مقدمہ از شارح :: حجیت حدیث
sulemansubhani نے Saturday، 5 September 2026 کو شائع کیا.
الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على سيد الانبياء والمرسلين
اما بعد فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم
مقدمہ از شارح
قرآن حکیم کے بعد اسلامی احکام کا سب سے بڑا ماخذ احادیث نبویہ ہیں، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ خود قرآن حکیم کو سمجھنا ، اس سے احکام اخذ کرنا ، اس پر عمل کرنا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و رہنمائی کے بغیر ناممکن ہے۔ اسلامی تعلیمات میں جامعیت اور ہمہ گیریت احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ہی ہے اگر شریعت اسلامی سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو علیحدہ کر لیا جائے تو اسلامی تعلیمات کے ایک بڑے حصہ سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ قرآن حکیم میں عبادت اور انسانی معیشت کے اصول اجمالاً بیان ہوئے جن کی تعبیر و تشریح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال ہیں۔
قرآن وحدیث دونوں ہی واجب العمل ہیں احادیث کے انکار کے بعد قرآن پر ایمان وعمل کا دعوی باطل وعاطل ہے، تو جو لوگ شکوک وشبہات کے مریض اور خواہشِ نفس کے غلام ہیں یعنی منکرینِ حدیث ہمیشہ اس بات کے لیے کوشاں رہے کہ کسی نہ کسی عنوان سے ذخیرہ احادیث سے دامن چھڑا لیا جائے اور عموماً اس طرح فتنہ پھیلاتے رہے کہ ہم پر صرف قرآن کا ماننا لازم ہے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم واجب الاتباع نہیں ہے لیکن یہ لوگ اپنے دعوے میں صراحتاً جھوٹے ہیں کیونکہ قرآن مجید فرقانِ حمید میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واتباع کا حکم دیا گیا۔
حجیت حدیث قرآن حکیم کی روشنی میں:
(1) اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں جگہ جگہ نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت واتباع کا حکم دیا ہے۔
اللہ جل شانہ ارشاد فرماتا ہے: {وَمَا اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ} ترجمہ: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔(پ 28، سورة الحشر، آیت 7)
{وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ} ترجمہ: اور نماز برپا رکھو اور زکوۃ دو اور رسول کی
فرمانبرداری کرو اس امید پر کہ تم پر رحم ہو۔(پ 18، سورہ نور، آیت 56)
(2) اللہ عزوجل کی اطاعت کے ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا، اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ} ترجمہ: اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔(پ 5، سورہ نساء، آیت 59)
{یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ} ترجمہ: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن سنا کر اسے نہ پھرو۔(پ 9، سورہ انفال، آیت 20)
{یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ} ترجمہ: اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے عمل باطل نہ کرو۔(پ 26، سورہ محمد، آیت 33)
{وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ} ترجمہ: اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ہوشیار رہو پھر اگر تم پھر جاؤ تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف واضح طور پر حکم پہنچا دینا ہے۔(پ 07، سورہ مائدہ، آیت 92)
{وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِیْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ} ترجمہ: اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑو نہیں کہ پھر بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔(پ 10، سورہ انفال، آیت 46)
(3) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اللہ عزوجل کی اطاعت قرار دیا گیا۔
رب کریم جل جلالہ فرماتا ہے: {مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ} ترجمہ: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔(پ 5، سورۃ النساء، آیت 80)
(4) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے کو اللہ عزوجل نے اپنا بلانا قرار دیا۔
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: {مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا} ترجمہ: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا۔(پ 5، سورۃ النساء، آیت 80)
(5) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنین کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا۔
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا}- ترجمہ: بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لئے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے۔(پ 21، سورہ احزاب ، آیت 21)
(6) حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اتباع کی صورت میں رب تعالیٰ کی دوستی و محبت کی نوید سنائی گئی۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: {قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ} ترجمہ: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(پ 3 ، سورہ آل عمران ، آیت 31)
(7) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ماننے والوں، ہر تسلیم خم کرنے والوں کے لئے جنت کی بشارت دی۔
