کتاب الصلوۃ باب 88 حدیث نمبر 482
٤٨٢ – حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شمَيْل أخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُریرہ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم إحْدَى صَلَاتِي الْعَشِي . قَالَ ابْنُ سِيرِينَ قَدْ سَماھا ابوهُرَيْرَةَ وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا قَالَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعتین ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَّعْرُوْضَةٍ فِى الْمَسجد فَاتَّكَا عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنی علی الْيُسْرَى ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَوَضَعَ خَدهُ الأيمن على ظھر کفہ الْيُسْرَى، وَخَرَجَتِ السَّرَعَان من ابوَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالُوا قَصْرَتِ الصَّلوةُ؟ وفی القوم أَبُوبَكْرٍ وَ عُمَرُ ، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِمَاهُ، وَفِي الْقوم رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ، قَال یارَسُولَ اللهِ انَسِيتَ أمْ قَصْرَتِ الصَّلوةُ؟ قَال لم أنسَ وَلَمْ تُقْصَرُ. فَقَالَ اكَمَا يَقُولُ ذُوالْيَدَين ؟فَقَالُوا نَعمْ ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى مَا تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کبر وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وکبر ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَه وَكَبَّرَ فَرُبَّمَا سَأَلْوْهُ ثُمَّ سَلَّمَ ؟ فَيَقُولُ نَبئتُ أن عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ ثُمَّ سَلَّمَ ( اطراف الحدیث: ۷۱۴۔ ۷۲۵۰ 1229، 6051،-۱۲۲۸-۱۲۲۷-۷۱۵
صحیح مسلم: 573 الرقم المسلسل : 1365 سنن ابوداؤد: ۱۰۰۸ سنن ابن ماجه: 1214، سنن ترمذی:۳۹۹، سنن نسائی:1221 صحیح ابن خزیمہ: ۱۰۳۵ صحیح ابن حبان : ۲۲۵۲ – 2253 سنن بیہقی ج ۲ ص 354، شرح السنة : ۳۶۰ مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۵ طبع قدیم، مسند احمد : 7601 – ج 12 ص ۱۳۰ جامع المسانيد لابن الجوزی: ۴۷۵۰ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسحاق نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن شمیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن عون نے خبر دی از ابن سیرین از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر اور عصر کی نمازوں میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی ابن سیرین نے کہا: حضرت ابو ہریرہ نے اس نماز کا نام لیا تھا لیکن میں بھول گیا انہوں نے کہا: آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیردیا مسجد میں لکڑی کا ایک ستون تھا، آپ اس پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے، گویا کہ آپ غصہ میں تھے، آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور اپنا دایاں رخسار بائیں بتھیلی پر رکھا اور لوگ سرعت سے چلتے ہوئے مسجد کے دروازے سے نکل گئے، پھر وہ کہہ رہے تھے کہ نماز کی مقدار کم ہوگئی ؟ لوگوں میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے وہ آپ سے بات کرنے سے ڈرے اور لوگوں میں لمبے ہاتھوں والا ایک شخص تھا اس کو ذوالیدین کہتے تھے اس نے کہا: یارسول اللہ ! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کی مقدار کم ہوگئی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں نہ نماز کی مقدار کم ہوئی ہے پھر آپ نے فرمایا: کیا اسی طرح ہوا ہے جس طرح ذوالیدین نے کہا ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں پھر آپ آگے بڑھے اور جتنی نماز ترک کی تھی وہ پڑھا دی، پھر آپ نے سلام پھیرا پھر اللہ اکبر کہا اور پہلے کی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا ، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، پھر اللہ اکبر کہا اور پہلے کی طرح یا اس س سجدہ کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، پس بعض اوقات لوگ ان سیرین سے سوال کرتے: آیا پھر آپ نے سلام پھیر دیا ( یا پہلے سلام پر اکتفاء کیا ؟ ابن سیرین نے کہا: مجھے یہ خبر دی گئی ہے کہ حضرت عمران بن حصین نے کہا: پھر آپ نے سلام پھیر دیا تھا۔
حدیث مذکور کے رجال
(۱) اسحاق بن منصور بن بهرام
(۲) النضر بن شمیل
(۳) عبد الله بن عون
(۴) محمد بن سیرین
(۵) حضرت ابوہریرہ .(عمدۃ القاری ج 4 ص ۴۸۲)
