٥٢ – بَابُ كَرَاهِيَةِ الصَّلوةِ فِي الْمَقَابِر

ِ قبرستان میں نماز پڑھنے کی کراہت

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قبرستان میں نماز پڑھنا مکروہ ہے باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت نفی اور اثبات میں ہے۔ باب سابق میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ آگ کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے اور اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قبر کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

٤٣٢ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْداللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا. طرف الحديث : ۱۱۸۷

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی از عبیداللہ انہوں نے کہا: مجھے نافع نے خبردی از حضرت ابن عمر رضی الله عنہما از نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا: اپنے گھروں میں بھی اپنی نمازوں کا حصہ رکھو اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۔

(صحیح مسلم: ۷۷۷ الرقم المسلسل : ۱۷۸۹ سنن ابوداؤ : 1448 – ۱۰۴۳ سنن نسائی: ۱۵۹۷ سنن ابن ماجہ : ۱۳۷۷ مصنف ابن ابی شیبه ج 2 ص ۲۵۵ مسند احمد ج ۲ ص ۶ طبع قدیم، مسند احمد: ۴۵۱۱ – ج ۸ ص ۱۰۵ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس حدیث کے پانچ رجال میں اور ان سب کا پہلے تعارف ہوچکا ہے۔

حدیث مذکور کا باب کے مطابق نہ ہونا

امام بخاری نے اس حدیث کا عنوان قائم کیا ہے: قبرستان میں نماز پڑھنے کی کراہت اور اس عنوان کے تحت جو حدیث ذکر کی ہے وہ اس عنوان کے خلاف ہے کیونکہ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ تم اپنے گھروں میں اس طرح نہ رہو’ جس طرح مردے قبروں میں رہتے ہیں، کیونکہ مردوں کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں اور وہ مکلف نہیں رہتے، اس لیے آپ نے فرمایا ہے: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ یعنی یوں نہ کرو کہ جس طرح مردے قبروں میں نماز نہیں پڑھتے تم بھی اپنے گھروں میں نماز نہ پڑھو،  اور اس حدیث میں اس کا بیان نہیں ہے کہ تم قبرستان میں نماز پڑھو یا نہ پڑھو۔

حافظ شباب الدین ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھے اس حدیث کی مناسبت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ گھروں میں مردوں کو دفن نہ کرو کیونکہ اگر ہمیشہ مردوں کو گھروں میں دفن کیا جائے گا تو گھر قبرستان بن جائیں گے اور پھر گھروں میں نماز پڑھنا مکروہ ہوگا صحیح مسلم کی حدیث میں اس کی صراحت ہے آپ نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور اس کا ظاہر معنی یہ ہے کہ گھروں میں مردوں کو دفن نہ کرو۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۸۶ ‘ دار المعرفة، بیروت ۱۴۲۶ھ)

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث کے ظاہر لفظ اس معنی پر دلالت نہیں کرتے، بلکہ جس معنی پر اس حدیث کے ظاہر لفظ دلالت کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ تم اپنے گھروں کو قبرستان کی طرح نماز سے خالی نہ رکھو، کیونکہ قبرستان عبادت کی جگہ نہیں ہے اسی وجہ سے بعض فقہاء نے قبرستان میں نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص 277، دارالكتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ)

قبرستان میں نماز کی ممانعت کے متعلق احادیث

قبرستان میں نماز کی کراہت پر حسب ذیل احادیث دلالت کرتی ہیں:

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے سات جگہوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: (۱) بیت الخلاء (۲) کمیلا (ذبح خانه ) (۳) مقبرہ (۴) عام راستہ (۵) حمام (۶) اونوں کا اصطبل (۷) بیت اللہ کی چھت کے اوپر۔سنن ترمذی: ۳۴۶ سنن ابن ماجہ : 746-747

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حمام اور مقبرہ کے سوا تمام روئے زمین مسجد ہے۔ (سنن ابوداؤد : ۴۹۳ سنن ترمذی : ۳۱۷، سنن ابن ماجہ :۷۴۵ مسند احمد ج ۳ ص ۸۳)

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: ۱۷۱۷ – ج ۲ ص ۵۳۴ پر مذکور ہے اس کی شرح کا عنوان ہے: گھر میں نوافل کی فضیلت۔