اللہ عز وجل ارشاد فرماتا ہے: {تِلْكَ حُدُودُ اللهِ وَمَن يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهٰرُ خٰلِدِينَ فِيهَا وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} ترجمہ: یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی۔ (پ 4 ، سورۃ النساء ، آیت 13)
ارشاد فرمایا: {لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَمَن يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهٰرُ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًا}- ترجمہ: اندھے پر تنگی نہیں اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر مواخذہ اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور جو پھر جائے گا اسے دردناک عذاب فرمائے گا۔(پ 26، سورۃ الفتح ، آیت 17)
(8) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والوں کو انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت کی خوشخبری دی۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: {وَمَن يُطِعِ اللهَ وَالرَّسُولَ فَأُولٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصّٰلِحِينَ وَحَسُنَ أُولٰئِكَ رَفِيقًا} ترجمہ: اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔(پ 5 ، سورۃ النساء، آیت 69)
(9) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت میں کامیابی کی نوید سنائی گئی۔
رب جلیل ارشاد فرماتا ہے: {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ} – ترجمہ: اور جو حکم مانے اللہ اور اس کے رسول کا اور اللہ سے ڈرے اور پرہیز گاری کرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔(پ 18 ، سورۃ النور، آیت 52)
{إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}
ترجمہ: مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے کہ عرض کریں ہم نے سنا اور حکم مانا اور یہی لوگ مراد کو پہنچے۔(پ 18 ، سورۃ النور، آیت 51)
(10) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہ کرنے والوں کے لئے جہنم کی وعید سنائی گئی۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
{وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ} ترجمہ: اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اسکی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب۔(پ 4 ، سورۃ النساء، آیت 14)
{وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا} ترجمہ: اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی ۔(پ 5 ، سورۃ النساء، آیت 115)
(11) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی تو بڑی چیز ہے نافرمانی کے لئے سرگوشی سے بھی منع کیا، اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ} {ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو۔(پ 28، سورۃ المجادلہ، آیت 9)
(12) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ واجب العمل قرار دیا اس حد تک کہ جو نہ مانے یا اس میں ذرا برابر بھی شک کرے وہ مؤمن نہیں، اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
{فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا}۔ ترجمہ: تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔ (پ5، سورۃ النساء، آیت 65)
(13) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بعد ایمان والے کو سر تسلیم خم کرنا ہے ورنہ وہ گمراہ ہے، اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا} ترجمہ: اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار ہے اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صریح گمراہی بہکا۔ (پ22، سورۃ الاحزاب، آیت 36)
(14) حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد ہی یہی قرار دیا ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے۔
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: {وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ} ترجمہ: اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اُس کی اطاعت کی جائے۔ (پ5، سورۃ النساء، آیت 64)
یہ تمام باتیں اس امر کی دلیل ہے کہ جس طرح اللہ عزوجل کا ہر ارشاد ماننا ضروری ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو ماننا ایمان کا لازمی جزو، اور مدارِ ایمان ہے۔
(15) احادیثِ طیبات کو حجت ماننا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر ان کو حجت نہ مانا جائے تو بنی نوع انسان جہاں نبی کریم رؤوف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ہدایات سے محروم رہیں گے وہیں قرآنِ عظیم فرقانِ حمید کی دی ہوئی ہدایات سے فیض یاب نہیں ہو سکیں گے کیونکہ اللہ تعالی نے قرآنِ عظیم کو ہدایت کے لیے نازل فرمایا لیکن اس کے معانی و مطالب کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد فرمائی۔
اللہ جل جلالہ فرماتا ہے: {وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ} ترجمہ کنز الایمان : اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کر دو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔(پ 14، النحل، آیت 44)
ارشاد فرماتا ہے: {لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ} ترجمہ کنزالایمان : بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔(پ 4، سورہ آل عمران، آیت 164)
غور کریں !!!
