کتاب الصلوۃ باب 47 حدیث نمبر 426
٤٧ – بَابُ التَّيَمُّنِ فِي دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَغَيْرِه
مسجد وغیرہ میں دخول کے لیے دائیں طرف سے داخل ہونا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب انسان مسجد میں یا گھر میں داخل ہو تو دائیں طرف سے دخول کی ابتداء کرے۔
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَبْدَا بِرِجْلِهِ الْيُمْنَى، فَإِذَا خَرَجَ بدا برجله اليسرى۔
اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما دخول کے وقت دائیں پیر سے ابتداء کرتے اور خروج کے وقت بائیں پیر سے ابتداء کرتے۔
اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سنت سے یہ ہے کہ جب تم مسجد میں داخل ہو تو دائیں پیر سے ابتداء کرو اور جب تم مسجد سے نکلو بائیں پیر سے ابتداء کرو ۔ (المستدرک : 791 جدید، المستدرک ج ۱ ص ۲۱۸ تقدیم )
٤٢٦ – حَدَّثَنَا سُلْيَمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شعْبَةُ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ،عن مَسْرُوقِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَانِه کلہ،فِي طهُورِهِ وَتَرَجُلِهِ وَتَنعلہ۔
جامع المسانيد لابن الجوزی: ۷۲۳۵ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از الاشعث بن سلیم از والد خود از مسروق از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا وه بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ہوسکے اپنے ہر کام میں دائیں جانب سے ابتداء کو پسند کرتے تھے وضو کرنے میں کنگھی کرنے میں اور جوتی پہننے میں۔
اس حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۱۶۸ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: وضوء اور غسل میں دائیں طرف سے ابتداء کرنا ، اور یہاں اس کا عنوان ہے: مسجد میں دائیں طرف سے داخل ہونا۔