کتاب الصلوۃ باب 16 حدیث نمبر 375
١٦ – بَابُ مَنْ صَلَّى فِي فَرُّوْجِ حَرِيرٍ ثُمَّ نَزَعَهُ
جس نے ریشم کی اچکن میں نماز پڑھی پھر اس کو اتار دیا
اس باب کے عنوان میں “فروج ” کا لفظ ہے ” فروج ” اس اچکن کو کہتے ہیں جس کے بیچ میں شگاف ہو، پرانے زمانے میں اس قسم کی اچکن بنائی جاتی تھی، علامہ قرطبی نے کہا ہے : قباء اور فروج دونوں کی آستینیں تنگ ہوتی تھیں اور اس کے پیچھے درمیان میں شگاف ہوتا تھا، جنگ اور سفر میں ان کو استعمال کیا جاتا تھا اور اس عنوان میں “حریر ” کا لفظ ہے اس کا معنی ریشم ہے۔
۳۷۵- حدثنا عبدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ اهْدِى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حریر فَلَبِسَهُ فَصَلَّى فِيهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعاً شَدِيدًا، كَالْكَارِهِ لَهُ ، وَقَالَ لَا يَنْبَغِى هَذَا لِلْمُتَّقِينَ.
طرف الحدیث : ۵۸۰۱]
صحیح مسلم: ۲۰۷۵ الرقم المسلسل : 5328، سنن نسائی: ۷۷۰ السنن الكبرى للنسائی ۷۵۷ مصنف ابن ابی شیبہ ج 8 ص 348، المعجم الکبیر 760، ج 17، مسند احمد ج ۳ ص ۱۴۳ طبع قدیم، مسند احمد ج ۲۸ ص ۵۲۵ مؤسسة الرسالة بیروت، جامع المسانيد لابن الجوزی: ۵۳۴۸ مكتبة الرشد و ریاض
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از ابى الخير از حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشم کی اچکن ہدیہ کی گئی، آپ نے اس کو پہن کر نماز پڑھی پھر جب آپ فارغ ہوگئے تو آپ نے اس کو بہت سختی سے اتارا، جیسے اس سے نفرت کرنے والے ہوں اور آپ نے فرمایا: یہ متقین کے لائق نہیں ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے ریشمی اچکن کو اتاردیا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(1) عبداللہ بن یوسف التنیسی، ان کا تعارف ہوچکا ہے
(۲) اللیث بن سعد ،علامہ کرمانی نے کہا ہے کہ منصور نے ان کو مصر کی ولایت کی پیش کش کی تھی انہوں نے مسترد کردی علامہ عینی نے کہا: یہ تھوڑی سی مدت کے لیے حاکم رہے تھے اور یہ امام ابوحنیفہ کے مذہب پر تھے
(۳) یزید بن حبیب، ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۴) ابو جعفر مرثد
(۵) حضرت عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ ان سے ۵۵ احادیث مروی ہیں، امام بخاری نے ان میں سے آٹھ روایت کی ہیں، یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں مصر کے حاکم تھے۔ ۵۸ھ میں فوت ہوگئے تھے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۴۴)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی اچکن کا ہدیہ کس نے دیا تھا؟
اس حدیث میں مذکور ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی ایک اچکن ہدیہ کی گئی۔ یہ اچکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دومتہ الجندل کے امیر اکیدر بن عبدالملک نے ہدیہ کی تھی، امام ابونعیم نے لکھا ہے کہ وہ مسلمان ہوگیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سیراء کا حلہ ہدیہ کیا اور علامہ ابن الاثیر نے لکھا ہے: اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا اور آپ سے صلح کی اور مسلمان نہیں ہوا یہ اہل سیرت کے درمیان اختلاف ہے اور جس نے کہا ہے کہ وہ مسلمان ہوگیا تھا’ اس نے ظاہر خطا کی، وہ نصرانی تھا، اور جب اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کی تو وہ اپنے قلعہ کی طرف لوٹ گیا اور وہیں رہا، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے دومۃ الجندل کا محاصرہ کیا تو اس کو قتل کردیا اس وقت وہ مشرک نصرانی تھا اور دومتہ الجندل قلعہ کا نام ہے اصحاب لغت اس لفظ کو “دومة” (دال پہ پیش) پڑھتے ہیں اور اصحاب الحدیث اس کو “دومہ” ( دال پہ زبر) پڑھتے ہیں یہ جگہ شام اور عراق کے درمیان حد فاصل ہے دمشق سے یہ سات مراحل کے فاصلہ پر ہے اور مدینہ سے تیرہ مراحل کے فاصلہ پر ہے۔ ( عمدۃ القاری ج 4 ص 144 )
متقین کا معنی
اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ متقین کے لائق نہیں ہے، متقین سے مراد ہیں: مومنین صالحین، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ متقی عورتیں بھی متقین میں داخل ہیں حالانکہ ان کے لیے ریشم حلال ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جمع مذکر سالم میں عورتیں داخل نہیں ہوتیں دوسرا جواب یہ ہے کہ عورتوں کے لیے ریشم کے حلال ہونے کے اور دلائل ہیں۔
ریشم کی ممانعت کے متعلق احادیث
مردوں کے لیے ریشم پہننا حرام ہے اور عورتوں کے لیے حلال ہے اور جنگ اور خارش کی حالت میں مردوں کے لیے ریشم پہنناجائز ہے اور اس کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں:
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام کر دیا گیا ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہے۔ (سنن ترمذی : ۱۷۲۰ مسند احمد ج 4 ص ۳۹۴)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جابیہ میں خطبہ دیا اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمادیا ہے مگر دو یا تین یا چار انگل کی مقدار ۔ (صحیح البخاری : ۵۸۲۸ صحیح مسلم ۲۰۶۹ سنن ابوداور : ۲۰۴۴، سنن نسائی: ۵۳۱۰ سنن ابن ماجه : 3593، سنن ترمذی 1721 مسند احمد ج 1 ص 51)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہما دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی غزوہ میں جوؤں کی شکایت کی تو آپ نے ان دونوں کو ریشم کی قمیص پہنے کی اجازت دی اور میں نے ان دونوں پر وہ قمیص دیکھی۔
(صحیح البخاری : ۲۹۲۰ صحیح مسلم : ۲۰۷۶ سنن ابوداؤد: ۴۰۵۲ سنن ترمذی: ۱۷۲۲ سنن نسائی: ۵۳۱۰ سنن ابن ماجه : 3592، مسند احمد ج ۳ ص ۱۲۲)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے ریشم مردوں پر بھی حلال تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی اچکن میں نماز پڑھی تھی بعد میں مردوں کے لیے اس کی حلت منسوخ ہوگئی۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۳۱۳ – ج ۶ ص 346 پر مذکور ہے، اس کی شرح میں حسب ذیل مسائل ہیں:
مردوں پر ریشم حرام ہونے کی تفصیل اور دیگر مسائل سونے چاندی کے بٹن اور گھڑی کے چین کا حکم