Surah Al-A’raf Ayat No 007
sulemansubhani نے Friday، 31 July 2026 کو شائع کیا.
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآىٕبِیْنَ(7)
ترجمۂ کنز الایمان
تو ضرور ہم ان کو بتادیں گے اپنے علم سے اور ہم کچھ غائب نہ تھے ۔
تفسیر صراط الجنان
{ فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ:تو ضرور ہم ان کو بتادیں گے۔} یعنی قیامت میں ہمارا کفار سے اور ان کے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پوچھ گچھ فرمانا قانونی کاروائی کیلئے ہوگا نہ کہ اس لئے کہ ہمیں اصل واقعہ کی خبر نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کے واقعۂ تہمت میں لوگوں سے دریافت فرمانا امت کی تعلیم کے لئے قانونی کاروائی تھی۔