وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِۙ-قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ (47)وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ(48)

ترجمۂ کنز الایمان

اور جب ان کی آنکھیں دوزخیوں کی طرف پھریں گی کہیں گے اے ہمارے رب ہمیں ظالموں کے ساتھ نہ کر ۔ اور اعراف والے کچھ مردوں کو پکاریں گے جنہیں ان کی پیشانی سے پہچانتے ہیں کہیں گے تمہیں کیا کام آیا تمہارا جتھا اور وہ جو تم غرور کرتے تھے۔

تفسیر صراط الجنان

{ وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا:اور اعراف والے کچھ مردوں کو پکاریں گے۔} جب اعراف والوں کی آنکھیں جہنمیوں کی طرف پھیر دی جائیں گی اس وقت کفار جو کہ دنیا میں تو سردار تھے اور قیامت میں جہنم کے باسی ،ان کی پیشانیوں پر جہنمی ہونے کی علامات موجود ہوں گی جس سے اعراف والے انہیں پہچانتے ہوئے پکاریں گے ’’تمہاری جماعت اور جو تم تکبر کرتے تھے وہ تمہیں کام نہ آیا۔