۳۹ –     بَابُ إِذَا بَدَرَهُ الْبُزَاقُ فلْيَأْخُذُ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ

جب بے اختیار بلغم نکل آئے تو اس کو کپڑے کے پلو میں رکھ لے

یعنی جب بے اختیار کھانسی اٹھے اور بلنم نکل آئے جس کو روکنے پر وہ قادر نہ ہوتو اس کو کپڑے میں لپیٹ لے۔

٤١٧ – حَذَتْنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا زهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاى نُخَامَةٌ فِي الْقِبْلَةِ فَحَكَهَا بیدہ، ورئى مِنْهُ كَرَاهِيَةٌ ، اوْ رُئي كَرَاهِيَتهُ لِذلک وَشدَتُهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ في صلوتہ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ، أَوْ رَبُّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قبْلَتِهِ ، فَلا يَبزُقَنَّ فِي قِبْلَتِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ اَوْ تَحْتَ قَدمہ،ثم أخذَ طَرَف رِدَائهِ، فَبَزَقَ فِيْهِ، وَرَدَّ بَعْضَهُ علی بَعْضٍ قَالَ (اَوْ يَفْعَلُ هَکذا)۔

جامع المسانيد لابن الجوزی : ۵۰۲ مکتبة الرشد ریاض (1426ھ

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مالک بن اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حمید نے حدیث بیان کی از حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی جانب میں بلغم دیکھا،  آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا اور آپ پر کراہیت دیکھی گئی یا  اس وجہ سے آپ پر شدید کراہیت دیکھی گئی اور آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے رب سے مناجات کرتا ہے یا اس کا رب اس کے اور اس کے قبلہ کے درمیان ہوتا ہے پس وہ اپنے قبلہ کی جانب نہ تھوکے لیکن بائیں جانب تھوکے یا اپنے قدم کے نیچے ،پھر آپ نے اپنی چادر کا پلو پکڑا اور اس میں تھوک کر اس کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا اور فرمایا: (یا اس طرح کرے)۔

مسجد کی حفاظت کا مستحب ہونا اور دیگر مسائل

اس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ گندگی کو زائل کرنا اور مسجد کو اس سے پاک رکھنا مستحب ہے اور اس میں یہ ثبوت ہے کہ امام اور سربراہ کو مسجد کے احوال کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور مسجد کی تکریم اور اس کی حفاظت کرنی چاہیے اور اس میں یہ ثبوت ہے کہ اگر نمازی کو بے اختیار بلغم آجائے تو وہ اس کو اپنے رومال یا کپڑے میں تھوک لے اور نماز کو فاسد نہ کرے اور اس میں ثبوت ہے کہ تھوک، بلغم اور رینٹ پاک ہیں، اگر وہ کپڑے پر لگے ہوں تو نماز جائز ہے، لیکن ان سے گھن آتی ہے اور اس میں یہ ثبوت ہے کہ دائیں جانب کو بائیں جانب پر شرف حاصل ہے باقی مضمون کی شرح حدیث : ۴۰۵ میں دیکھیں۔