اقسامِ حدیث:

 کثرت و قلتِ طرق کے اعتبار سے خبر کی اقسام:

  • متواتر:

  • وہ حدیث جس کو سند کے ہر طبقہ میں راویوں کی اتنی بڑی تعداد روایت کرے جن کا جھوٹ پر متفق ہونا عادۃً محال ہو اور سند کی انتہاء امر حسی پر ہو(نزهة النظر فى توضيح نخبة الفكر فى مصطلح أهل الأثر، ص 24، مكتبة المدينه كراچى)

 مشہور:

وہ حدیث ہے جو دو سے زائد طرق سے مروی ہو اور حدِ تواتر سے کم ہو۔ (تدريب الراوى، ج2، ص126، دار طيبه)

 (3) عزیز:

وہ حدیث ہے جسے ہر طبقہ میں کم از کم دو راوی روایت کریں۔(تدريب الراوى، ج2، ص236، دار طيبه)

(4) غریب:

وہ حدیث جس کی سند کے کسی بھی طبقہ میں ایک راوی رہ جائے۔ (نزهة النظر فى توضيح نخبة الفكر فى مصطلح أهل الأثر، ص50، مكتبة المدينه كراچى)

 غرابت سند کے اعتبار سے خبر غریب کی اقسام:

(1) فرد مطلق:

وہ حدیثِ غریب جس کی اصلِ سند (یعنی صحابی والی طرف) میں غرابت ہو۔

(2) فرد نسبی:

وہ حدیثِ غریب جس کے درمیانِ سند میں غرابت ہو۔(نزهة النظر فى توضيح نخبة الفكر فى مصطلح أهل الأثر، ص 55، مكتبة المدينه كراچى)

 صفاتِ راوی کے اعتبار سے خبر کی اقسام:  

(1) صحیح لذاتہ:

وہ حدیث جس کی سند متصل ہو، تمام راوی عادل، ضابط ہوں اور اس حدیث میں علتِ قادحہ و شذوذ نہ ہو۔

(یعنی حدیثِ صحیح میں پانچ چیزیں ملحوظ ہیں:

 (۱) اتصالِ سند      (۲) عدالتِ رُواة      (۳) ضبطِ رُواة

(۴) عدمِ شذوذ      (۵) عدمِ علت۔)

 (2) صحیح لغیرہ:

وہ حدیث جس کی سند متصل ہو، تمام راوی عادل ہوں اور اس حدیث میں علتِ قادحہ و شذوذ نہ ہو لیکن ضبطِ روایت میں کچھ کمی ہو اور تعددِ طرق سے یہ کمی پوری ہوجائے۔

(3) حسن لذاتہ:

وہ حدیث جس کی سند متصل ہو، تمام راوی عادل ہوں اور اس حدیث میں علتِ قادحہ و شذوذ نہ ہو لیکن ضبطِ روایت میں کچھ کمی ہو۔

 (4) حسن لغیرہ:

وہ حدیثِ ضعیف جس کا ضعف تعددِ طرق سے ختم ہو جائے۔ (نزهة النظر في توضیح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر، ص، 58 مكتبة المدينه کراچی * المقدمة في اصول الحديث، ص، 30 مكتبة المدينه کراچی)

(5) حدیثِ ضعیف:

وہ حدیث ہے جس میں حدیث کو قبول کرنے کی صفات نہ پائی جائیں۔ (النكت على كتاب ابن الصلاح، ج1، ص، 77 عمارة البحث العلمى بالجامعة الاسلاميه، المدينة المنورة)

 حدیثِ ضعیف وہ ہے جس کے راویوں میں صحیح اور حسن کی تمام یا بعض شرائط مفقود ہوں اور یہ کمی پوری نہ ہو۔

 نوٹ: حدیثِ ضعیف پر تفصیل کلام آگے آرہا ہے۔

  حدیثِ صحیح کے مراتب:

حافظ ابن الصلاح حدیثِ صحیح کے مراتب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 * پہلا درجہ: جو حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں ہو۔

* دوسرا درجہ: جو حدیث مسند جو صرف صحیح بخاری میں ہو، صحیح مسلم میں نہ ہو۔

* تیسرا درجہ: جو صرف صحیح مسلم میں ہو۔

* چوتھا درجہ: جو امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر ہو مگر انہوں نے روایت نہ کیا ہو۔

* پانچواں درجہ: جو حدیث صرف امام بخاری کی شرط پر ہو مگر انہوں نے اسے روایت نہ کیا ہو۔

