۲۰ – بَابُ الصَّلوةِ عَلَى الْحَصِيرِ

چٹائی پر نماز پڑھنا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ چٹائی پر نماز پڑھنا جائز ہے۔

کشتی میں نماز پڑھنے کی تحقیق

وَصَلَّى جَابِرٌ وَأَبُو سَعِيدٍ فِي السَّفِينَةِ قَائِمًا.

اور حضرت جابر اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہما نے کشتی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھی۔

اس تعلیق کی اصل حسب ذیل حدیث ہے:

حمید بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کشتی میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو حضرت انس کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن ابی عتبہ نے بیان کیا وہ اس وقت ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید الخدری، حضرت ابوالدرداء اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا، حمید نے کہا: انہوں نے اور بھی کچھ لوگوں کے اسماء ذکر کیے، پس ہمارے امام کشتی میں کھڑے ہوئے ہم کو نماز پڑھا رہے تھے اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور اگر ہم چاہتے تو کشتی کو ساحل پر لگاکر کشتی سے باہر آسکتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبه : ۶۵۶۳ دار الکتب العلمیہ بیروت 1416ھ )

اس اثر کو چٹائی پر نماز پڑھنے کے باب میں ذکر کیا ہے کیونکہ دونوں میں یہ مناسبت ہے کہ چٹائی پر نماز پڑھنے والا بھی زمین سے منفصلی ہے اور کشتی پر نماز پڑھنے والا بھی زمین سے منفصل ہے۔

کشتی میں نماز پڑھنے کے متعلق فقہاء احناف کا نظریہ

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ لکھتے ہیں:

اس اثر سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کشتی پر نماز پڑھنا اس وقت جائز ہے، جب نمازی کھڑا ہوا ہو ۔

امام ابوحنیفہ نے یہ کہا ہے کہ کشتی میں کھڑے ہوکر اور بیٹھ کر دونوں طرح نماز پڑھنا جائز ہے، خواہ عذر ہو یا نہ ہو، حسن بن مالک، ابوقلابہ اور طاؤس کا بھی یہی قول ہے اور کشتی میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق حسب ذیل آثار ہیں:

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ہم جنادہ بن ابی امیہ کے ساتھ سمندر کے راستہ جہاد کرتے تھے اور کشتی میں بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔

(مصنف ابن ابی شیبه : ۶۵۵۹ – ج ۲ ص ۶۹ دار الكتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ھ )

ابن سیرین بیان کرتے ہیں : ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بنی سیرین کی طرف بڑے جہاز میں بیٹھ کرگئے، انہوں نے ہماری امامت کی اور بیٹھ کر ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر ہمیں دو رکعت اور پڑھائیں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۶۵۶۰)

خالد بیان کرتے ہیں کہ ابو قلابہ کشتی میں بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 6561)

اور اس لیے کہ کشتی میں سفر کرنے سے عموما سر چکراتا ہے اور گویا کہ یہ عذر محقق ہے اور اولیٰ یہ ہے کہ اگر کشتی سے باہر آکر نماز پڑھ سکتا ہے تو باہر آکر نماز پڑھ لے۔

امام ابو یوسف اور امام محمد نے کہا ہے کہ کشتی میں بغیر عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ قیام نماز کا رکن ہے اور اس کو بغیر عذر کے ترک کرنا جائز نہیں ہے  اور یہ اختلاف اس کشتی میں ہے جو کنارے پر بندھی ہوئی نہ ہو اور اگر کشتی کنارے پر بندھی ہو تو

اس میں بیٹھ کر نماز پڑھنا اجتماعا جائز نہیں ہے، ایک قول یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک کشتی خواہ چل رہی ہو خواہ لنگر انداز ہو اس میں بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے اور اس پر لازم ہے کہ نماز شروع کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرے کیونکہ اس کے لیے کشتی گھر کے حکم میں ہے، حتی کہ جب وہ رکوع اور سجود کرنے پر قادر ہو تو وہ اس میں اشاروں سے نماز نہیں پڑھے گا’ بہ خلاف اس شخص کے جو سواری پر سوار ہو، امام بخاری دوسری تعلیق ذکر کرتے ہیں:

وَقَالَ الْحَسَنُ يُصَلَّى قَائِمًا مَا لَمْ تَشُقَ عَلَى أصْحَابِكَ تَدُورُ مَعَهَا، وَإِلَّا فَقَاعِدًا.

