کتاب الصلوۃ باب 15 حدیث نمبر 374
١٥ – بَابٌ إِنْ صَلَّى فِي تَوْبِ مُصلَبٍ أَوْ تَصَاوِيْرَ هَلْ تَفْسُدُ صَلوتُهُ ؟ وَمَا يُنْهَى مِنْ ذَلِكَ
صلیب یا تصویر والے کپڑے پہن کر آیا نماز فاسد ہوجاتی ہے یا نہیں؟ اور اس کی ممانعت میں احادیث
امام بخاری نے اپنی طرف سے کوئی حکم نہیں لگایا کہ ایسے کپڑے کو پہن کر آیا نماز پڑھنا حرام ہے یا نہیں؟ کیونکہ اس میں اختلاف ہے کہ ایسے کپڑے کو پہن کر نماز پڑھنا حرام ہے یا مکروہ ہے اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں ایسے کپڑے کے ساتھ نماز پڑھنے کا ذکر تھا، جس میں نماز پڑھنا خلاف اولیٰ ہے اور اس باب میں اس کپڑے میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے جس کے ساتھ نماز پڑھنا حرام یا مکروہ ہے۔
٣٧٤ – حدثنا أَبُو مَعْمَرٍ، عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالُ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ ابْنُ صُهَيْب عَنْ أَنَسٍ كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ، سَتَرَتْ بِہ جَانِبُ بَيْتِهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امِیطِيْ عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا، فَإِنَّهُ لَا تَزَالُ تَصَاوِیرہ تَعْرِضُ فِي صَلوتي ۔
اطرف الحديث : ٥٩٥٩|
(مسند احمد: ج 3 ص 51 طبع قدیم، مسند احمد : 12531- ج ۲۰ ص ۱۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت جامع المسانيد لابن الجوزی : 284، مکتبة الرشد ریاض 1426ھ )
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابو معمر عبداللہ بن عمرو نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدالوارث نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن صہیب نے حدیث بیان کی از حضرت نس رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا جس کو انہوں نے گھر کی ایک جانب میں لٹکایا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے اس پردہ کو ہمارے سامنے سے ہٹادو کیونکہ اس کی تصاویر مسلسل میری نماز میں سامنے رہی ہیں۔
اس حدیث کے چار رجال ہیں ان سب کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر والے پردہ کے متعلق فرمایا: اس کو ہمارے سامنے سے ہٹادو ۔
قرام“ کا معنی
اس حدیث میں قرام” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: اون کا باریک پردہ اس کی جمع ” قروم“ ہے۔
تصویر کے متعلق مذاہب فقہاء
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
علامہ خطابی نے کہا ہے : اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ ہر قسم کی تصاویر ممنوع ہیں خواہ مجسم ہوں یا غیر مجسم خواہ وہ کس پردہ میں ہو:چادر پر ہو یا دیوار پر ہو۔
علامہ ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ نے کہا ہے کہ جس لباس میں تصاویر ہوں، ان میں نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے اور جس نے تصویر والے کپڑے میں نماز پڑھی یا نماز میں تصویر کی طرف دیکھا تو علماء کے نزدیک اس کی نماز جائز ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز نہیں دہرائی ۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۴۰)
مصنف کے نزدیک علامہ ابن بطال کا اس حدیث سے تصویر والے کپڑے کو پہن کر نماز کے جواز پر استدلال کرنا درست نہیں ہے کیونکہ اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر والے کپڑے میں نماز پڑھی، البتہ اس میں یہ مذکور ہے کہ نماز میں حدیث یہ ہے آپ کے سامنے تصویریں تھیں۔
المہلب نے کہا ہے کہ نماز میں تصویروں کو سامنے رکھنے سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ اس سے نماز کے خشوع میں کمی آتی ہے اور آپ نماز سے غفلت کے اسباب کو منقطع کرنا چاہتے تھے۔
علامہ عینی فرماتے ہیں: اگر نمازی کے سامنے پردہ میں تصاویر نہ ہوں تو پھر پردہ میں تصاویر کا منقوش یا مطبوع ہونا جائز ہے۔
ان کی دلیل یہ حدیث ہے:
بسر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ ان کو حضرت زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں تصویر ہو اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے یسر نے کہا: پھر حضرت زید بن خالد بیمار ہوگئے تو ہم نے ان کی عیادت کی، وہ جس گھر میں تھے اس میں ایک پردہ میں تصاویر تھیں، تو میں نے عبیداللہ الخولانی سے کہا: کیا حضرت زید بن خالد نے ہمیں تصاویر ( کی ممانعت) کے متعلق حدیث نہیں بیان کی تھی؟ عبیداللہ خولانی نے کہا: ہاں ! حضرت زید نے کہا تھا، مگر وہ تصویر جو کپڑے میں چھپی ہوئی ہو کیا تم نے حضرت زید سے یہ نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا: نہیں، عبیداللہ نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے اس کا ذکر کیا تھا۔ (صحیح البخاری: ۳۲۲۶)
