۳۷۸ – حدثنا مُحَمَّدُ بْنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ حَدَّثَنَا  يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بن مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ فَجُحِشَتْ سَاقَهُ، أَوْ كَتفه والى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَجَلَسَ فِي مَشْرُبَةٍ لَه،ُ دَرَجَتُهَا مِنْ جُدُوعٍ فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ، فَصلی بِهِمْ جَالِسًا وَهُمْ قِيَامٌ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَم بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا. وَنَزَلَ لِتسْع وَعِشْرِينَ ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّكَ الَيْتَ شهرًا؟ فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْع وَعِشْرُونَ۔

اطراف الحدیث:۶۸۹ – ۷۳۲- ۷۳۳ – ۸۰۵۔ ۱۱۴- ۱۹۱۱-  [6684-5289-5201-۲۴۶۹

صحیح مسلم : ۴۱۱ الرقم المسلسل ۸۹۶ سنن ابوداؤد : 691،  سن ترمذی : 661،  سنن نسائی:۸۳۲ سنن ابن ماجه: ۱۲۳۸ مصنف ابن ابی شیبہ ج 2  ص 325،  مسند الحمیدی: ۱۱۸۹ مسند ابویعلی : 3558،  المنقی : ۲۲۹ صحیح ابن خزیمہ: ۹۷۷، صحیح ابن حبان : ۲۱۰۲ سنن بیہقی ج ۳ ص ۷۸ شرح السنة : 850، مسند احمد ج ۳ ص ۱۱۰ طبع قدیم مسند احمد : ۱۲۰۷۴ – ج ۱۹ ص ۱۲۹ مؤسسة الرسالة بیروت جامع المسانيد لابن الجوزی ۲۴۱۹ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ )

 

 

 

  امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن عبدالرحیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یزید بن ہارون نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حمید الطویل نے خبر دی از حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گھوڑی سے گرگئے، پس آپ کی پنڈلی یا آپ کا کندھا زخمی ہوگیا اور آپ نے اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک نہ جانے کی قسم کھائی تھی، پس آپ اپنے مچان (گیلری) میں بیٹھ گئے، جس کی سیڑھیاں کھجور کے درخت کی بنی oوئی تھیں، پس آپ کے اصحاب آپ کی عیادت کرنے کے لیے آئے آپ نے ان کو بیٹھ کر نماز پڑھائی اور وہ کھڑے ہوئے تھے جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور اگر وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو تم کھڑے ہوکر نماز پڑھو اور آپ انتیس دن بعد مچان ( گیلری ) سے اتر آئے، صحابہ نے کہا: یارسول اللہ ! آپ نے تو ایک ماہ کی قسم کھائی تھی؟ آپ نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔

 

اس حدیث کے چار رجال ہیں اور ان کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔

اس حدیث کا عنوان تھا: چھت، منبر اور لکڑی پر نماز پڑھنا اور اس حدیث میں مچان ( گیلری) پر نماز پڑھنے کا ذکر ہے اور وہ مچان بھی لکڑی کا تھا۔

 

اگر کسی عذر کی وجہ سے امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہوکر نماز پڑھیں

 

اس حدیث میں مذکور ہے کہ اگر امام کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہوکر نماز پڑھو۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ امام احمد، ابن حزم اور غیر مقلدین کا یہی موقف ہے کہ اگر امام کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ

کر نماز پڑھے تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں، خواہ ان کوکوئی عذر نہ ہو اور امام مالک نے کہا ہے کہ جو شخص قیام پر قادر ہوا وہ بیٹھنے والے امام کے پیچھے نماز نہ پڑھے، کھڑے ہو کر نہ بیٹھ کر اور امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور جمہور سلف نے یہ کہا ہے کہ جو شخص قیام پر قادر ہو وہ بیٹھنے والے امام کے پیچھے کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھے گا اس میں فرض اور نفل دونوں برابر ہیں، کیونکہ قیام فرض ہے امام سے یہ فرض اس کے عذر کی وجہ سے ساقط ہوگیا اور مقتدی کے لیے بغیر عذر کے فرض کو ترک کرنا جائز نہیں ہے اور باب مذکور کی حدیث کا جواب یہ ہے کہ :

یہ حدیث منسوخ ہے اور اس کی ناسخ وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں بیٹھ کر نماز پڑھی اور آپ کے پیچھے صحابہ نے کھڑے ہوکر نماز پڑھی اور حضرت ابوبکر کھڑے ہوکر مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے افعال کی خبر دے رہے تھے امام بخاری روایت کرتے ہیں:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے، پس آپ اس گھوڑے سے گرگئے اور آپ کا دایاں پہلو چھل گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی نمازیں بیٹھ کر پڑھیں، سو ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، پس جب وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو تم کھڑے ہوکر نماز پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔

امام ابو عبداللہ ( بخاری ) نے کہا: الحمیدی نے کہا کہ آپ نے جو فرمایا ہے: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو، یہ آپ نے اپنے پہلے مرض میں فرمایا تھا، پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور صحابہ نے آپ کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز

پڑھی، آپ نے ان کو بیٹھنے کا حکم نہیں دیا اور جو آخری بات ہو اس پر عمل کیا جاتا ہے اور آخری بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ہے۔

(صحیح البخاری : ۶۸۹ جامع المسانید : ۴۵۹ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ)

 

چھت اور لکڑی پر نماز پڑھنے کی دلیل

 

اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے مچان میں نماز پڑھی اور صحابہ نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔

حدیث کے اس جملہ میں چھت پر اور لکڑی پر نماز پڑھنے کی دلیل ہے کیونکہ مچان اپنی نچلی جگہ کے اعتبار سے چھت کے حکم میں ہے اور اس پر نماز پڑھنا چھت پر نماز پڑھنے کی مثل ہے اور چونکہ مچان لکڑی کا بنا ہوا تھا، اس لیے یہ لکڑی پر نماز پڑھنے کی بھی دلیل ہے۔

 

ایلاء کا لغوی اور شرعی معنی

 

اس حدیث میں ایلاء کا ذکر ہے ایلاء کا لغوی معنی ہے قسم کھانا: یعنی اپنی بیوی کے قریب نہ جانے کی قسم کھانا، اصطلاحی ایلاء یہ ہے کہ کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ وہ چار ماہ تک اپنی بیوی کے قریب نہیں جائے گا پھر اگر اس نے قسم پوری کرلی تو اس کی بیوی اس سے بائن ہوجائے گی اور اگر وہ چار ماہ سے پہلے اپنی بیوی کے قریب چلا گیا تو اس کو قسم توڑنے کا کفارہ دینا ہوگا اور اگر اس نے چار ماہ سے کم کی قسم کھائی، جیسے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک اپنی ازواج کے قریب نہیں جائیں گے تو یہ لغوی ایلاء ہے قسم پوری کرنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