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں تشبیک کی اور جب مسجد میں تشبیک جائز ہے تو دوسری جگہ بہ طریق اولی جائز ہے اور جن وجوہ سے آپ نے تشبیک سے منع فرمایا ہے، یہ ان وجوہ سے نہیں ہے۔
العشي“ کا معنی اور اس قصہ میں نماز کی تعیین
اس حدیث میں ہے کہ آپ نے صلوۃ العشی“ میں ایک نماز پڑھائی اور سنن ابوداؤد : ۱۰۰۸ میں اس کی تفسیر یہ ہے کہ وہ ظہر یا عصر کی کوئی ایک نماز تھی اور سنن ابو داؤد: ۱۰۱۴ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر سلام پھیر دیا پھر آپ سے کہا گیا کہ کیا نماز کی مقدار کم ہوگئی ہے تو آپ نے دو رکعت نماز اور پڑھی پھر ( سہو کے ) دو سجدے کیے۔
اس طرح اس قصہ میں صحیح البخاری : ۶۰۵۱ میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر سلام پھیر دیا، ان حدیثوں سے یہ متعین ہو گیا کہ یہ واقعہ ظہر کی نماز کا تھا۔
حضرت ذوالیدین کا تذکرہ
حضرت ذوالیدین کا نام خرباق بن عبد عمرو اسلمی تھا اس کو ذوالشمالین بھی کہا جاتا تھا یہ ان کا لقب تھا، ان کے ہاتھ لمبے تھے اور یہ دونوں ہاتھوں سے کام کرتے تھے ابن الاثیر نے کہا ہے کہ ذوالشمالین ایک اور صحابی تھے وہ خزاعی تھے اور بنو زہرہ کے حلیف تھے ان کو جنگ بدر میں شہید کردیا گیا تھا، قاضی عیاض نے لکھا ہے: ان کا نام عمیر بن عبد عمرو تھا اور یہ خزاعی تھے علامہ عینی نے کہا ہے کہ صحیح یہی ہے کہ ذوالیدین اور ذوالشمالین، حضرت خرباق کے دو لقب تھے کیونکہ امام نسائی نے اس قصہ میں ذوالیدین اور ذوالشمالین دونوں کا ذکر کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص 389، ۳۸۷ ملخصا)
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں نہ نماز میں تقصیر کی گئی ہے، اس کلام کے صادق ہونے پر ایک اشکال کا جواب
اس حدیث میں ہے کہ نہ میں بھولا ہوں نہ نماز میں تقصیر کی گئی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ذوالیدین نے کہا: آیا نماز کی مقدار کم ہوگئی ہے یارسول اللہ ! یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کچھ نہیں ہوا تو حضرت ذوالیدین نے کہا: یارسول اللہ ! ان میں سے کچھ تو ہوگیا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! یارسول اللہ ! ‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی نماز پوری کی اور سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔( صحیح مسلم : 573, الرقم المسلسل : ۱۲۶۷ سنن ابوداؤد: ۱۰۰۸ سنن ترمذی: ۳۹۹)
اس حدیث پر یہ اشکال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلام کیسے صادق ہوگا کہ نہ میں بھولا ہوں
نہ نماز میں تقصیر کی گئی ہے کیونکہ واقع میں ایک بات تو ضرور ہوگئی تھی یا آپ بھول گئے تھے یا نماز کم کردی گئی تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کے ارشاد کا محمل یہ ہے کہ اپنے ظن اور گمان کے مطابق نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کمی کی گئی ہے، کیونکہ آپ کا ظن یہی تھا کہ آپ نے چار رکعت نماز پڑھی ہے اور آپ کا یہ کلام آپ کے ظن میں واقع کے مطابق تھا، اس لیے آپ کا کلام صادق تھا، اگرچہ آپ کا ظن واقع کے مطابق نہ تھا اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اسی لیے آپ نے سہو کے دو سجدے کیے اسی طرح جتنی مرتبہ بھی آپ نے سہو کے سجدہ کیے اپنے گمان میں آپ نے نماز درست پڑھی تھی لیکن واقع میں آپ کو سہو ہوگیا تھا۔
اس سلسلہ میں یہ احادیث ہیں:
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز میں تین رکعت کے بعد سلام پھیردیا تو ایک شخص آپ کی طرف کھڑا ہوا جس کا نام خرباق تھا اور اس کے دونوں ہاتھ لمبے تھے، اس نے آپ سے کہا: یارسول اللہ ! کیا نماز میں تقصیر کردی گئی ہے؟ آپ (اس عجیب اور خلاف معمول سوال پر ) غصہ میں چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے پھر آپ نے پوچھا: کیا اس نے سچ کہا ہے؟ صحابہ نے کہا : جی ہاں! پھر آپ نے اس ایک رکعت کو پڑھا، پھر سلام پھیرا پھر آپ نے سہو کے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔ (صحیح مسلم : 574، الرقم المسلسل :۱۲۷۰ سنن ابوداؤد : ۱۸ ۱۰ سنن نسائی:1236 سنن ابن ماجه: 1215 )
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعت پڑھیں’ آپ سے کہا گیا: کیا نماز کی رکعات میں اضافہ کردیا گیا ہے؟ آپ نے پوچھا : اس سوال کا کیا سبب ہے؟ کسی نے کہا: آپ نے پانچ رکعات پڑھی ہیں’ آپ نے سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔(صحیح البخاری: ۴۰۴ صحیح مسلم : 572، سنن ابوداؤد : ۱۰۱۹ سنن ترمذی: 392، سنن نسائی: 1253، سنن ابن ماجہ : ۱۲۰۵ مسند احمد ج ۱ ص ۳۷۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ ہائے سہو کرنے کی توجیہات
