کتاب الصلوۃ باب 89 حدیث نمبر 485
٤٨٥ – وأن عبدالله بن عُمَرَ حَلَقَهُ أَنَّ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى حَيْثُ الْمَسْجِدُ الصَّغِيرُ الَّذِي دُونَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِشَرَفِ الرَّوْحَاءِ ، وَقَدكَانَ عَبْدُاللهِ يَعْلَمُ الْمَكَانَ الَّذِى كَانَ صَلَّى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ثَمَّ عَنْ يَمِينك حينَ تَقُومُ فِي الْمَسْجِدِ تُصَلَّى، وَذَلِكَ الْمَسْجِد عَلَى حَاقَةِ الطَّرِيقِ الْيُمْنَى، وَأَنْتَ ذَاهِبٌ إِلَى مَكَّة،َ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ الْأَكْبَرِ رَميّة بحجرٍ اَوْ نَحْو ذلك۔
اور حضرت عبد اللہ بن عمر نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ نماز پڑھی جہاں اب شرف الروحاء والی مسجد کے قریب ایک چھوٹی سی مسجد ہے اور حضرت عبداللہ بن عمر اس جگہ کی علامت بتاتے تھے، جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی وہ کہتے تھے کہ یہاں تمہاری دئیں جانب جب تم مسجد میں ( قبلہ کی طرف) نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے ہو جب تم مدینہ سے مکہ جاؤ تو یہ چھوٹی مسجد، راستے کے دائیں جانب پڑتی ہے، اس کے اور بڑی مسجد کے درمیان پھر پھینکنے کی مقدار یا اسی کے قریب قریب فاصلہ ہے۔
حيث‘اور ” جنب“ کا معنی شرف الروحاء کا محل وقوع يُعلم اور حافة الطريق “ کا معنی
اس حدیث میں ” حيث المسجد الصغير ” ہے اس کا معنی ہے: جہاں چھوٹی مسجد ہے ایک روایت میں جنب المسجد الصغير ” ہے یعنی چھوٹی مسجد کے پہلو میں اور اس میں شرف الروحاء کا لفظ ہے یہ ایک بستی ہے جو مدینہ منورہ سے دو راتوں کی مسافت پر ہے اور جو شخص مکہ کی طرف جارہا ہو اس کے لیے یہاں آخری مسجد ہے اور مسجد اوسط اس وادی میں ہے جو اب وادی بنو سالم کے نام سے معروف ہے اور اس میں یعلم کا لفظ ہے یہ علامت سے یا علم سے ماخوذ ہے یعنی حضرت عبداللہ بن عمر اس کی علامت بتاتے تھے یا اس کی خبر دیتے تھے اور اس میں حافة الطریق” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: راستے کی جانب۔