(1) قرآن کا کتاب اللہ ہونا اس کا واجب العمل، واجب القبول ہونا یہ کس طرح معلوم ہوا؟ اگر احادیث نہ ہوں تو کوئی بتا سکتا ہے قرآن حکیم یک لخت کتاب کی شکل میں اترا یا کسی اور طریق پر؟ اگر لکھا ہوا قرآن مجلد شکل میں آتا تو کیسے معلوم ہوتا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے؟ کہاں سے آیا؟ کون لایا؟ اگر جبرئیل یا کوئی فرشتہ لے کر آیا تو کیسے پہچانتے کہ یہ وہ فرشتہ ہے؟ اس طرح تو کوئی جن، کوئی شیطان، کوئی شعبدہ باز یہ بول سکتا تھا کہ میں جبرئیل ہوں میں فرشتہ ہوں اور خدا کی کتاب لایا ہوں ۔ الغرض اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامینِ گرامی کو حجت نہ مانا جائے تو قرآن کے کتاب اللہ ہونے پر کوئی یقینی دلیل باقی نہیں رہے گی۔ اور غور کرنے پر معلوم ہوگا کہ ان سب باتوں کا مرجع حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ طیبات ہیں کہ یہ قرآن کتاب اللہ ہے۔ یہ جبرئیل ہیں یہ آیات لے کر آئے ہیں تو معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کی معرفت اور قرآن لے کر آنے والے فرشتے جبرئیل کی معرفت یہ تمام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر موقوف ہے تو اگر حدیثِ رسول ہی حجت نہ ہوں، قابلِ قبول نہ ہوں تو پھر قرآنِ مجید فرقانِ حمید کا کیا وزن رہ جائے گا؟
(2) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار باتیں ارشاد فرمائیں، ان میں یہ بھی فرمایا: ”مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی“ ”مجھ پر یہ سورت نازل ہوئی“ ان باتوں کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سنا، اس کو کتاب اللہ جانا اور مانا۔ تو کیا جن احادیث میں یہ ارشاد نہیں کہ یہ قرآن یا سورت ہے وہ لائقِ اعتبار نہیں؟ ؟ اب غور کریں ایک منہ سے دو قسم کی گفتگو ہو ایک قسم مقبول اور دوسری نامقبول یہ عجیب منطق ہے۔ ایک قسم نا مقبول قرار دینے کا مطلب دوسری کو بھی نامقبول قرار دینا ہے۔ الغرض حدیث کو حجت نہ ماننے کے بعد قرآن کا بھی نا قابلِ قبول ہونا لازم ہے۔
(3) قرآن کریم میں اگرچہ تمام چیزوں کا بیان ہے مگر اس میں کثیر اشیاء ایسی ہیں جو ہمارے لیے مجمل اور مبہم ہیں۔ مثال کے طور پر ارکانِ اسلام پر غور کریں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کو ملاحظہ کریں قرآن مجید میں ان سب کا حکم ہے لیکن کیا کوئی ان کی تفصیل قرآن سے بتا سکتا ہے!
اگر احادیث حجت نہ ہوں تو ان عبادات پر عمل کیسے ہوگا؟ اگر حدیث کا حجت ہونا نہ مانیں تو ہمیں کیسے معلوم ہوتا کہ لفظ صلوٰۃ کا معنی قیام، رکوع، سجود کی ہیئت مخصوصہ ہے؟ اذان سے لے کر امام کا جماعت کروانا، جماعت کی تمام تر تفصیل ہمیں کیوں کر معلوم ہوئی؟، اس طرح حج وعمرہ کا عملی طریقہ، میقات کون کون سے ہیں؟ اور کس کے لیے کونسی ہے؟، احرام کہاں سے باندھنا ہے؟ اور کس طرح باندھنا ہے؟ اور کس دن باندھنا ہے؟ وقوفِ عرفہ، طوافِ زیارت، طوافِ وداع اور ان احکام کی تفصیل اور تعیین قرآن میں نہیں ملتی، حتی کہ آپ پورا قرآن مطالعہ کریں اور یہ بتائیں حج کس دن کریں گے؟ تو آپ نہیں بتا سکیں گے، زکوٰۃ کا صرف قرآن میں لفظ ذکر ہے اس کے ادا کی کیفیات، کس مال پر کس حساب سے ہے؟ اس کا ذکر قرآن میں نہیں، نکاح کا طریقہ کار، طلاق مع اقسام، صحابہ کرام کے اسماء، واقعات، بہت سی حدود کا طریقہ کار، کیا یہ تمام چیزیں بغیر احادیث کا سہارا لیے واضح ہو سکتی ہیں؟ ان تمام امور پر غور کرنے سے ثابت ہوا کہ ان تمام احکام کی تفصیل و توضیح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ہی ملے گی، جو شخص احادیث کو حجت نہیں مانتا اس کے پاس قرآن کریم کے مجمل و مبہم کی تفصیل و تعیین جاننے کے لیے کوئی ذریعہ نہیں۔
(4) یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ عبادات سے قطع نظر قرآن مجید کی بہت سی آیات وہ ہیں جن کی وضاحت بغیر احادیث طیبات ممکن نہیں، کیونکہ بعض آیات کا نزول خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے یا کسی سوال کا جواب، یا کفار و مشرکین میں سے کسی کی بات کا رد، یا کبھی عہدِ رسالت کا کوئی واقعہ، یا کبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کسی معاملے میں تنبیہ، یا کسی معاملے کی تائید ہوتی ہے لہٰذا جب تک اس قسم کی تمام آیات کا شانِ نزول، اسباب معلوم نہ ہوں تو کوئی واضح معنی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اگر احادیث کو معتبر نہ مانا جائے تو قرآن مجید ایک معمہ بن کر رہ جائیں گی۔ جیسا کہ ربِ کریم جل جلالہ فرماتا ہے: {لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ} ترجمہ: بیشک اللہ نے بہت جگہ تمہاری مدد کی۔ (پ 10، سورہ توبہ، آیت 25)
