٧٥ – بَابُ الْأَسِيرِ أَوِ الْغَرِيمِ یرْبَطُ فِي الْمَسْجِدِ

قیدی یا مقروض کو مسجد میں باندھنا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قیدی یا مقروض کو مسجد میں باندھنا جائز ہے اور قاضی شریح یہ حکم دیتے تھے کہ مقروض کومسجد کے ستوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جائے۔

٤٦١ – حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا روح ومُحَمَّدٌ مِنْ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ زِيَاد،ٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عِفْرِيتا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَى الْبَارِحَة، اوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا لِيَقْطَعَ عَلَى الصَّلوةَ ، فَامْكَنَنِی اللهُ مِنْهُ، فَارَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِّنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُكُم فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ (ورَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَب لى مُلْكًا لَّا يَنْبَغِي لَاحَدٍ مِنْ بَعْدِى) (ص:35) قال رَوْحٌ فَرَدَّهُ خاسِنًا.

اطراف الحدیث : ۱۲۱۰-۳۳۸۴ 3423-۴۸۰۸

صحیح مسلم : 541،  الرقم السلسل : ۱۱۸۹ السنن الکبری للنسائی:۱۱۳۹ سنن بیہقی ج ۲ ص ۱۹، شرح السنته : ۷۴۶، صحیح ابن حبان : ۶۴۱۹ مسنداحمد ج ۲ ص ۲۹۸ طبع قدیم، مسند احمد :۷۹۶۹- ج ۱۳ ص ۳۴۹ مؤسسة الرسالة بيروت، جامع المسانيد لابن الجوزی: ۴۹۳۳ مکتبة الرشد، ریاض 1426ھ

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں روح اور محمد بن جعفر نے خبر دی از شعبه از محمد بن زیاد از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملہ آور ہوا یا کوئی اور بات اس کی مثل فرمائی تاکہ وہ میری نماز منقطع کردے، پس اللہ تعالیٰ ہے مجھے اس پر قادر کر دیا، پس میں نے اس کو مسجد کے ستونوں میں ہے کسی ستون کے ساتھ باندھنے کا ارادہ کیا، حتی کہ تم سب صبح کو اس کی طرف دیکھتے پھر مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آئی : اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے بعد اور کسی کے لائق نہ ہو۔ (ص:۳۵) روح نے کہا: پھر آپ نے اس کو ناکام واپس کر دیا۔

حدیث مذکور کے رجال

(1) اسحاق بن ابراہیم اور وہ ابن راھویہ ہیں

(۲) روح بن عبادہ

(۳) محمد بن جعفر، یہ غندر کے نام سے مشہور ہیں

(۴)الحجاج

(۵) محمد بن زیاد

(۶) حضرت ابو ہریرہ رضی الله  عنہ ۔(عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۴۳)

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ حدیث میں قیدی کو مسجد میں باندنے کا ذکر ہے اور یہی اس باب کا عنوان ہے اور رہا مقروض تو عنوان میں اس کو بھی باندھنے کا ذکر ہے اور حدیث میں اس کا اگرچہ ذکر نہیں ہے مگر اس کو قیدی سے قیاس کیا جاسکتا ہے۔

عفریت اور جن کا معنی

اس حدیث میں “عفریت من الجن“ کا ذکر ہے اسی طرح قرآن مجید میں ہے:

قَالَ عِفْرِيتْ مِنَ الْجِنِّ. (النمل: ٣٩)

ایک سرکش جن نے کہا۔

عفریت کا معنی ہے: اجنبی خبیث، زجاج نے کہا: “عفریت کا معنی ہے: جو کسی مشکل اور غیر معمولی کام کو بہت سرعت کے ساتھ کرنے والا ہو، جو چیز موجود ہو اور جگہ نہ گھیرے وہ ارواح ہیں، ان میں جو ارواح اجسام کے ساتھ متعلق نہ ہوں ان کی دو قسمیں ہیں، بعض ارواح علویہ ہیں جیسے فرشتے اور بعض ارواح سفلیہ ہیں اور ارواح سفلیہ کی دو قسمیں ہیں: بعض خیرة ( نیک ) ہیں اور بعض شریرہ (بد) ہیں، جو خیرہ ہیں وہ نیک جنات ہیں اور جو شریرہ ہیں وہ سرکش جنات ہیں، “عفریت” جن بھی ان ہی میں سے ہے۔