احادیث میں تین سجدہ ہائے سہو کے واقعات ہیں۔ صحیح البخاری: ۴۰۴ میں ہے کہ آپ نے ظہر کی پانچ رکعت پڑھادیں، صحیح البخاری: ۶۰۵۱ میں ہے کہ آپ نے ظہر کی دو رکعت پڑھا دیں اور صحیح مسلم : ۵۷۴ میں ہے کہ آپ نے عصر کی نماز کی تین رکعت پڑھادیں۔ سہو کے یہ کل تین واقعات ہیں، بعض منکرین کمال نبوت پر اعتراض کرتے ہیں کہ دیکھئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سہو ہوجاتا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ بالفرض اگر آپ کو نمازوں میں سہو نہ ہوتا تو ہمیں جن نمازوں میں سہو ہوتا، ہماری وہ نمازیں کس کے دامن میں پناہ لیتیں اور ہماری نمازیں کس طرح درست ہوتیں، آپ نے سہو واقع ہونے کے بعد سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کیے پھر تشہد، درود اور دعا پڑھ کر دوبارہ سلام پھیرکر نماز مکمل کردی تو ہمیں معلوم ہوگیا کہ اگر نماز میں واجب کے ترک یا فرض کی ادائیگی میں تاخیر ہوجائے تو اس طرح سجدہ سہو کرنے سے نماز درست ہوجاتی ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عملا سہو نہ ہوتا اور آپ صرف زبانی ہم کو سجدہ سہو ادا کرنے کا طریقہ بتادیتے، پھر بھی ہم کو اس کا علم ہوجاتا اس اعتراض کے متعدد جوابات ہیں:
(1) اس طرح ہمیں مسئلہ کا علم تو ہوجاتا لیکن سجدہ سہو ادا کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کا ہمیں اجر و ثواب نہ ملتا اور ہمیں سجدہ سہو کی ادائیگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور اتباع نصیب نہ ہوتی۔
(۲) قرآن مجید میں ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب : ۲۱) تحقیق یہ ہے کہ رسول اللہ میں تمہارے لیے عمدہ نمونہ ہے۔ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شرعی عمل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین عملی نمونہ ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ نماز میں سہو ہونے کی وجہ سے نماز کی اصلاح کے لیے بھی آپ کی زندگی میں عملی نمونہ ہوتا۔
نیز حدیث میں ہے:
امام مالک بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں ضرور بھولتا ہوں یا بھلا دیا جاتا ہوں تاکہ میں کسی عمل کو سنت بنادوں۔ (موطا امام مالک۔ کتاب السہو ۔ حدیث : ۲۔ ج ا ص ۱۰۸ دار المعرفہ بیروت )
(۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نمازوں میں سہو ہوا تو یہ معلوم ہوگیا کہ اتنے عظیم کمالات کے باوجود آپ بندہ اور بشر ہیں، خدا نہیں ہیں تاکہ آپ کے عظیم کمالات کو دیکھ کر آپ کے متعلق کوئی الوہیت کا عقیدہ نہ رکھ لے جیسے حضرت عیسی علیہ السلام میں علم اور قدرت کے چند کمالات دیکھ کر ان کے بعض ماننے والوں نے ان کو خدا یا خدا کا بیٹا کہہ دیا اور آپ کے کمالات تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں زیادہ تھے۔
(۴) سہو کی حقیقت یہ ہے کہ ایک چیز سے توجہ ہٹ کر دوسری چیز کی طرف مبذول ہوجائے جیسے نماز میں ہماری توجہ نماز کے افعال سے ہٹ کر دنیاوی کاموں کی طرف لگ جاتی ہے اور ہم کو پتا نہیں چلتا کہ ہم نے کتنی رکعت پڑھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نماز کے افعال کی طرف متوجہ رہتے تھے لیکن کبھی آپ کی توجہ نماز کے افعال سے ہٹ کر حسن الوہیت کی تجلیات کی طرف منعطف ہوجاتی تھی اور آپ تجلیات ذات اور مطالعہ صفات میں اس طرح منہمک اور مستغرق ہوجاتے کہ نماز کی رکعات کی طرف آپ کی توجہ نہ رہتی اور آپ کو سہو ہوجاتا اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں ہمارا سہو دنیا میں ڈوب جانا ہے اور آپ کا سہو مولا میں کھوجانا ہے ہمارا سہو نقص ہے اور آپ کا سہو عین کمال ہے۔
ان احادیث میں یہ تصریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے اور اس کے بعد نماز کا سلام پھیرا اور یہی احناف کا مذہب ہے۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۱۸۹ – ج ۲ ص 149 پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی، لیکن اس باب میں مذکور دیگر سجدہ ہائے سہو کی شرح کی گئی ہے اور ان کی شرح کے عنوان درج ذیل ہیں :
(1)سجدہ سہو میں مذاہب ائمہ اور ترجیح
(۲) مذہب احناف
(۳) شک کی صورت میں نماز کی ادائیگی
(۴) خصائص مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
(۵)بشریت
(۶) مثلیت
(۷) آپ کا نسیان
(۸) پانچ رکعات کی تصحیح ۔