سنن نسائی: ۵۳۶۴ میں یہ اضافہ ہے: عبیداللہ نے کہا: کیوں نہیں! یہ میرے لیے زیادہ خوش گوار ہے۔
علامہ عینی فرماتے ہیں : ہمارے اصحاب نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ وہ صورتیں جو کپڑے میں چھپی ہوئی ہوں اور ان کو فرش پر بچھادیا جائے اور اہانت سے رکھا جائے وہ اس باب کی ممانعت سے مستثنی ہیں، سفیان ثوری، ابراہیم نخعی، امام مالک اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کا بھی یہی قول ہے۔
علامہ ابن عبدالبر نے کہا: ابو القاسم نے بیان کیا ہے کہ امام مالک کے نزدیک مجسمے مکروہ ہیں اور چادروں، تکیوں اور کپڑوں پر تصویروں میں کوئی حرج نہیں ہے اور ان کے نزدیک مجسمے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا مکروہ ہے اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب گھروں میں مجسموں کے رکھنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں اور جن کپڑوں میں تصویریں ہوں اور ان کو بچھایا جائے تو وہ ان کو مکروہ نہیں کہتے اور اس میں ان کا اختلاف نہیں ہے کہ جو پردے لٹکے ہوئے ہوں ان کی تصاویر مکروہ ہیں اور رہے فقہاء شافعیہ تو انہوں نے تصاویر کو مطلقا مکروہ کہا ہے خواہ وہ کپڑوں میں چھپی ہوئی ہوں یا بستر پر بچھی ہوئی ہوں اور ان کا استدلال ان احادیث سے ہے جن میں تصاویر کی ممانعت ہے اور انہوں نے کپڑے میں چھپی ہوئی اور مجسم تصویر میں کوئی فرق نہیں کیا۔
( عمدة القاری ج 4 ص ۱۴۳ بار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ )
حافظ زین الدین عبدالرحمان بن شہاب الدین ابن رجب حنبلی متوفی ۷۹۵ ھ لکھتے ہیں :
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ جو تصاویر نصب ہوں، ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں نصاری اور بت پرستوں کی مشابہت ہے اور جس کپڑے میں تصاویر چھپی ہوئی ہوں اس میں علماء کے دو قول ہیں آیا ان کپڑوں کو پہننا جائز ہے یا نہیں، ایک روایت کے مطابق امام احمد نے ان کے پہننے کی اجازت دی ہے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں مذکور ہے مگر وہ تصویر جو کپڑے میں چھپی ہوئی ہو۔
(صحیح البخاری : ۳۲۲۶- ۵۹۵۸، سنن ترمذی: ۱۷۵۰ سنن نسائی: ۵۳۶۴ مسند احمد ج ۳ ص ۴۸۶)
اور بہت سے متقدمین ایسی انگوٹھی پہنتے تھے، جس کے نگینہ میں کسی حیوان کی تصویر ہوتی تھی، اور امام مالک، ثوری اور ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ یہ مکروہ ہے۔
اس باب کی حدیث میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تصاویر میری نماز میں مسلسل میرے سامنے رہیں۔ (حدیث: ۳۷۴)
اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ گھر میں تصاویر ایسی جگہ پر ہوں جہاں نماز میں نظر نہ پڑے، اور امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ وہ انگوٹھی نہ پہنی جائے، جس میں مجسم تصویر ہو اور نہ اس میں نماز پڑھی جائے اور وہ کپڑا پہنا جاسکتا ہے جس میں تصاویر ہوں اور جس چادر میں تصاویر ہوں، اس پر نماز پڑھنے کی اکثر علماء نے اجازت دی ہے اور کم علماء نے اس سے منع کیا ہے۔
امام ابن ابی عاصم نے کتاب اللباس میں ایک عنوان قائم کیا ہے: جس نے کہا کہ جب چادر میں تصویریں ہوں تو اس پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس میں اپنی سند کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے مصلی پر نماز پڑھتے تھے جس میں تصاویر تھیں۔ (فتح الباری لابن رجب ج 2 ص ۲۱۲ – ۲۱۰ دار ابن الجوزیه ریاضی 1417ھ)
علامہ ابن رجب حنبلی نے یہ نہیں لکھا کہ ابن ابی عاصم کی کس کتاب میں یہ حدیث ہے اور برتقدیر ثبوت یہ حدیث بے جان چیزوں کی تصاویر پر محمول ہے۔
ہمارے نزدیک دینی اور معاشی ضرورت کے لیے پاسپورٹ سائز کی تصویر کھنچوانا جائز ہے دینی ضرورت مثلا حج اور عمرہ کے لیے اور معاشی ضرورت مثلا غیر ممالک میں ملازمت کے حصول کے لیے یا ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لیے اس کے علاوہ شوقیہ تصاویر کھنچوانے سے احتراز کرنا چاہیے۔