کتاب الصلوۃ باب 24 حدیث نمبر 386
٢٤ – بَابُ الصَّلوةِ فِي النِّعَالِ
جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے باب سابق میں چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ کر نماز پڑھنے کا حکم بیان کیا تھا اور اس باب میں پیروں کو جوتوں سے ڈھانپ کر نماز پڑھنے کا حکم بیان کیا ہے۔
٣٨٦ – حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَة قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَزْدِيُّ ،قَالَ سالت انسَ بْنَ مَالِكٍ اكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ ؟ قَالَ نَعَمْ طرف الحديث : ۵۸۵
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کیبانہوں نے کہا: ابو مسلمہ سعید بن یزید الازدی نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں!
( صحیح مسلم : 555، الرقم المسلسل : 1214، سنن ترمذی: 400 ، سنن نسائی : 575، سنن دار قطنی ج ۱ ص 316، سنن دارمی : ۱۳۷۷ المنتقی : 174، مسند ابویعلی : ۴۳۴۲ – 3667، صحیح ابن خزیمہ : ۱۰۱۰ سنن بیہقی ج ۲ ص 341، شرح السنته : ۵۳۲ ‘ مسند احمد ج ۳ ص ۱۰۰ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۱۹۷۶ – ج ۱۹ ص٬۳۸ مؤسسة الرسالة بیروت)
اس حدیث کے چار راوی ہیں ان کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ جب حضرت انس سے پوچھا گیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے کہا: ہاں ! یعنی آپ جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے اور یہی باب کا عنوان ہے۔
جوتے پہن کر نماز پڑھنے کے متعلق دیگر احادیث
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے تو اچانک آپ نے اپنے جوتے اتار دیئے اور ان کو بائیں طرف رکھ دیا، جب صحابہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو آپ نے پوچھا: تمہیں اپنے جوتے اتارنے پر کس چیز نے برانگیختہ کیا ؟ انہوں نے کہا: ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی جوتے اتار دیئے، آپ نے فرمایا: بے شک مجھے جبریل نے آکر خبر دی تھی کہ آپ کے جوتوں میں کوئی گھناؤنی چیز یا نجاست ہے تو میں نے ان جوتوں کو اتار دیا پس جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو دیکھ لے، پس اگر اس کے جوتوں میں کوئی گھناؤنی چیز یا نجاست ہو تو اس کو رگڑ کر صاف کرلے، پھر ان کو پہن کر نماز پڑھے۔( سنن ابوداؤد : ۶۵۰ سنتہ ابی عاصم ج ۲ ص ۹۲ سنن بیہقی ج ۲ ص 402، مشکوۃ : 766)
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود کی مخالفت کرو وہ جوتے اور موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے ۔ (سنن ابو داؤد : ۶۵۲)
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد ( عبداللہ بن عمرو بن العاص) سے اور وہ اپنے دادا ( حضرت عمرو بن العاص ) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے پیر اور جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔( سنن ابوداؤد : ۶۵۳ سنن ابن ماجه: ۱۰۳۸)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے اتارے تو ان جوتوں سے کسی کو ایذاء نہ پہنچائے اور ان جوتوں کو اپنے دونوں پیروں کے درمیان رکھے یا جوتے پہن کر نماز پڑھے۔سنن ابوداؤه : 655 )
امام غزالی اور حافظ عینی کے نزدیک جوتے پہن کرنماز پڑھنا افضل ہے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگے پیر بھی نماز پڑھی ہے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کے قصد سے ننگے پیر نماز پڑھنی چاہیے، علامہ بدر الدین عینی حنفی لکھتے ہیں :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن کر نماز پڑھنے اور یہود کی مخالفت کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے یہود کی مخالفت کے قصد سے جوتے پہن کر نماز پڑھنا مستحب ہے اور یہ سنت مقصودہ بالذات نہیں ہے اور آپ نے چونکہ ننگے پیر بھی نماز پڑھی ہے اس لیے ننگے پیر نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے اور امام غزالی نے احیاء العلوم میں بعض فقہاء سے نقل کیا ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا افضل ہے۔(عمدة القاری ج 4 ص 177 دارالکتب العلمیہ بیروت 1421ھ )
حافظ ابن حجر کے نزدیک جوتے پہن کر نماز پڑھنے کے بجائے جوتے اتارکر نماز پڑھنا افضل ہے
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:
علامہ ابن دقیق العید نے کہا ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنے کی رخصت ہے، یہ مستحب نہیں ہے کیونکہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا نماز کی سنت مقصودہ نہیں ہے قرآن مجید میں ہے: تم ہر نماز میں اپنی زینت پہنو (الاعراف: ۳۱) ہر چند کہ جوتے پہننا لباس کی زینت میں داخل ہے لیکن اس کے خلاف یہ ہے کہ انسان جوتے پہن کر زمین پر چلتا ہے اور زمین پر اکثر نجاستیں پڑی ہوتی ہیں (ہمارے شہروں میں گٹر سے ابلا ہوا نجس پانی سڑکوں پر پڑا ہوتا ہے، جن کی نجاست سے جوتے آلودہ ہوجاتے ہیں۔ سعیدی ) اس وجہ سے نماز میں جوتوں کی زینت ساقط ہوجاتی ہے اور جن جوتوں کی زینت اور ازالہ نجاست میں تعارض ہو تو ازالہ نجاست کو ترجیح دی جائے گی اور جوتوں کو اتار کر نماز پڑھنا راجح ہوگا کیونکہ وہ نجاست سے آلودہ ہوتے ہیں اور جوتوں کی زینت مرجوح ہوگی اور جب مفاسد کو دفع کرنے اور مصالح کے حصول میں تعارض ہو تو مفاصد کے دفع کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے لہذا نماز میں جوتے پہننے کی زینت اور جوتے اتارکر ان کی نجاست کے ازالہ میں جب تعارض ہوگا تو جوتے اتار کر نماز پڑھنے کو ترجیح دی جائے گی ۔(فتح الباری ج ۲ ص ۵۷ موضحا و مفصلا دار المعرفۃ بیروت 1426ھ )
حافظ ابن حجر عسقلانی نے جو اصولی بحث کی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ جوتے اتارکر نماز پڑھنا افضل ہے جب کہ جوتے اتار کر نماز پڑھنا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے لہذا آپ کی سنت کے قصد سے جوتے اتار کر نماز پڑھنی چاہیے۔
جوتوں پر لگی ہوئی نجاست کے ازالہ میں مذاہب ائمہ
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
جب جوتوں میں نجاست نہ ہو تو جوتے پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر جوتوں میں نجاست ہو تو ان کو رگڑ کر صاف کر لیا جائے پھر ان کو پہن کر نماز پڑھی جائے۔
اوزاعی اور ابوثور وغیرہ نے یہ کہا ہے کہ جب جوتوں پر تر نجاست ہو تو ان کو مٹی میں رگڑ لیا جائے تو وہ پاک ہوجاتے ہیں اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ نے یہ کہا ہے کہ تر نجاست سے اس وقت تک جوتے پاک نہیں ہوں گئے جب تک کہ ان کو پانی سے دھویا نہ جائے اور اگر خشک نجاست ہو تو اس کو رگڑ کر صاف کرنے سے جوتے پاک ہو جائیں گے اور امام حمد اور امام شافعی نے یہ کہا ہے کہ نجاست تر ہو یا خشک جب تک جوتوں کو پانی سے دھویا نہیں جائے گا وہ پاک نہیں ہوں گے۔ شرح ابن بطال ج ۲ ص ۵۵ – ۵۴ ‘دارالکتب العلمیہ بیروت
ہمارے دور میں اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں کہ جوتے اتار کر نماز پڑھی جائے
میں کہتا ہوں کہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی متوفی ۵۹۳ھ نے کہا ہے کہ جس چیز پر ایسی نجاست لگی ہو جو دکھائی دیتی ہو اس کو زائل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو اتنی بار دھویا جائے کہ دھونے والے کو ظن غالب ہو کہ وہ نجاست زائل ہو گئی ہے اور جو نجاست دکھائی نہ دیتی ہو ( جیسے جانوروں کا پیشاب اور گٹر کا پانی) اس کو پاک کرنے کے لیے اس کو تین مرتبہ دھونا ضروری ہے اور تین مرتبہ دھونے کی اصل یہ حدیث ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو پانی میں اس وقت تک اپنا ہاتھ نہ ڈالے جب تک کہ اس کو تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔ (سنن نسائی: 161۔ ج اص ۱۰۷ دار المعرفۃ بیروت 1412ھ )
اور ظاہر الروایۃ میں ہے کہ تین دفعہ دھونے میں ہر بار نچوڑنا ضروی ہے۔ (ہدایہ اولین ص ۷۸ مکتبہ شرکتہ علمیہ ملتان )
اور جس چیز کو نچوڑا نہ جاسکے جیسے چمڑا ریگزین اور پلاسٹک وغیرہ اس کو ہر بار دھونے کے بعد خشک کیا جائے اور یہ خشک کرنا نچوڑنے کے قائم مقام ہے، ہمارے شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں بالعموم گھوڑوں، گدھوں، کتوں اور بلیوں کا پیشاب اور اُبلے ہوئے گٹروں کا پانی پڑا ہوا ہوتا ہے، جس سے جوتوں کے تلے نجس ہوجاتے ہیں اور اس نجاست کو زائل کرنے کے لیے ان کو اس طرح تین بار دھونا ضروری ہے کہ ان کو ہر بار دھوکر خشک کیا جائے کیونکہ ان کو نچوڑ نہیں جاسکتا، اس کے بغیر جوتے پاک نہیں ہوں گے اور ناپاک جوتوں کے ساتھ کسی کے نزدیک بھی نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اور اس پر مشقت عمل میں اتنا وقت صرف ہوگا کہ نماز کا وقت نکل جائے گا اس لیے ہمارے دور میں اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ جوتے اتار کر ننگے پیر نماز پڑھی جائے اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگے پیر بھی نماز پڑھی ہے، اس لیے اس میں حصول سنت کا قصد کر لیا جائے۔
باب مذکور کی حدیث شرح حیح مسلم : 138 – ج ۲ ص 124 پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح کے حسب ذیل عنوان ہیں :
جوتیوں کے ساتھ نماز پڑھنا
جوتیوں کی طہارت
چمڑے اور پلاسٹک کی طہارت