* چھٹا درجہ: جو حدیث صرف امام مسلم کی شرط پر ہو مگر انہوں نے اسے روایت نہ کیا ہو۔

* ساتواں درجہ: جو حدیث امام بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح نہ ہو مگر دوسرے ائمہ حدیث کے نزدیک صحیح ہو۔(مقدمه ابن الصلاح في علوم الحديث، النوع الاول من انواع علوم الحديث، معرفة الصحيح من الحديث، ج 1، ص، 27 دار الفكر، بيروت)

  دو راویوں کے درمیان الفاظِ حدیث میں اختلاف کی وجہ سے خبر کی اقسام:

 شاذ و محفوظ:

اگر ثقہ راوی اپنے سے اوثق کی مخالفت کرے تو ثقہ کی روایت کو شاذ جبکہ اوثق کی روایت کو محفوظ کہیں گے۔

معروف و منکر:

جب ضعیف راوی اپنے سے ارجح کی مخالفت کرے تو ضعیف کی روایت کو منکر جبکہ ارجح کی روایت کو معروف کہیں گے۔ (ألفية السيوطي في علم الحديث، ص 22، المكتبة العلمية، بيروت)

  دو راویوں کے درمیان الفاظِ حدیث میں موافقت کے اعتبار سے فردِ نسبی کی اقسام:

متابِع، متابَع شاہد:

وہ حدیث جو فردِ حدیث کے ساتھ موافقت کرے متابِع کہلاتی ہے جبکہ جسکی موافقت کی جائے وہ متابَع کہلاتی ہے۔ متابعت کے لیے شرط ہے کہ دونوں حدیثیں ایک ہی صحابی کی مروی ہوں اور اگر صحابی مختلف ہو تو موافقت کرنے والی حدیث کو شاہد کہیں گے۔ (نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر ، ص، ۷۳،۷۴،۷۵ مكتبة المدينه کراچی، المقدمة في اصول الحديث ، ص،26,27مكتبة المدينه کراچی)

  خبرِ مقبول کے معارضہ سے سلامت ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے اس کی اقسام:

(1) محکم:

وہ حدیثِ مقبول جو دوسری حدیث کے معارضہ سے محفوظ ہو۔

(2) مختلف الحديث:

وہ حدیثِ مقبول جس کی معارض کوئی حدیث ہو اور ان دونوں کو جمع کرنا ممکن ہو۔

(3) ناسخ، منسوخ:

اگر دو حدیثیں متعارض ہوں اور یہ معلوم ہوجائے کہ فلاں حدیث مؤخر ہے اور فلاں مقدم تو مؤخر ناسخ اور مقدم کو منسوخ کہیں گے۔ (نزهة النظر فى توضيح نخبة الفكر فى مصطلح أهل الأثر، ص،76,77مكتبة المدينه کراچی)

  سند میں سقوطِ راوی کے اعتبار سے خبرِ مردود کی اقسام:

(1) معلّق:

وہ حدیث ہے جسکی ابتداء سند سے ایک یا ایک سے زائد راویوں کو حذف کر دیا جائے۔

(2) مرسل:

وہ حدیث ہے جسکی انتہاء سند سے ایک یا ایک سے زائد راویوں کو حذف کر دیا جائے۔

(3) معضل:

معضل ایسی حدیث کو کہتے ہیں جس کے دو یا دو سے زائد راوی ساقط ہو جائیں۔

(4) منقطع:

منقطع ایسی حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند کسی بھی وجہ سے منقطع ہو۔ (الديباج المذهب في مصطلح الحديث، ص،29,37 مطبعة مصطفى البابي الحلبي وأولاده ، مصر)

مدلس:

 تدلیس کی اقسام:

تدلیس کی دو اقسام ہیں:

(1) تدلیس اسناد (2) تدلیس شیوخ

تدلیس اسناد:

کوئی راوی کسی شیخ سے ایسی حدیث روایت کرے جو اس نے اس شیخ سے نہ سنی ہو اور اس طرح روایت کرے کہ اس بات کا وہم ہو کہ اس نے یہ روایت اس شیخ سے سنی ہے۔

 تدلیس شیوخ:

کوئی راوی اپنے شیخ، جس سے وہ حدیث روایت کررہا ہے، شیخ کا نام، کنیت، نسب وغیرہ غیر معروف طریقے سے بیان کرے تاکہ وہ پہچانا نہ جائے۔(التقریب والتیسیر، ج 1، ص 93، دار الکتاب العربی، بیروت)

