کتاب الصلوۃ باب 90 حدیث نمبر 494
٤٩٤ – حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْن نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِع عن ابن عمر أنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خرج يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَوبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْه فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذلِكَ فِی السَّفَرِ فَمِنْ ثُمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاء۔
لإطراف الحدیث : ۴۹۸-۹۷۲–973
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسحاق نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی از نافع از حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن باہر نکلتے تو آپ نیزہ لانے کا حکم دیتے جو آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا، پھر آپ اس کی طرف نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے اور آپ اس طرح سفر میں کرتے تھے، اس وجہ سے حکام نیزہ رکھتے ہیں۔
(صحیح مسلم :501، الرقم المسلسل : ۱۰۹۵ سنن ابوداؤد : 687، سنن نسائی: ۷۴۶، السنن الکبری للنسائی: 822، سنن ابن ماجہ :1305، مسند احمد ج ۲ ص ۱۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۴۶۱۴- ج ۸ ص ۲۳۰ مؤسسة الرسالة بیروت، جامع المسانيد لابن الجوزی: 3473، مكتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ)
حدیث مذکور کے رجال
(۱) اسحاق ،ابوعلی جیانی نے کہا: اسحاق کے ساتھ کسی نسبت کا ذکر نہیں ہے علامہ کرمانی نے کہا: بعض نسخوں میں اسحاق بن منصور لکھا ہے ابونعیم وغیرہ نے بھی اسی پر جزم کیا ہے
(۲) عبداللہ بن نمیر ،ان کا تعارف ہوچکا ہے
(۳) عبداللہ بن عاصم بن عمر بن الخطاب ابوعثمان القرشی العدوی المدنی یہ ۱۹۴ھ میں فوت ہوگئے تھے
(۴) نافع ،حضرت ابن عمر کے آزاد کردہ غلام
(۵) حضرت عبداللہ بن عمر بن الخطاب – (عمدۃ القاری ج 4 ص ۴۰۵)
حدیث مذکور کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت کی وجوہ
بہ ظاہر اس حدیث میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے، جو اس پر دلالت کرے کہ امام کا سترہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کا سترہ ہے، تاہم علامہ عینی نے اس حدیث کی عنوان کے ساتھ مطابقت کی تین وجوہ بیان کی ہیں:
(1) مقتدیوں میں سے کسی ایک کے سترہ کو بھی نقل نہیں کیا گیا اور اگر مقتدیوں میں سے کسی ایک کا بھی سترہ ہوتا تو اس کو ضرور نقل کیا جاتا کیونکہ احکام شرعیہ کو نقل کرنے کے اسباب بہت کثرت کے ساتھ میسر تھے، پس اس میں یہ دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سترہ آپ کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کا بھی سترہ ہے۔
(۲) اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نیزہ کی طرف نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ آپ کے پیچھے تھے۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ لوگ اس سترہ میں داخل تھے کیونکہ وہ تمام افعال میں امام کے تابع تھے۔
(۳) اس حدیث میں مذکور ہے کہ لوگ آپ کے پیچھے تھے۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ لوگ سترہ کے بھی پیچھے تھے کیونکہ اگر ان کا کوئی الگ سترہ ہوتا تو پھر وہ آپ کے پیچھے نہ ہوتے بلکہ اس سترہ کے پیچھے ہوتے ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۴۰۵)
سترہ کے متعلق دیگر احادیث اور سترہ کی تحقیق
موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے سامنے پالان کے پچھلے حصہ کی لکڑی کی طرح کی جتنی چیز رکھ لے، پھر نماز پڑھے تو پھر اس کی پرواہ نہ کرے کہ اس کے پیچھے سے کون گزر رہا ہے۔( صحیح مسلم : 499 الرقم المسلسل : ۱۰۹۱ سنن ابوداؤد : ۶۸۵ سنن ترمذی : 335 سنن ابن ماجه: 940)
موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے تھے اور جانور ہمارے آگے سے گزرتے تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اگر تم میں سے کسی کے سامنے پالان کے پچھلے حصہ کی لکڑی کی طرح کی کوئی چیز ہو تو پھر اس کے آگے کسی کے گزرنے سے اسے کوئی ضرر نہیں ہوگا۔صحیح مسلم : ۵۰۱ – الرقم المسلسل : 1092 سنن ابوداؤد : ۶۸۵ سنن ترمذی: ۳۳۵، سنن ابن ماجه: ۰ ۹۴)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے چہرے کے سامنے یا کوئی چیز رکھ لے، اگر اس کو کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی کو نصب کرے، اگر وہ بھی نہ ملے تو ایک لکیر کھینچ دے پھر اگر اس کے سامنے سے کوئی گزرا تو اسے کوئی ضرر نہیں ہوگا۔( سنن ابوداؤد : ۶۸۹ ، سنن ابن ماجہ : ۹۴۳ مسند احمد ج ۲ ص ۲۶۶ – ۲۵۵ – ۲۴۹ مصنف عبد الرزاق ج ۲ ص 14 مکتب اسلامی بیروت )
علامہ ابوالفضل عیاض بن موسیٰ مالکی متوف۵۴۴ھ ان احادیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
پالان کے پچھلے حصہ کی مقدار اور جو اس کے قریب ہو، یہ سترہ کی لمبائی کی مقدار ہے اور نماز کی سنت ہے، اس کی کم از کم مقدار ایک ذراع ( ڈیڑھ فٹ) ہے اور اس کی موٹائی نیزہ جتنی ہونی چاہیئے یہ امام مالک کے نزدیک ہے ہمارے نزدیک سترہ نماز کے فضائل
اور اس کے مستحبات سے ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ سترہ کے پار انسان کی نظر نہ جائے اور سترہ پر جمی رہے اور اس کے خیالات ادھر اُدھر منتشر نہ ہوں کیونکہ جب وہ دوسری چیزوں کو دیکھے گا تو ان کی طرف توجہ ہوگی اور اس کی جو مقدار مقرر کی گئی ہے؛ اس کو منضبط کرنے کے لیے ہے اور یہ مقدار کم از کم ہے اور لکیر کھینچنے کا جو قول ہے وہ باطل ہے، ہر چند کہ اس کے متعلق حدیث وارد ہے اور امام احمد بن حنبل نے اس پر عمل کیا ہے لیکن وہ حدیث ضعیف ہے۔ (اکمال لمعلم بفوائد مسلم ج ۲ ص 214 دار الوفا 1419ھ )
امام کا سترہ مقتدیوں کا بھی سترہ ہے، اس کے متعلق صریح احادیث اور آثار
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام کا سترہ اس کے پیچھے والوں کا بھی سترہ ہے۔المعجم الاوسط: ۴۶۸ مکتبة المعارف ریاض 1405ھ علامہ الہیثمی نے کہا: اس کی سند کا ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ضعیف ہے مجمع الزوائد ج ۲ ص ۶۲ )
عون بندابی جحیفہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت بلال رضی اللہ عنہ نیزہ لے کر نکلے اور اس کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ریتلی زمین میں گاڑ دیا، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نیزہ کی طرف ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی اس کے پار سے کتا گدھا اور عورت گزر رہی تھی۔ (سنن ترمذی : ۱۹۷ مصنف عبدالرزاق : ۲۳۱۷ – ج ۲ ص ۹ دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ مسند احم ج 4 ص ۳۰۸)
اسود بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفوں میں تھا، پس حضرت عمر نے نماز پڑھائی اور نیزہ ان کے سامنے تھا اور مسافر عورتیں ان کے سامنے سے گزر رہی تھیں اور اس سے ان کی نماز منقطع نہیں ہوئی۔ (مصنف عبد الرزاق : ۲۳۱۸)
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں کہ اسود نے کہا کہ بسا اوقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ نیزہ گاڑ دیتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے اور مسافر عورتیں ان کے سامنے سے گزر رہی ہوتیں۔ (مصنف عبد الرزاق : ۲۳۱۹)
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: امام کا سترہ اس کے پیچھے والوں کا بھی سترہ ہے امام عبد الرزاق نے کہا: میں اسی پر عمل کرتا ہوں اور یہی وہ چیز ہے جس پر تمام لوگوں کا عمل ہے۔ (مصنف عبدالرزاق: ۲۳۲۰)
سترہ کے فوائد اور سترہ میں مذاہب فقہاء
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