کیا کوئی حدیث کی توضیح کے بغیر جان سکتا ہے یہ کثیر جگہہیں کون کون سی ہیں؟
ایک جگہ ارشاد ہوا: {وَّعَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا} ترجمہ: اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے۔(پ 11، سورہ توبہ، آیت 118)
کیا کوئی حدیث مبارکہ کی توضیح کے بغیر ان سوالات کے جوابات دے سکتا ہے، یہ تین کون ہیں؟ ان کا کیا معاملہ ہوا؟ اور ان کا معاملہ کس چیز پر ملتوی کیا گیا؟
(5) مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احکام کے شارح بھی ہیں۔ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے: {وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰۤئِثَ} ترجمہ: اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں اُن پر حرام کرے گا۔( پ9 ، سورۃ الاعراف، آیت 157)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں کو حلال فرمایا اور جن کو حرام فرمایا ان کا قرآن مجید میں صراحۃً ذکر نہیں ان کا ذکر صرف احادیث طیبات میں ہے۔ تمام شکار کرنے والے درندے، پرندے، حشرات الارض، دراز گوش اور بہت سی چیزوں کی حرمت احادیث سے جانی گئی اگر احادیث حجت نہ ہوں تو یہ احکام کہاں سے معلوم ہوں گے؟
حجیتِ حدیث احادیث کی روشنی میں:
(1) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ملائکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عرض گزار ہوئے: (( فمـن أطـاع محمدا صلـى الله عليه وآله وسلم فقد أطاع الله ومن عـصـى محمدا صلـى الله عليه وآله وسلم فقد عصى الله )) ترجمہ: جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔۔ (صحیح بخاری،ج9، ص39، دار طوق النجاة)
(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((كل امتى يدخلون الجنة الا من ابى ، قالوا يا رسول الله ومـن یـابـى ؟ قال من اطاعنـى دخل الجنة ومـن عـصانـى فقـد ابى )) ترجمہ: میری کل امت جنت میں داخل ہوگی مگر وہ آدمی جس نے انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کس نے انکار کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔
( صحیح بخاری ، ج9، ص92دار طوق النجاة)
(3) حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ألا إنی اوتیت القرآن ومثله معه لا يوشك رجل شبعان على أريكته يقول عليكم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فأحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه ألا لا يحل لكم لحم الحمار الأهلي ولا كل ذي ناب من السبع۔۔الخ))
ترجمہ: سن رکھو! مجھے قرآن بھی دیا گیا اور قرآن کے ساتھ اس کے مثل بھی، سن رکھو! قریب ہے کہ کوئی پیٹ بھر اتکرا کے ہوئے یہ کہنے لگے کہ لوگو! تمہیں یہ قرآن کافی ہے بس جو چیز اس میں حلال ملے اسی کو حلال سمجھو اور جو حرام ہے اسے حرام سمجھو سنو! تمہارے لئے پالتو گدھا حلال نہیں اور نہ ہی شکاری درندہ۔(ابوداؤد، ج4، ص200، المكتبة العصرية، صيدا ، بيروت)
(4) عرباض بن سارية رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ))
ترجمہ: تم پر میری سنت کی پیروی اور خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی لازم ہے اس سے تمسک کرو اور اسے اچھی طرح پکڑ لو۔(سنن أبي داود، ج4، ص200، المكتبة العصرية، صيدا ، بيروت)
(5) حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ اللهِ شَيْئاً فَخُذُوا بِهِ فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ))
ترجمہ: جب میں تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ سے کوئی بات (حدیث) بیان کروں تو اسے لے لیا کرو، میں خدائے عزوجل پر کوئی غلط بات نہیں کہتا۔
(صحيح مسلم، ج4، ص1835، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
(6) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا، كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ رَسُولِه ))
