنن نسائی: ۵۳۵۵ مسند احمد ج 4 ص 6-46)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ بن سعید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از ابن شہاب از عبیداللہ بن عبدالله بن عتبه از حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صمناء سے اور ایک کپڑے میں بہ طور احتباء بیٹھنے سے منع فرمایا کہ شرم گاہ پر کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو۔
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں ان سب کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: اس کی شرم گاہ پر کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو ۔
صماء اور احتباء کا معنی
صماء لباس کی اس قسم کو کہتے ہیں کہ مثلاً انسان تہبند باندھے اور آگے سے یا پیچھے سے تہبند اٹھاکر اپنے کندھوں پر رکھ لے جس سے اس کی اگلی یا پچھلی شرم گاہ کھل جائے۔
اور احتباء لباس کی اس قسم کو کہتے ہیں کہ مثلاً انسان نے صرف تہبند باندھا ہوا ہو اور وہ اپنی مقعد زمین پر ٹکا کر دونوں گھٹنے کھڑے کرکے بیٹھ جائے اس طرح بیٹھنے میں یہ خطرہ ہے کہ اس کی شرم گاہ کھل جائے گی اور دکھائی دے گی۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص 112)