صحیح البخاری: ۴۹۴ میں مذکور ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن باہر نکلتے تو آپ نیزہ لانے کا حکم دیتے، جو آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا، پھر آپ اس کی طرف نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے اور آپ اسی طرح سفر میں کرتے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر میں دشمن سے محفوظ رہنے کے لیے اور احتیاط کی بناء پر اپنے ساتھ نیزہ رکھنا چاہیے اور اس میں خدام کو ساتھ رکھنے اور ان سے خدمت لینے کا جواز ہے اور اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ امام کا سترہ اس کے پیچھے نمازیوں کا بھی سترہ ہے علامہ ابن بطال نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ اس پر اجماع ہے، انہوں نے کہا کہ اس پر اجماع ہے کہ ستر و سنت اور مستحب ہے علامہ ابھری نے کہا: مقتدی کا سترہ اس کے امام کا سترہ ہے لہذا اس کے آگے کسی کے گزرنے سے اسے ضرر نہیں ہوگا، کیونکہ مقتدی کی نماز امام کی نماز کے ساتھ متعلق ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ جہاں انسان لوگوں کے گزرنے سے مامون نہ ہو، وہاں پر سترہ رکھنا مشروع اور جائز ہے، اور جہاں یہ اطمینان ہو کہ وہاں سامنے سے لوگ نہیں گزریں گے، وہاں سترہ کے متعلق امام مالک کے دو قول ہیں اور امام شافعی کے نزدیک احادیث کے عموم کی وجہ سے سترہ مطلقا مشروع ہے اور اس لیے بھی کہ سترہ سے نظر کی حفاظت ہوتی ہے۔
اگر انسان کھلی فضاء میں ہو تو آیا بغیر سترہ کے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ ابن القاسم مالکی نے حضرت ابن عباس کی حدیث کی وجہ سے اس کی اجازت دی ہے اور ابن ماجشون مالکی نے کہا ہے کہ سترہ پھر بھی ضروری ہے۔
عروہ، عطاء، سالم، قاسم، شعمی اور حسن بصری نے کہا ہے کہ لوگ کھلے میدان میں بغیر سترہ کے نماز پڑھتے تھے۔( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۷۵)
سترہ کی مقدار اور کن چیزوں کو سترہ بنانا جائز ہے اور کن چیزوں کو سترہ بنانا ممنوع ہے؟
علامہ عینی فرماتے ہیں: امام محمد نے کہا: جو شخص کھلے میدان میں نماز پڑھتا ہے، اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ اس کے سامنے لاٹھی کی طرح کی کوئی چیز ہو، اگر کوئی چیز نہ ملے تو وہ درخت وغیرہ کو سترہ بنالے۔
اگرتم یہ کہو کہ سترہ کے لیے جس نیزہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کی طول میں کتنی حد ہے؟ تو میں کہوں گا کہ ہمارے اصحاب نے اس کی حد ایک ذراع ( ڈیڑھ فٹ ) یا اس سے زیادہ مقرر کی ہے اور اس میں انہوں نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے سامنے پالان کے پچھلے حصہ کی مثل رکھ لو، پھر تمہارے سامنے سے کسی کے گزرنے سے تمہیں ضرر نہیں ہوگا۔ ( صحیح مسلم : ۵۰۱ – الرقم المسلسل : ۱۰۹۲)
شیخ الاسلام نے اپنی مبسوط میں حضرت ابوجحیفہ کی حدیث (۴۹۵) ذکر کرکے یہ بیان کیا کہ نیزہ ایک ذراع (ڈیڑھ فٹ ) لمبا اور ایک انگلی جتنا موٹا ہونا چاہیے، اس کی تائید حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس قول سے ہوتی ہے کہ سترہ کے لیے تیر کافی ہے اور الذخیرہ میں مذکور ہے کہ تیر کا طول ایک ذراع ہے اور اس کا عرض ایک انگلی جتنا ہے اگر سترہ کا طول ایک ذراع سے کم ہو تو اس میں ہمارے مشائخ کا اختلاف ہے شیخ الاسلام نے کہا: اگر ترکش کو سامنے رکھا جائے اور وہ ایک ذراع بلند ہوتو وہ بلا اختلاف سترہ ہے اور اگر اس سے کم ہو تو اس میں اختلاف ہے۔
غریب الروایہ میں مذکور ہے: بڑا دریا اور راستہ سترہ نہیں ہے مالکیہ نے کہا ہے: اونچی ٹوپی اور تکیہ کو سترہ بنانا جائز ہے اور چابک کو سترہ بنانا جائز نہیں ہے آدمی کی پیٹھ کو سترہ بنانا جائز ہے اور چہرہ کو سترہ بنانا ممنوع ہے اور کروٹ میں اختلاف ہے عورت کو سترہ بنانا ممنوع ہے اور محارم میں اختلاف ہے، سوئے ہوئے کو، مجنون کو اور کافر کو سترہ نہ بنایا جائے۔(عمدة القاری ج 4 ص 407 دار الکتب العلمیہ بیروت 1421 )
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۰۱۷۔ ج ا ص ۱۳۱۴ پر مذکور ہے اس کی شرح کا عنوان حسب ذیل ہے:
سترہ کی تعریف اور اس کا حکم ۔