  راوی میں طعن کے اعتبار سے خبر مردود کی اقسام:

 (1) متروک:

وہ حدیث جس کی سند میں کوئی ایسا راوی آ جائے جس پر کذب کی تہمت ہو۔

(2) منکر:

وہ حدیث جس کا راوی فحش غلطی کرنے یا کثرت غفلت یا فسق کے ساتھ مطعون ہو۔

(3) معلل:

وہ حدیث جس کے راوی میں طعن اس کے وہم کی وجہ سے ہو، یعنی راوی وہم کے سبب ایک حدیث کو دوسری میں داخل کر دے، یا مرفوع کو موقوف یا موقوف کو مرفوع قرار دے دے۔ (نزهة النظر فی توضیح نخبة الفکر فی مصطلح أهل الأثر، ص 92، 91 مكتبة المدينه کراچی)

 (4) موضوع:

وہ گھڑی ہوئی جھوٹی بات جس کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا گیا ہو۔ (فتح المغيث للسخاوي، ج 1، ص 310، مكتبة السنة، مصر)

 راوی کی طرف سے حدیث میں اضافہ یا تغیر وتبدل کرنے کے اعتبار سے حدیث کی اقسام:

 (1) مدرج: اس کی دو اقسام ہیں

  مدرج الاسناد

مدرج المتن

مدرج الاسناد:

وہ حدیث ہے جس کی سند کے سیاق کو بدل دیا جائے۔

مدرج المتن:

جس حدیث کے متن میں ایسا کلام بلا فصل داخل کردیا جائے جو حدیث کا حصہ نہ ہو مدرج المتن کہلاتی ہے۔ یہ اضافہ کبھی متن کی ابتداء میں ہوتا ہے کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں لیکن اکثر آخر میں ہی ہوتا ہے۔(نزهة النظر فی توضیح نخبة الفكر فی مصطلح أهل الأثر،ص93,94، مکتبة المدینه کراچی)

(2) مقلوب:

مقلوب ایسی حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند یا متن میں سے ایک لفظ کو دوسرے لفظ سے تبدیل کر دیا گیا ہو۔(نزهة النظر فی توضیح نخبة الفكر فی مصطلح أهل الأثر،ص94، مکتبة المدینه کراچی)

مقلوب حدیث کی دو بڑی اقسام ہیں:

مقلوب السند اور مقلوب المتن۔

مقلوب السند:

اس حدیث کو کہتے ہیں جس کے راویوں کے اسماء میں تقديم و تاخير کے ذریعے تبدیلی کر دی گئی ہو۔

مقلوب المتن:

اس حدیث کو کہتے ہیں جس کے متن میں تقديم و تاخير کے ذریعے کوئی تبدیلی کی گئی ہو۔(نزهة النظر فی توضیح نخبة الفكر فی مصطلح أهل الأثر،ص94,95، مکتبة المدینه کراچی)

(3) مزید فی متصل الاسانید:

اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی متصل سند میں ایسے راوی کا اضافہ ہو جسے اس کے غیر نے ذکر نہ کیا ہو۔(الباعث الحثیث فی اختصار علوم الحدیث،ص176،دار الكتب العلمية،بيروت – لبنان)

(4) مضطرب:

اس حدیث کو کہا جاتا ہے جسے مختلف صورتوں کے ساتھ روایت کیا گیا ہو۔ اس حال میں کہ تمام روایات قوت ومرتبہ میں برابر ہوں کہ ترجیح ناممکن ہو۔(تدریب الراوی ،ج1،ص803، دارطیبه)

 (5) مصحف و محرف:

وہ حدیث جس کے کسی کلمے کو سند یا متن میں لفظاً یا معناً تبدیل کر دیا گیا ہو۔(التذكرة فی علوم الحدیث،ص19، دارعَمّار، عمّان)

  مدار و مصدر کے اعتبار سے حدیث کی اقسام:

(1) حدیث قدسی:

وہ حدیث جو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے اللہ عزوجل کی طرف نسبت کرتے ہوئے منقول ہو۔(تیسیر مصطلح الحدیث،ص158، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع)

(2) حدیث مرفوع:

وہ حدیث جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف کی گئی ہو۔

(3) حدیث موقوف:

جس کا سلسلہ سند صحابی پر پہنچ کر رک جائے۔

(4) حدیثِ مقطوع:

وہ حدیث جس کا سلسلہ سند تابعی پر پہنچ کر ختم ہو جائے ۔ (المقدمة في اصول الحديث، ص، 3، مکتبة المدينه، کراچی)