۷۷ – بَابُ الْخَيْمَةِ فِي الْمَسْجِدِ للْمَرْضَى وَغَيْرِهِمْ

بیماروں اور دوسروں کے لیے مسجد میں خیمہ لگانا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بیماروں اور ان کے غیر کے لیے مسجد میں خیمہ لگانا جائز ہے۔

٤٦٣ – حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَة قالت أصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فِي الاکحل فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلَمْ يَرْعَهُمْ وَفی الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارِ، إِلَّا الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِم،ُ فَقَالُوا يَاأَهْلَ الْخَيْمَةِ، مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِن قِبْلِكُمْ؟ قَالُوا سَعْدٌ يَعْدُو جُرْحُهُ دَمًا، فَمَاتَ فِيهَا۔

اطراف الحدیث: ۲۸۱۳-۳۹۰۱ – ۴۱۱۷ – 4122-

صحیح مسلم : ۱۷۶۹ الرقم مسلسل : 4518، سنن ابوداؤد: 3101 نسائی: ۷۱۰ جامع المسانيد لابن الجوزی : ۷۵۱۴ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں زکریا بن یحیی نےَ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبد للہ بن نمیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی از والد خود از حضرت عائشہ رضي الله عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ جنگ خندق کے دن حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بازو کی ایک رگ میں زخم آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ان کے لیے خیمہ لگادیا تاکہ لوگ ان کی قریب سے عیادت کرلیں اور مسجد میں بنو غفار کا بھی خیمہ تھا، پھر لوگوں کو صرف اس چیز نے خوف زدہ کیا کہ ان کی طرف خون بہہ کر آرہا تھا، پھر لوگوں نے کہا : اے خیمے والو! یہ کیا چیز ہے جو تمہاری طرف سے ہمارے پاس آرہی ہے پس لوگوں نے کہا: تو حضرت سعد کے زخم سے خون بہہ رہا ہے پس وہ اس میں فوت ہوگئے۔ وفات کے وقت حضرت سعد کی عمر ۳۷ سال تھی۔ (کشف المشکل ج ا ص ۲۹۰ دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ)

حدیث مذکور کے رجال

(1) زکریا بن یحیی بن عمر ابو السکن الطائی الکوفی

(۲) عبد اللہ بن نمیر

(۳) ہشام بن عروہ بن الزبیر بن العوام

(۴) ان کے والد عروه

(۵) حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی الله  عنہا ۔(عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۵۱)

 

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کے لیے مسجد میں خیمہ لگادیا۔

مسجد سے نجاست کے زائل کرنے پر علامہ ابن بطال کا انکار اور مصنف کا ان پر رد

علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

المہلب نے کہا ہے کہ عذر کی وجہ سے مسجد میں رہنا جائز ہے، جیسے حضرت سعد بیماری کے ایام میں مسجد میں رہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کا خیمہ مسجد میں لگایا اس سے معلوم ہوا کہ سربراہ ملک یا کسی بڑے عالم کے لیے بار بار کسی مریض کی عیادت کے لیے جانا دشوار ہو تو وہ مریض کو ایسی جگہ منتقل کر لے جہاں وہ آسانی سے اس کی عیادت کرسکے۔

حضرت سعد کے بازو سے خون نکل کر مسجد میں بہتا رہا اور کسی نے اس کو دھویا نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ نجاست کو زائل کرنا فرض نہیں ہے اگر یہ فرض ہوتا تو اس کو دھودیا جاتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی زخمی کو مسجد میں رہنے کی اجازت نہ دیتے،  اس سے معلوم ہوا کہ نجاست کو دھونا فرض نہیں ہے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کو مسجد میں پیشاب کرنے دیا تھا اور فرمایا: اس کو چھوڑ دو اور اگر اس کا پیشاب کرنا حرام ہوتا تو آپ یہ نہ فرماتے : اس کو چھوڑ دو یعنی اس کو پیشاب کرنے دو۔( شرح ابن بطال ج 2 ص ۱۴۴ دار الكتب العلمیة بیروت 1424ھ )

علامہ ابن بطال کا یہ لکھنا صحیح نہیں ہے کہ مسجد سے نجاست کا زائل کرنا فرض نہیں ہے، بلکہ مسجد سے نجاست کا زائل کرنا فرض ہے اور اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ حضرت سعد کے بازو سے نکلنے والے خون کو بعد میں بھی مسجد سے دھویا نہیں گیا اور کسی چیز کے ذکر نہ کرنے سے اس کا عدم وقوع لازم نہیں آتا’ ناک کی رطوبت اور بلغم پاک ہیں، لیکن ان کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں گرانے سے منع کیا ہے اور کسی نے مسجد میں قبلہ کی جانب تھوک دیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خود اپنے مبارک ہاتھوں سے صاف کیا تو جب اس پاک چیز سے بھی مسجد کو صاف کیا گیا تھا تو خون جس کا ناپاک اور نجس ہونا مسلم ہے اس سے مسجد کو کیوں کر نہ صاف کیا گیا ہوگا ! اور علامہ ابن بطال کا اعرابی کے پیشاب پر قیاس کرنا بھی فاسد ہے کیونکہ جب صحابہ اس اعرابی کو منع کرنے کے لیے جھپٹے تو آپ نے فرمایا: اس کو رہنے دو اور اس کے پیشاب کے اوپر ایک ڈول پانی یا دو ڈول پانی بہادو ۔ (صحیح البخاری: ۲۲۰)

آپ کا اس کے پیشاب پر دو ڈول پانی ڈلوانا، اس کی صریح دلیل ہے کہ مسجد میں اگر نجاست گرجائے تو اس نجاست کو زائل کرنا فرض ہے باقی اس اعرابی کو پیشاب کرنے کے درمیان روکنے سے آپ نے منع فرمایا، کیونکہ اس سے اس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ تھا۔ بہرحال مسجد سے نجاست کو زائل کرنا فرض ہے۔

باب مذکور کی حدیث، شرح صحیح مسلم : ۴۴۸۵- ج ۵ ص 481 پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی۔