ترجمہ: میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں جب تک ان دونوں کا دامن مضبوطی سے تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ۔
(موطا امام مالک، ج5، ص1323، مؤسسة زايد بن سلطان، أبوظبي)
(7) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اتبعونا فو الله ان لم تفعلوا تضلوا ))
ترجمہ: تم ہماری اتباع کرو اللہ کی قسم اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔(مسند الإمام أحمد بن حنبل، ج33، ص302، مؤسسة الرسالة)
(8) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((المتمسک بسنتی عند فساد امتی فله اجر مائة شهید)) ترجمہ: جس نے میری امت کے فساد کے وقت میری سنت کو مضبوطی سے پکڑا اس کے لئے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔
*(المعجم الأوسط،ج5،ص513،دار الحرمین،القاهرة)*
(9) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((من احیا سنتی فقد احبنی ومن احبنی کان معی فی الجنة)) ترجمہ: جس نے میری سنت کو زندہ کیا یقیناً اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔*(جامع ترمذی،ج4،ص343،دار الغرب الإسلامي،بيروت)*
(10) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اكتب، فوالذی نفسی بیدہ! ما یخرج منہ إلا حق)) ترجمہ: لکھو! اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے، اس منہ سے صرف حق بات ہی نکلتی ہے۔
*(ابوداؤد،السنن،ج3،ص315،المكتبة العصرية،صيدا ،بيروت)*
(11) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ولا يؤمن أحدكم حتى يكون ہواہ تبعاً لما جئت بہ)) ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس (شریعت) کے تابع نہیں ہو جاتیں جس کو میں لے کر آیا ہوں۔*(الإبانة الكبرى،ج1،ص782،دار الراية للنشر والتوزيع،الرياض)*
(12) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((فمن رغب عن سنتی فلیس منی)) ترجمہ: جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں۔*(صحیح مسلم،ج2،ص،1020دار إحياء التراث العربي، بیروت)*
(13) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لو کان موسیٰ حیاً ما وسعہ إلا اتباعی)) ترجمہ: اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔(شعب الایمان، ج 1، ص 743، مكتبة الرشد، الرياض)
(14) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( نَضَّرَ اللَّهُ إِمْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا وَوَعَاهَا وَبَلَّغَهَا )) ترجمہ: اللہ تعالیٰ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی پھر اسکو یاد کیا اور حفاظت کی اور اسکو آگے پہنچایا۔(ترمذی، ج 4، ص 133، دار الغرب الأسلامی، بیروت)
(15) سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہدایت فرمائی: (( فَمَنْ عُرِضَ لَه منكم قضاء بعد اليوم، فليقض بما فی كتاب الله، فإن جاء أمر ليس فی كتاب الله، فليقض بما قضى به نبيه صلى الله عليه وسلم، فإن جاء أمر ليس فی كتاب الله، ولا قضى به نبيه صلى الله عليه وسلم، فليقض بما قضى به الصالحون، فإن جاء أمر ليس فی كتاب الله، ولا قضى به نبيه صلى الله عليه وسلم، ولا قضى به الصالحون، فليجتهد رأيه )) ترجمہ: جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ آئے تو کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے، ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کیا جائے، اگر وہ فیصلہ کتاب وسنت میں نہ ملے تو پھر بزرگوں (اکابر صحابہ کرام علیہم الرضوان) کے فیصلوں کو لیا جائے اور اگر کوئی ایسا معاملہ آ جائے جو کتاب اللہ، سنت اور ان بزرگوں کے فیصلوں میں نہ ملے تو (اجتہاد کی اہلیت رکھنے والا) اپنی علمی رائے سے اجتہاد کرے۔(سنن نسائی، ج 8، ص، 230، مكتب المطبوعات الإسلامية ، حلب)
اعتراض:
کتب احادیث اڑھائی سو سال بعد لکھی گئی ہیں لہٰذا انکا محفوظ رہنا محل نظر ہے۔
جواب:
منکرین حدیث کا یہ اعتراض قلت مطالعہ اور احادیث سے نا واقفیت پر دلالت کرتا ہے، کتابت حدیث تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہی شروع ہو گئی تھی بلکہ بعض دفعہ تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابت حدیث کا حکم دیا ایسے ہی بعد میں صحابہ و تابعین کے زمانہ میں یہ سلسلہ جاری وساری رہا، ہم اس کو مکمل دلائل کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