”جن” کا معنی ہے: انسان کی آنکھ سے چھپی ہوئی چیز جنات کو اسی لیے جنات کہتے ہیں کہ وہ انسانوں کو نظر نہیں آتے اسی طرح جنت بھی نظر نہیں آتی ، انسان کے دل کو جنان کہتے ہیں، پیٹ کے بچے کو جنین کہتے ہیں یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔

اس حدیث میں “تفلت ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے کسی چیز کا اچانک در پیش ہونا’ البارحة‘کا معنی ہے: گزشتہ شب۔

آیا انسان جنات کو دیکھ سکتے ہیں یا نہیں؟

اس حدیث میں ہے: گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملہ آور ہوا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جن کو دیکھ لیا تھا،  نیز آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے اس کو کسی ستون کے ساتھ باندھنے کا ارادہ کیا حتی کہ تم سب اس کو دیکھتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنات کو دیکھنا ممکن ہے کیونکہ جنات اجسام لطیفہ ناریہ ہیں، لہذا ان کو دیکھنا محال نہیں ہے اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ قرآن مجید میں ہے:

إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ .الاعراف: 27

بے شک وہ (شیطان) اور اس کا لشکر تمہیں اس طور سےدیکھتا ہے کہ تم اس کو نہیں دیکھتے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان جنات کو نہیں دیکھتے اور انسانوں کا اسے دیکھنا اس آیت کے خلاف ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت عام اور غالب احوال پر محمول ہے اور بعض احوال میں انسانوں کا جنات کو دیکھنا ثابت ہے، جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام کا جنات کو دیکھنا ان سے کلام فرمانا اور ان سے کام لینا اور اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے کا ذکر ہے،  اور یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے۔

مقروض وغیرہ کوستون سے باندھنا، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنات پر تصرف کی قدرت اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کی رعایت

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :

المہلب نے کہا ہے کہ اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ جس شخص کے بھاگ جانے کا خطرہ ہو اور اس پر کسی قسم کا حق ہو، مثلا اس پر قرض ہو اس کو مسجد وغیرہ کے ستون کے ساتھ باندھنا جائز ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عفریت جن کو دیکھا تھا، یہ آپ کی خصوصیت تھی اور آپ کا معجزہ تھا جیسے فرشتوں کو دیکھنا، آپ کی خصوصیت ہے کیونکہ حدیث میں ہے: آپ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو چھ سو پروں کے ساتھ دیکھا اور جس دن آپ خندق سے واپس ہوئے، اس دن آپ نے حضرت جبریل کو دیکھا اور اس حدیث میں ذکر ہے کہ آپ نے سرکش جن کو دیکھا اور اللہ نے آپ کو اسے باندھنے پر قادر کردیا کیونکہ وہ جسم لطیف ناری ہے لیکن آپ نے یہ چاہا کہ جنات پر تصرف کرنے کی صفت حضرت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ خاص اور منفرد رہے کیونکہ انہوں نے یہ دعا کی تھی کہ اے رب! مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد اور کسی کے لائق نہ ہو (ص: ۵۳) تو آپ کو یہ حرص تھی کہ اس دعا کی اجابت ان کے ساتھ خاص رہے اور یہ سلطنت دوسروں کے لیے ظاہر نہ ہو، لیکن چونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے حبیب ہیں اور تمام انبیاء علیہم السلام کے کمالات اور معجزات کے جامع ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی یہ معجزہ اور کمال عطا فرمایا اور آپ کو سرکش جن پر قادر کردیا لیکن آپ نے اس کا اظہار نہیں فرمایا تا کہ یہ وہم نہ ہو کہ حضرت سلیمان علیہ یسلام کی دعا قبول نہیں ہوئی۔

یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا،  عام لوگوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے اور کوئی شخص شیطان کو اس کی صورت میں نہیں دیکھ سکتا؟ جیسا کہ الاعراف: ۲۷ میں اس کی تصریح ہے لیکن باقی لوگ جن اور شیطان کو اس وقت دیکھ سکتے ہیں جب وہ اپنی اصل صورت کے علاوہ کسی اور صورت اور شکل میں متشکل ہوکر آئے، جیسا کہ ایک انصاری نے اس وقت جن کو دیکھا تھا جب وہ سانپ کی صورت میں متشکل ہوکر آیا اس انصاری نے اس کو نیزہ گھونپ دیا تو اس جن نے اس انصاری کو قتل کردیا اور وہ فوت ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ میں جو جنات ہیں وہ اسلام لاچکے ہیں۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۴۰ دار الکتب العلمیة بیروت 1424ھ )

