کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 21 رکوع 14 سورہ السجدۃ آیت نمبر 1 تا 11
sulemansubhani نے Friday، 31 July 2026 کو شائع کیا.
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)
(ف1)
سورۂ سجدہ مکّیہ ہے سوا تین آیتوں کے جو اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِناًسے شروع ہوتی ہیں ، اس سورت میں تیس آیتیں اور تین سو اسّی کلمے اور ایک ہزار پانچ سو اٹھارہ حرف ہیں ۔
الٓمّٓۚ(۱)
تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۲)
کتاب کا اُتارنا (ف۲) بےشک پروردگارِ عالم کی طرف سے ہے
(ف2)
یعنی قرآنِ کریم کا معجزہ کرکے اس طرح کہ اس کے مثل ایک سورت یا چھوٹی سی عبارت بنانے سے تمام فصحاء و بلغاء عاجز رہ گئے ۔
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُۚ-بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ(۳)
کیا کہتے ہیں (ف۳) اُن کی بنائی ہوئی ہے (ف۴) بلکہ وہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے کہ تم ڈراؤ ایسے لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۵) اس امید پر کہ وہ راہ پائیں `
(ف3)
مشرکین کہ یہ کتابِ مقدَّس ۔
(ف4)
یعنی سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ۔
(ف5)
ایسے لوگوں سے مراد زمانۂ فطرت کے لوگ ہیں ، وہ زمانہ کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے سیدِ انبیاء محمدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت تک تھا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی رسول نہیں آیا ۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِؕ-مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍؕ-اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ(۴)
اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا (ف۶) اس سے چھوٹ کر(لا تعلق ہو کر)تمہارا کوئی حمایتی نہ سفارشی (ف۷) تو کیا تم دھیان نہیں کرتے
(ف6)
جیسا استوا کہ اس کی شان کے لائق ہے ۔
(ف7)
یعنی اے گروہِ کُفّار جب تم اللہ تعالٰی کی راہِ رضا اختیار نہ کرو اور ایمان نہ لاؤ تو نہ تمہیں کوئی مدد گار ملے گا جو تمہاری مدد کر سکے نہ کوئی شفیع جو تمہاری شفاعت کرے ۔
یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(۵)
کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک (ف۸) پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا (ف۹) اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں (ف۱۰)
(ف8)
یعنی دنیا کہ قیامت تک ہونے والے کاموں کی اپنے حکم و امر اور اپنے قضا و قدر سے ۔
(ف9)
امر و تدبیر فَنائے دنیا کے بعد ۔
(ف10)
یعنی ایامِ دنیا کے حساب سے اور وہ دن روزِ قیامت ہے ، روزِ قیامت کی درازی بعض کافِروں کے لئے ہزار برس کے برابر ہو گی اور بعض کے لئے پچاس ہزار برس کے برابر جیسے کہ سورۂ معارج میں ہے” تَعْرُجُ الْمَلٰۤئِکَۃُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْ مٍ کَانَ مِقْدَارُہ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ ” اور مومن پر یہ دن ایک نمازِ فرض کے وقت سے بھی ہلکا ہو گا جو دنیا میں پڑھتا تھا جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ۔
ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ(۶)
یہ (ف۱۱) ہے ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا عزّت و رحمت والا
(ف11)
خالق ، مدبِّر جلّ جلالہ ۔
الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ(۷)
وہ جس نے جو چیز بتانی خوب بنائی (ف۱۲) اور پیدائشِ انسان کی ابتدا مٹی سے فرمائی (ف۱۳)
(ف12)
حسبِ اقتضائے حکمت بنائی ، ہر جاندار کو وہ صورت دی جو اس کے لئے بہتر ہے اور اس کو ایسے اعضاء عطا فرمائے جو اس کے معاش کے لئے مناسب ہیں ۔
(ف13)
حضرت آدم علیہ السلام کو اس سے بنا کر ۔
ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ(۸)
پھر اس کی نسل رکھی ایک بے قدر پانی کے خلاصہ سے (ف۱۴)
(ف14)
یعنی نطفہ سے ۔
ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـٕدَةَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ(۹)
پھر اسے ٹھیک کیا اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی (ف۱۵) اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے (ف۱۶) کیا ہی تھوڑا حق مانتے ہو
(ف15)
اور اس کو بے حس بے جان ہونے کے بعد حساس اور جاندار کیا ۔
(ف16)
تاکہ تم سنو اور دیکھو اور سمجھو ۔
وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۬ؕ-بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ(۱۰)
اور بولے (ف۱۷) کیا جب ہم مٹی میں مِل جائیں گے (ف۱۸) کیا پھر نئے بنیں گے ؟ بلکہ وہ اپنے رب کے حضور حاضری سے منکر ہیں (ف۱۹)
(ف17)
منکِرینِ بَعث ۔
(ف18)
اور مٹی ہو جائیں گے اور ہمارے اجزا مٹی سے ممتاز نہ رہیں گے ۔
(ف19)
یعنی موت کے بعد اٹھنے اور زندہ کئے جانے کا انکار کر کے وہ اس انتہا تک پہنچے ہیں کہ عاقبت کے تمام امور کے منکِر ہیں حتّٰی کہ ربّ کے حضور حاضر ہونے کے بھی ۔
قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠(۱۱)
تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے (ف۲۰) پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے (ف۲۱)
(ف20)
اس فرشتہ کا نام عزرائیل علیہ السلام ہے اور وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے روحیں قبض کرنے پر مقرر ہیں ، اپنے کام میں کچھ غفلت نہیں کرتے جس کا وقت آ جاتا ہے بے درنگ اس کی روح قبض کر لیتے ہیں ۔ مروی ہے کہ مَلَک الموت کے لئے دنیا مثلِ کفِ دست کر دی گئی ہے تو وہ مشارق و مغارب کی مخلوق کی روحیں بے مشقّت اٹھا لیتے ہیں اور رحمت و عذاب کے بہت فرشتے ان کے ماتحت ہیں ۔
(ف21)
اور حساب و جزا کے لئے زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے ۔
ٹیگز:-
کنز الایمان , کنز الایمان مع خزائن العرفان