اور حسن بصری نے کہا: کھڑے ہوکر نماز پڑھے جب تک کہ تمہارے اصحاب پر دشوار نہ ہو، تم کشتی کے ساتھ گھومتے رہو ورنہ بیٹھ کر نماز پڑھو۔

اس تعلیق کی اصل حسب ذیل احادیث ہیں:

عاصم بیان کرتے ہیں کہ شعبی، حسن بصری اور ابن سیرین نے کہا: کشتی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھو حسن بصری نے کہا: تمہارے اصحاب پر دشوار نہ ہوتو ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 6565)

ابن سیرین نے کہا: تم چاہو تو کشتی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھو اور تم چاہو تو بیٹھ کر نماز پڑھو اور کھڑے ہونا افضل ہے۔(مصنف ابن ابی شیبه : 6566)

حسن بصری اور ابن سیرین نے کہا: کشتی میں کھڑے ہو کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھو اور جب کشتی قبلہ سے گھوم جائے تو تم بھی اس کے ساتھ گھوم جاؤ ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۶۵۷۷)

علامہ عینی نے کہا ہے کہ اگر تم پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنا دشوار ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھو کیونکہ حرج کو دور کیا گیا ہے۔عمدة القاری ج 4 ص ۱۶۲ دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ )

چلتی ٹرین مین نماز پڑھنے کی تحقیق

اگر کوئی ٹرین ڈیڑھ، دو گھنٹہ تک مسلسل تیز رفتاری سے دوڑتی رہے اور درمیان میں بالکل نہ رکے اور اس دوران نماز کا وقت آکر نکل جائے تو چلتی ٹرین میں نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ اس حالت میں زمین پر اتر کر نماز پڑھنا ممکن نہیں ہے اگر اس نے زمین پر اترکر نماز پڑھنے کی کوشش کی تو اس کی ہلاکت کا یقینی خطرہ ہے

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

ولا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ. (البقره:١٩٥)

اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔

وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ (النساء:۲۹)

اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو۔

اور جب میدان جہاد میں دشمن سے قتال کے دوران نماز کا وقت آجائے اور معمول کے مطابق سواری سے اترکر زمین پر نماز پڑھنے میں جان کی ہلاکت کا خطرہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ چلتے ہوئے نماز پڑھ لی جائے یا سواری پر نماز پڑھ لی جائے

قرآن مجید میں ہے:

فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُکبَانًا (البقره: 239)

اگر تم کو جان کا خوف ہو تو چلتے ہوئے نماز پڑھو یا سواری پر۔

اور اگر سفر کے دوران ٹرین اتنے وقت کے لیے ٹھہرتی ہے کہ اس میں نماز پڑھی جاسکتی ہے پس جب ٹرین رک جائے تو اس میں نماز پڑھنے بہرحال کسی صورت میں نماز کو ترک نہ کرے اس مسئلہ کو زیادہ دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ ہم شرح صحیح مسلم میں لکھ چکے ہیں، دیکھئے شرح صحیح مسلم: ۱۵۱۸ – ج ۲ ص ۴۰۷-۳۹۷۔

۳۸۰ – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ  إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بنِ مَالِكِ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةً دَعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَام صَنَعَتُهُ لَهُ، فَاكَلَ مِنْه،ُ ثُمَّ قَالَ قُومُوا فَلا صَلَّى لَكُمْ، قَالَ أَنَسٌ فَقَمْتُ إلى حَصِيرٍ لنا، قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لَبِسَ، فَنَضَحُتُهُ بِمَاءٍ فَقَام رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ وَالْيَتِيمُ وَرَاءَةَ وَالْعَجُوْزُ مِنْ وَرَائِنَا ، فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ .

