کتاب الصلوۃ باب 33 حدیث نمبر 405
– 33 بابُ حَكِ الْبَزاقِ بِالْيَدِ مِنَ الْمَسْجِدِ
بلغم کو مسجد سے ہاتھ کے ساتھ کھرچنا
اس باب کی ابواب سابقہ سے یہ مناسبت ہے کہ اس سے پہلے قبلہ کے متعلق ابواب کا ذکر ہو رہا تھا اور اب ابواب مسجد کا ذکر ہورہا ہے اور قبلہ اور مسجد میں مناسبت ظاہر ہے۔
٤٠٥ – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَّاى نُخَامَةٌ فِي الْقِبْلَةِ ، فَشَقَ ذلک علیہ، حتی رئی فِي وَجْهِهِ ، فَقَامَ فَحَكَهُ بِيَدِهِ ، فَقَال ان أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلُوتَهِ ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي ربہ، او ان رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَلَا يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ قبلتہ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ. ثُمَّ اَخَذَ طرف رِدَائِهِ ، فَبَصَقَ فِيهِ ، ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فقال او يَفْعَلُ هكذا. (سنن ابوداود : ۳۸۹ مسند الحمیدی : 1219، سنن داری: ۱۴۰۳ مسند احمد ج ۳ ص 188-199)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل بن جعفر نے حدیث بیان کی از حمید از حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ ( کی جانب ) بلغم کو دیکھا آپ کو یہ ناگوار گزرا حتی کہ آپ کے چہرے پر اس کے اثرات ظاہر ہوئے، آپ نے اس بلغم کو اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا پھر آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے کلام کرتا ہے یا اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان (متوجہ ) ہوتا ہے، سو تم میں سے کوئی شخص قبلہ کی جانب نہ تھوکے لیکن اپنی بائیں جانب یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک دے پھر آپ نے اپنی چادر کے ایک پلو کو پکڑ کر اس میں تھوکا، پھر تھوک کے بعض حصہ کو بعض پر مل دیا، پھر فرمایا: یا اس طرح کرے۔
اس حدیث کی شرح صحیح البخاری: ۲۴۱ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: بلغم اور رینٹ وغیرہ کو کپڑے میں ملنا۔
قبلہ کا احترام کرنا اور حدیث مذکور کے دیگر مسائل
علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں قبلہ کی تکریم اور اس کی تنزیہ کا ثبوت ہے، کیونکہ نمازی اپنے رب سے مناجات کررہا ہوتا ہے اس لیے اس پر واجب ہے کہ جب وہ دنیا کے لوگوں کے چہروں کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو جن چیزوں سے ان لوگوں کی تکریم کرتا ہے، قبلہ کی بھی ان چیزوں سے تکریم کرے بلکہ ان سے زیادہ تکریم کرے اور جب وہ مخلوق کے منہ کے سامنے تھوکنا ان کے ادب و احترام کے خلاف سمجھتا ہے تو خالق کے سامنے تھوکنا اس سے زیادہ خلاف ادب سمجھے۔
طاؤس رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اللہ کے قبلہ کی تکریم کرو اور قبلہ کی جانب نہ تھوکو۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تھوک اور بلغم پاک ہوتا ہے، اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کپڑے میں ملنے کا حکم دیا ہے، تاہم طبعا یہ مکروہ ہے اور اس سے گھن آتی ہے۔ (شرح ابن بطال ج 3 ص ۸۱ دار الكتب العلمیة بیروت، ۱۴۲۴ھ )
نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دائیں جانب کو بائیں جانب پر فضیلت حاصل ہے، اس لیے آپ نے بائیں جانب یا قدموں کے نیچے تھوکنے کا حکم دیا ہے یعنی اگر شدید کھانسی کے ساتھ بلغم آئے اور اس کو تھوکے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو دائیں جانب کے بجائے بائیں جانب تھوکے یہ حکم اس وقت تھا جب مسجد کا کچا فرش ہوتا تھا نمازی اپنی بائیں جانب تھوک کر اس کو مٹی کے نیچے دبا دے لیکن اب جب کہ مسجد میں دریاں اور قالین بچھے ہوئے ہوتے ہیں تو نمازی دریوں یا قالین کے اوپر تھوک کر دریوں اور قالینوں کو خراب نہ کرے بلکہ اگر مجبورا اس کو تھوکنا پڑے تو اپنے کپڑے کے پلو میں تھوک لے۔
اس حدیث میں مذکور ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی جانب بلغم دیکھا تو آپ کو ناگوار گزرا اور آپ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اس سے معلوم ہوا کہ امت کے ناشائستہ کاموں سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع اور انکسار اور اپنے ہاتھوں سے دیوار قبلہ کو صاف کرنا
اس حدیث میں مذکور ہے کہ کسی کے جمے ہوئے بلغم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے کھرچ کر صاف کیا اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں مسجد کی کتنی عزت اور قبلہ کا کتنا احترام تھا۔ آج اگر ہماری مساجد میں سے کسی مسجد کے قبلہ میں یا دیوار قبلہ میں کسی کا بلغم یارینٹ ہو تو کسی نمازی کو اسے خود صاف کرنے کا خیال نہیں آئے گا بلکہ وہ خادم یا مؤذن کو بلا کر ڈانٹے گا اور اسے صاف کرنے کے لیے کہے گا اور اسے خود کسی کا بلغم صاف کرتے ہوئے عار آئے گا یا گھن آئے گی اور وہ اس کو اپنے وقار اور مرتبہ کے خلاف سمجھے گا۔
سوچیے ! ہم کیا ہیں اور ہمارا مقام کیا ہے! یہ دو عالم کے سردار عرش کے شہ سوار اور محبوب کردگار ہیں ان کو دیوار قبلہ سے کسی کا بلغم یا رینٹ صاف کرتے ہوئے کوئی کراہت نہیں آرہی، کوئی گھن نہیں آرہی، یہ اپنے ہاتھ سے بلغم صاف کر رہے ہیں یہ وہ ہاتھ میں جو اپنے ہاتھوں سے کفار کی طرف کنکریاں ماریں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمى. (الانفال: ۱۷) (اے رسول معظم !) تم نے کنکریاں نہیں ماریں جب تم نے
کنکریاں ماری تھیں لیکن وہ کنکریاں اللہ نے ماری تھیں۔
جب ان کا ہاتھ صحابہ کے ہاتھوں پر ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح:١٠)
اللہ کا ہاتھ ہے ان کے ہاتھوں پر۔
جوان کے ہاتھ پر بیعت کرے تو اللہ فرماتا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبایعُوْنَ اللَّهَ.( الفتح:10)
بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ یقینا اللہ سے بیعت کر رہے ہیں ۔
یہ وہ ہاتھ ہیں کہ وہ ان سے اشارہ کریں تو چاند شق ہو جائے سورج پلٹ جائے یہ وہ ہاتھ ہیں کہ دعا کے لیے اٹھیں تو اجابت آگے بڑھ کر استقبال کرے۔
وہ ان ہاتھوں سے کسی کے بلغم اور رینٹ کی گندگی کھرچ رہے ہیں اور دیوار قبلہ کو صاف کر رہے ہیں ۔
[…] الذکر دونوں حدیثوں (407-406) کی شرح وہی ہے جو صحیح البخاری : 405 میں کردی گئی […]
[…] حدیث کی شرح بھی صحیح البخاری:۴۰۵ میں گزر چکی ہے وہاں ہاتھ سے بلغم صاف کرنے کا ذکر تھا’ […]
[…] حدیث کی شرح بھی صحیح البخاری : 405 میں گزرچکی […]
[…] کی شرح کے لیے بھی صحیح البخاری:۴۰۵ کا مطالعہ […]
[…] کی شرح کے لیے صحیح البخاری : ۴۰۵ کا مطالعہ […]
[…] صحیح البخاری: ۴۰۵ کا مطالعہ کریں۔ […]