جنات کا سانپوں کی شکل میں متشکل ہونا

میں کہتا ہوں کہ علامہ ابن بطال نے جو حدیث کی ایک طرف ذکر کی ہے اس کا پورا متن اس طرح ہے:

ابوالسائب بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ کے گھر گئے تو دیکھا وہ نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے کہا: میں بیٹھ کر ان کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا، اتنے میں گھر کے کونے میں رکھی ہوئی لکڑیوں میں سے آواز آئی، میں نے مڑکر دیکھا تو ایک سانپ تھا، میں اس کو قتل کرنے کے لیے لپکا، حضرت ابوسعید نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا’ سو میں بیٹھ گیا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے مکان کی ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ کیا تم اس گھر کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: ہاں انہوں نے کہا: اس گھر میں ہمارا ایک نوجوان رہتا تھا، جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، انہوں نے کہا: پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی طرف گئے وہ نوجوان دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے گھر جاتا تھا، ایک دن اس نے اجازت طلب کی تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہتھیار لے کر جاؤ،  کیونکہ مجھے تم پر بنوقریظہ (کے حملہ ) کا خطرہ ہے وہ نوجوان اپنے ہتھیار لے کر چلاگیا، جب وہ گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دروازے کی دو پٹیوں کے درمیان کھڑی ہے اس نے غیرت میں آکر اس کو نیزہ مارنے کا قصد کیا اس عورت نے کہا: اپنے نیزے کو روکو اور گھر کے اندر جاکر دیکھو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میں کس وجہ سے باہر کھڑی ہوں، جب وہ اندر گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا سانپ کنڈلی مارے بستر پر بیٹھا ہے اس نوجوان نے اس کو مارنے کا قصد کیا اور نیزہ اس سانپ میں گھونپ دیا پھر باہر نکل کر وہ نیزہ مکان میں گاڑ دیا وہ سانپ اس نوجوان پر لوٹ پوٹ ہوگیا اور یہ پتا نہ چل سکا کہ سانپ پہلے مرا یا وہ نوجوان، پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اس واقعہ کا ذکر کیا، ہم نے عرض کیا کہ آپ اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ اس کو زندہ کردے آپ نے فرمایا: اپنے اس ساتھی کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو پھر فرمایا: مدینہ میں رہنے والے جنات مسلمان ہوگئے ہیں، پس جب تم ان سانپوں میں سے کسی کو دیکھو تو ان کو تین دن تک خبردار کرو اس کے بعد بھی اگر سانپ دکھائی دے تو اس کو قتل کردو کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (صحیح مسلم :2236  الرقم مسلسل : ۵۷۳۱ سنن ابوداؤد: ۵۲۵۹ – 5258، 5257 سنن ترمذی: 1484، السنن الکبری للنسائی : ۸۸۷۱ مسند احمد ج ۳ ص ۲۷)

حافظ ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی المالکی المتوفی ۵۴۳ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا تھا،  تو ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنا سنت ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ اس نوجوان نے ایک مکروہ کام کیا تھا اور یہ احتمال زیادہ ظاہر ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ کے جن مسلمان ہوچکے ہیں، پس جب تم ان سانپوں میں سے کسی کو دیکھو تو ان کو تین دن تک خبردار کرو اس کے بعد بھی اگر سانپ دکھائی دے تو اس کو قتل کردو کیونکہ وہ شیطان ہے۔ جنات کا وجود برحق ہے، زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام کی اخبار متوار سے ان کا وجود ثابت ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جنات کا ذکر فرمایا ہے اور یہ عقل کے نزدیک جائز ہے اور شرع سے ثابت ہے، ان کے وجود کا انکار کرنا گم راہی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ نعوذ باللہ منہ

جنات کھاتے پیتے ہیں اور جس طرح ہم احکام کے مکلف ہیں اور ہم کو بُرے کاموں سے منع کیا گیا ہے وہ بھی مکلف ہیں اللہ تعالی نے جنات اور ملائکہ کو اس پر قدرت دی ہے کہ وہ مختلف شکلوں میں متشکل ہوجاتے ہیں، جس طرح اللہ تعالی نے ہمیں مختلف حرکات پر قدرت عطا فرمائی ہے۔ (عارضتہ الاحوذی ج ۳ ص 222-221 دار الکتب العلمیه بیروت 1418ھ )

