کتاب مواقیت الصلوۃ باب 7 حدیث نمبر 529
۷ – بَابُ تَضْبِيعِ الصَّلوةِ عَنْ وَقْتِهَا
نماز کو اس کے وقت سے ضائع کرنا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نمازوں کو ان کے اصل اوقات یا مستحب اوقات سے مؤخر کر کے پڑھنا ان نمازوں کو ضائع کرتا ہے۔
٥٢٩ – حَدَّثَنَا مُوسَى بَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ ، عَنْ غَيْلَانَ عَنْ أَنَسِ قَالَ مَا أَعْرِفُ شَيْئًا ممَّا كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قبلَ الصَّلوةُ؟ قَالَ اللَيْسَ ضَيَّعْتُمْ مَا ضَيَّعْتُمْ فِيهَا؟
جامع المسانيد لابن الجوزی: ۵۷۲ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں مہدی نے حدیث بیان کی از غیلان از حضرت انس رضی اللہ عنہ انہوں نے فرمایا: میں ان چیزوں میں سے اب کوئی چیز نہیں پہچانتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھیں، ان سے کہا گیا : نماز ؟ حضرت انس نے کہا: کیا نماز کو بھی تم لوگوں نے ضائع نہیں کردیا جو تم نے ضائع کر دیا ہے۔
ظالم حکمرانوں کا نماز کو تاخیر سے پڑھنا
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ اس وقت فرمایا تھا، جب انہیں یہ علم ہوا کہ حجاج اور ولید بن عبدالملک و غیر هما نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرکے پڑھتے ہیں اور اس سلسلہ میں آثار بہت مشہور ہیں، بعض ازاں یہ ہیں:
امام عبدالرزاق نے عطا سے روایت کیا ہے کہ ایک دن ولید نے جمعہ کو مؤخر کردیا، حتی کہ شام ہوگئی، پس میں آیا اور میں نے بیٹھنے سے پہلے ظہر پڑھ لی پھر میں نے عصر پڑھ لی میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ خطبہ پڑھ رہا تھا۔(مصنف عبد الرزاق :۳۸۰۶ دار الكتب العلمیة بیروت)
عطا نے اپنی جان کے خوف سے ایسا کیا تھا۔
ابونعیم شیخ بخاری نے کتاب الصلوۃ میں ابوبکر بن عتبہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت ابو جحیفہ کے پہلو میں نماز پڑھی، پھر حجاج نماز پڑھانے کے لیے چل پڑا تو حضرت ابوجحیفہ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ حجاج کے ساتھ نماز پڑھتے تھے جب اس نے نماز میں تاخیر کی تو انہوں نے اس کے ساتھ نماز پڑھنا چھوڑ دیا ۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص ۲۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ)
عامر بن شقیق بیان کرتے ہیں کہ شقیق ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم جمعہ کی نماز اپنے گھروں میں پڑھایا کریں کیونکہ حجاج نماز کو مؤخر کرتا تھا۔ (مصنف عبدالرزاق : ۳۸۱۰ دار الکتب العلمیة بیروت)
[…] حدیث کی شرح کے لیے گزشتہ حدیث:۵۲۹ کا مطالعہ […]