٥٩ – بَابُ الصَّلوةِ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ

سفر سے آنے کے بعد نماز پڑھنا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص سفر سے آئے تو اسے مسجد میں آکر نماز پڑھنی چاہیے اور اب اکثر ابواب مسجد سے متعلق ہیں اس لیے ان کی باہمی مناسبت بیان کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ تعلیق مذکور ہے:

وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، بَدَا بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّی فیہ۔

اور کعب بن مالک نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آتے تو آپ مسجد سے ابتداء کرتے اور اس میں نماز پڑھتے ۔

اس تعلیق کی اصل صحیح البخاری: ۴۴۱۸ ہے یہ غزوہ تبوک کے بیان میں بہت طویل حدیث ہے جس کو ان شاء اللہ اپنے موقع پر ذکر کیا جائے گا۔

٤٤٣ – حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَر قَالَ حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِی الْمَسْجِدِ ، قَالَ مِسْعَرٌ أَرَاهُ قَالَ ضُحًى، فَقَالَ صَل رَكْعَتَيْنِ. وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي۔

اطراف الحدیث : ۱۸۰۱-۲۳۰۹_۲۳۸۵-۲۳۹۳-2470۔2603۔2604۔2718۔3087۔3090

صحیح مسلم : ۷۱۴ سنن ابوداؤد: 467، سنن ابن ماجه: ۱۰۱۳ سنن ترمذی 316، سنن ابن ماجہ :۷۲۹ السنن الکبری للنسائی: ۸۰۹ صحیح ابن حبان: 2497، حلیة الاولیاء ج ۳ ص ۱۶۸ شرح السنة : ۴۸۰ تاریخ بغداد ج 12 ص ۳۱۸ مصنف عبد الرزاق : 1673، المعجم الكبير : ۳۲۸۰ المعجم الاوسط : ۴۳۲۱۔8953۔9171،  سنن بیہقی ج ۳ ص ۱۹۴ مسند احمد ج ۵ ص ۲۹۵ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۲۵۲۳ – ج ۳۷ ص ۲۰۲ مؤسسة الرسالة بيروت، جامع المسانية لابن الجوزی : ۱۰۱۳ مكتبة الرشد، ریاض ۱۴۲۶ھ 

ٌ امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں خلاد بن بیچی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں مسعر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں محارب بن دثار نے حدیث بیان کی از حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ مسجد میں تھے انہوں نے کہا: میرا گمان ہے کہ وہ چاشت کا وقت تھا۔ آپ نے فرمایا: دو رکعت نماز پڑھو اور میرا آپ پر قرض تھا آپ نے وہ قرض ادا کیا اور مجھے زیادہ دیا۔

اس حدیث کے چار رجال ہیں اور ان سب کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مناسبت

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ اس طرح مناسبت ہے کہ صحیح البخاری : ۲۰۹۷ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا، آپ نے مجھ سے چند اوقیہ کے عوض ایک اونٹ خرید لیا، پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ میں آگئے میں صبح کو پہنچا’ اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: تم اب آئے ہو؟ میں نے کہا : جی ہاں، آپ نے فرمایا: پس مسجد میں داخل ہو اور دو رکعت نماز پڑھو اور یہ اس باب کے عنوان کے مطابق حدیث ہے امام بخاری نے یہاں اس حدیث کو مختصر بیان کیا ہے اور پوری حدیث ذکر نہیں کی، بہرحال امام بخاری نے جتنی حدیث روایت کی ہے وہ اس باب کے عنوان کے مطابق نہیں ہے۔ اس حدیث کی مفصل شرح ہم اپنے مقام پر ان شاء اللہ کتاب البیوع میں بیان کریں گے۔