صحیح مسلم : ۲۲۳۶ میں جو جنات کو تین دن تک خبردار کرنے کا حکم دیا ہے اس کی تفصیل اس حدیث میں ہے:

عبدالرحمان بن ابو لیلی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابولیلی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سانپ اپنے مسکن میں ظاہر ہو تو اس سے کہو کہ ہم حضرت نوح علیہ السلام کے عہد کے واسطے سے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے واسطے سے تجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ تو ہم کو ایذاء نہ پہنچا، پھر اگر سانپ لوٹ کر آئے تو اس کو قتل کردو۔ (سنن ترمذی: 1485، سنن ابوداؤد 5259 )

جنات کے دوسری شکلوں میں متشکل ہونے کی قدرت پر بعض علماء کا اختلاف اور ان کی رائے کا بے وزن ہونا

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

جنات مختلف صورتوں میں متشکل ہوجاتے ہیں، وہ انسان کی، بہائم کی، سانپوں کی، بچھوؤں کی، اونٹوں کی، گایوں کی، بکریوں کی، گھوڑوں کی، خچروں کی، گدھوں کی اور پرندوں کی صورتوں میں متشکل ہوجاتے ہیں۔

قاضی ابو یعلی نے کہا ہے کہ شیطان کو یہ قدرت نہیں ہے کہ وہ اپنی شکل کو بدل لے اور کسی اور صورت میں متشکل ہوجائے ان کے لیے صرف یہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کچھ ایسے کلمات کی تعلیم دے اور کچھ ایسے افعال سکھائے کہ جب وہ ان افعال کو کرلیں اور وہ کلمات بول لیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ایک صورت سے دوسری صورت میں منتقل کر دے، رہا یہ کہ وہ از خود کسی دوسری صورت میں منتقل ہوجائیں تو یہ محال ہے کیونکہ ایک صورت سے دوسری صورت میں منتقل ہونا اس کا تقاضا کرتا ہے کہ پہلی صورت فاسد ہوجائے اور اس کے اجزاء بکھر جائیں اسی طرح فرشتوں کے دوسری صورت میں متشکل ہونے میں بھی یہی کلام ہے۔( عمدة القاری ج 4 ص 346،  دارالکتب العلمیة بیروت 1421ھ )

حافظ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:

امام نسائی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اس کو پچھاڑا اور اس کا گلا گھونٹنے، حتی کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنی زبان پر پائی’ علامہ ابن بطال وغیرہ نے اس حدیث سے یہ سمجھا ہے کہ جب عفریت جن آپ کے سامنے ظاہر ہوا تھا تو وہ اپنی اصلی شکل میں نہیں آیا تھا اور جن کو اس کی اصلی شکل میں دیکھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ مخصوص ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۱۰۷ دار المعرفة بیروت 1426ھ )

علامہ ابن بطال،  قاضی ابوبکر ابن العربی، علامہ عینی اور علامہ عسقلانی سب نے یہ لکھا ہے کہ جنات مختلف شکلوں میں متشکل ہوتے ہیں اور احادیث میں سانپ کی شکل میں جنات کے آنے کی تصریح ہے جیسا کہ صحیح مسلم اور سنن ترمذی کے حوالوں سے گزرچکا ہے لہذا اگر قاضی ابو یعلی اس کا انکار کرتے ہیں تو کرتے رہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : 1111 – ج ۲ ص ۹۹ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوان ہیں :

(1) جنات کا ثبوت

(۴) جنات کی تخلیق

(۴) جنات کی اقسام

(۴) جنات کے افعال و احوال

(۵) جنات کا مکلف ہونا

(۶) جنات کی جزاء وسزا

(۷ ) جنات میں رسل

(۸) انسان پر جن آجانا

(۹ٌ) جنات کو دیکھنا

(۱۰)ایک اشکال کا جواب

(۱۱) حضرت سلیمان کی دعا سے معارضه

(۱۲) لعن یزید

(۱۳) ترجمتہ الباب سے مناسبت۔

یہ بحث شرح صحیح مسلم ج ۲ ص ۱۱۰۔ ۱۰۰ پر محیط ہے۔