اطراف الحدیث: ۷۲۷ – 860-۸۷۱- ۸۷۴ – 1164

صحیح مسلم : 658، الرقم المسلسل :1471 سنن ابوداؤد : ۶۱۲ سنن ترمذی: 454-۲۳۴، سنن نسائی:۱۸۰۱ سنن ابن ماجہ : ۷۵۶ السنن الکبری للنسائی: ۷۲۷ صحیح ابن حبان : ۲۲۰۵ شرح السنة : ۸۲۸ ‘ مسند احمد ج ۳ ص ۱۳۱ طبع قدیم،  مسند احمد : ۱۲۳۴۰ – ج ۱۹ ص ۳۴۷ مؤسسة الرسالة’ بیروت جامع المسانيد لابن الجوزی : 166،  مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبردی از اسحاق بن عبدالله بن ابی طلحہ از حضرت انس بن مالک  رضی اللہ عنہ کہ ان کی دادی حضرت مليکه رضی اللہ عنہا نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا، آپ نے اس کو کھایا پھر فرمایا: کھڑے ہو میں تم کو نماز پڑھاؤں، حضرت انس نے کہا: میں اس چٹائی کی طرف کھڑا ہوا جو لمبے عرصہ سے استعمال کی وجہ سے میلی ہوچکی تھی، میں نے اس کو پانی سے دھویا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میں نے اور یتیم نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہوئی، پس رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ چلے گئے۔

حدیث مذکور کے رجال

(۱) عبد الله بن يوسف التنيسی

(۲) امام مالک بن انس

(۳) اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ ،ان کو اسحاق بن ابی طلحہ بھی کہا جاتا ہے

(۴) زید بن سہل الانصاری البخاری ،امام مالک حدیث میں اسحاق کے اوپر کسی کو مقدم نہیں کرتے تھے یہ ۱۳۲ھ میں مدینہ میں فوت ہوگئے تھے

(۵) حضرت انس بن مالک رضی الله  عنہ

( ۶ ) ان کی دادی حضرت ملیکہ ۔

(عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۶۳)

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ اس میں چٹائی پر نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔

حدیث مذکور سے مستنبط مسائل

اس حدیث میں ذکر ہے کہ حضرت انس کی دادی نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی تو آپ نے اس کو قبول فرمالیا’اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو کھانے کی دعوت کو قبول کرلینا چاہیے۔

کھانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو نماز پڑھائی، اس میں گھر میں نوافل کی جماعت کا ثبوت ہے۔

افضل یہ ہے کہ نوافل گھر میں پڑھے جائیں کیونکہ مساجد کو فرائض کی ادائیگی کے لیے بنایا گیا ہے۔

دعوت دینے والے کے گھر کو برکت پہنچانے کے لیے کھانے کے بعد وہاں نفل نماز پڑھنی چاہیے۔۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کا قصد یہ ہو کہ عورت کو نماز کی تعلیم دی جائے کیونکہ عورتیں نماز میں کم حاضر ہوتی تھیں ۔

جانماز کو میل کچیل سے صاف رکھنا چاہیے اور مہمان کی تکریم کے لیے جانماز کو دھوکر صاف کرنا چاہیے۔

بچہ کو مرد کے ساتھ ایک صف میں کھڑا کرنا چاہیے اور عورتوں کو مردوں سے مؤخر کھڑا کرنا چاہیے۔

(عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۶۶ – ۱۶۵ دار الكتب العلمیة بیروت فتح الباری ج ۲ ص ۵۴ دار المعرفۃ بیروت )

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۳۹۸ – ج ۲ ص ۲۹۳ پر مذکور ہے وہاں کسی عنوان کے بغیر اس کی شرح کی گئی ہے۔