٣٦٨ – حَدَّثَنَا قَبِيصَةٌ بنْ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ أَبِي الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنِ الْلمَاسِ وَالْنبَاذ وَأَنْ يَشْتَمِلُ الصَّمَّاءَ وَأَنْ يَحتبی الرَّجُلُ فِي ثوبِ وَاحِدٍ [ اطراف الحدیث : 584-۵۸۸ -1992-2145-2146-5819-5821)

صحیح مسلم : ۱۵۱۲ سنن ابوداؤد : ۳۳۷۷، سنن ابن ماجہ: ۲۱۷-3559، سنن ترمذی: ۱۳۱۰ مسند احمد ج ۲ ص 379، جامع المسانید لابن الجوزی: 4350)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قبیصہ بن عقبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از ابى الزناد از الاعرج از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی بیع سے منع کیا: الماس اور النباز اور اشتمال الصماء سے منع کیا اور ایک کپڑے میں بہ طور احتباء بیٹھنے سے۔

 

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں ان کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت صماء اور احتباء کی ممانعت میں ہے، کیونکہ لباس کی اس قسم سے شرم گاہ کھل جاتی ہے اور باب کا عنوان ہے: شرم گاہ کو چھپانا۔

بیع الماس کا معنی

لماس اور “ملامسہ” کا معنی ہے: ایک دوسرے کو چھونا اور اس کی حسب ذیل تین تاویلات ہیں:

(1) بائع ( بیچنے والا ) ایک پیکٹ میں خریدار کو کپڑا دے یا اندھیرے میں دے اور اس سے کہے: میں نے اتنے روپے میں تم کو یہ کپڑا فروخت کیا بہ شرطیکہ تم اس کو چھو کر دیکھ لو اور تمہارا چھونا تمہارے دیکھنے کے قائم مقام ہوگا اور پھر دیکھنے کے بعد تم کو اسے واپس کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔

(۲) بائع صرف چھونے کو بیچع قرار دے کہ جس نے اس چیز کو چھولیا اس کی بیع ہوگئی اور اسے وہ چیز خریدنی ہوگی۔

(۳) بائع یہ کہے کہ جب تم نے اس چیز کو چھولیا تو بیع ہوگئی اور پھر تمہارے لیے خیار مجلس نہیں ہوگا۔

بيع النباذ “ اور ” منابذہ “ کا معنی

منابذہ ” کا معنی ہے: کسی چیز کو پھینکنا اور اس کی بھی حسب ذیل تاویلات ہیں:

(1) بائع صرف پھینکنے کو بیع قرار دے اور یہ کہے کہ جب میں نے تمہاری طرف اس چیز کو پھینک دیا تو تمہیں رد کرنے کا اختیار نہیں رہے گا۔

(۲) یا اس سے مراد ہے : کنگکی پھینکنا اور اس کی بھی تین تاویلات ہیں :

(۱) بائع یہ کہے کہ میں جس کپڑے یا جس چیز پر کنکری پھینک دوں گا اس چیز کا خریدنا تم پر واجب ہوگا اور تمہارا اختیار منقطع ہوجائے گا

(۲) بائع یہ کہے کہ جب تک میں کنکری پھینکتا ہوں، تمہیں اختیار ہے اور جب میں نے کنکری پھینک دی تو تمہارا اختیار نہیں،رہے گا۔

(۳) وہ صرف کنکری پھینکنے کو  بیع قرار دے اور کہے کہ میں نے جس چیز پر کنکر پھینک دیا’ اس کی اتنے روپے کے عوض بیچ ہوگئی۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۱۴ – ۱۱۳ دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)