کتاب الصلوۃ باب 58 حدیث نمبر 441
٤٤١ – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِی سھل بنِ حَازِمٍ عَنْ سَعْدٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ، فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي البیت، فَقَالَ أَيْنَ ابْنُ عَمِكَ؟ قَالَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شیء فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ، فَلَمْ يَقِلْ عِندِي، فَقَالَ رَسول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنسان انظر این ھو۔ فَجَاءَ فَقَالَ يَارَسُوْلَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ راقد فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وھو مضطَجِعْ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقه، وَأَصابہ تراب فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ قُمْ أَبَا تُرَابٍ قمْ أَبَا تُراب۔
اطراف الحدیث: ۳۷۰۳- ۶۲۰۴-6280
صحیح مسلم : ۲۴۰۹ الرقم المسلسل : 6112، الادب المفرد : ۸۵۲ جامع المسانيد لابن الجوزی : 2394، مکتبہ الرشد ریاض 1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ بن سعید نے حدیث کے بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن ابی حازم نے حدیث بیان کی از ابی حازم از ابی سہل بن حازم از حضرت سعد رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے، پس آپ نے گھر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہ پایا پس آپ نے فرمایا: تمہارے عم زاد کہاں ہیں؟ حضرت سیدہ فاطمہ نے کہا میرے اور ان کے درمیان کچھ اختلاف ہوگیا تھا وہ مجھ پر ناراض ہوئے پس گھر سے نکل گئے اور میرے پاس قیلولہ نہیں کیا ( دوپہر کو گھر میں نہیں سوئے) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص سے فرمایا جاؤ دیکھو! وہ کہاں ہیں؟ وہ شخص آیا اور اس نے بتایا: یارسول اللہ! وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو وہ مسجد میں لیٹے ہوئے تھے ان کی چادر ان کے پہلو سے ڈھلک گئی تھی اور اس پر منی لگ گئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مٹی صاف کر رہے تھے اور فرمارہے تھے: اے ابوتراب! اٹھو اے ابوتراب! اٹھو۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) قتیبہ بن سعید
(۲) عبد العزیز بن ابی حازم ،یہ مدنی ہیں، امام مالک کے بعد مدینہ میں ان سے بڑا اور کوئی فقیہ نہیں تھا۔ یہ 184 ھ میں فوت ہوگئے تھے
(۳) ابو حازم، ان کا نام سلمہ بن دینار الاعرج ہے
(۴) حضرت سہیل بن سعد ،یہ صحابی ہیں اور صحابہ میں سب سے آخر میں فوت ہوئے ۔(عمدۃ القاری ج ۴ ص ۲۹۳)
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس میں مذکور ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے۔
حضرت علی کو حضرت فاطمہ کا عم زاد کہنے کی توجیہ، کنیت کا معنی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
اس حدیث میں مذکور ہے: آپ نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تمہارے عم زاد کہاں ہیں؟ اس سے مراد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں اور وہ حقیقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عم زاد تھے آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تمہارے خاوند کہاں ہیں؟ یا علی کہاں ہیں؟ کیونکہ آپ نے جان لیا تھا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مناقشہ ہے تو آپ نے از راہ شفقت ان کے اور حضرت علی کے درمیان نسبی قرابت کا ذکر فرمایا نیز اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ والد اپنی بیٹی کے گھر میں اس کے شوہر کی اجازت کے بغیر داخل ہوسکتا ہے۔
اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے حضرت علی سے فرمایا: اے ابوتراب ! اٹھو، اس میں یہ دلیل ہے کہ کنیت میں یہ ضروری نہیں ہے کہ بیٹے یا بیٹی کی طرف نسبت ہو بلکہ جس چیز کے ساتھ بھی کسی کا اشتعال ہو اس کی طرف نسبت کی جاسکتی ہے۔ کنیت میں جو “اب ” کا لفظ ذکر ہوتا ہے اس کا معنی ہے: صاحب یا والا ابو تراب ” کا معنی ہے: صاحب تراب یا مٹی والا، ابوہریرہ کا معنی ہے: بلی والا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ بہت پسند تھا کہ ان کو ابوتراب کہہ کر پکارا جائے اور وہ اس سے بہت خوش ہوتے تھے اس حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بلانے اور اٹھانے مسجد میں گئے۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۱۰۷ – ج 6 ص 960 – ۹۵۵ پر مذکور ہے وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بہت سے فضائل مذکور میں، مگر اس حدیث کی شرح نہیں ہے۔